ہمیں جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔۔۔!

رپورٹ آ چکی اور اس پر اندازے اور تبصرے بھی اپنے عروج پر ہیں۔ عدالتی فیصلہ بھی آ ہی جائے گا اور پٹاری کا سانپ جیسا بھی ہے باہر آئے گا تو سبھی دیکھ لیں گے۔ اس سارے تناظر میں کچھ محتاط رویوں کو اپنائے جانے کی اشد ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ ہمارے ملک کا کمزور جمہوری نظام اس سارے کشیدہ ماحول میں خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ عدالتی فیصلہ اگر بالفرض میاں نواز شریف صاحب کے خلاف آتا ہے تو بھی ہمیں احتیاط برتی ہو گی۔ حکومتی جماعت کو سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کشیدگی اور تناؤ کی جانب جانے کی بجائے جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں ، کو معاملات کی حساسیت کا اندازہ کرتے ہوئے جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ حکمرانی عوام کا ہی حق ہے جو وہ اپنے ووٹ کی طاقت کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں کسی بھی ایسے عمل جو کہ جمہوریت اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچائے اس کا نا تو حصہ بننا چاہیے اور نہ ہی کسی بھی طور اس کی حمایت کرنی چاہیے بلکہ جتنا بھی ممکن ہو سکے جمہوری عمل کے تسلسل پر ہی زور دینا چاہیے۔
ہم پاکستانی شہریوں کو آئین اور قانون کی بالادستی کو سپورٹ کرنا چاہیے اور احتسابی عمل کی بھی حمایت کرنی چاہیے لیکن صرف اس صورت میں جب یہ عمل ہمارے منتخب نمائندوں کے علاوہ دیگر تمام ریاستی اداروں اور افراد کو بھی جوابدہ بنائے اور اس سے بھی اہم یہ کہ یہ عمل وطن عزیز کے آئین سے کسی طور متصادم نہ ہو۔ اور یہ عمل عوام میں سیاسی اور جمہوری عمل سے نفرت اور دوری پیدا کرنے کے لیے نہ شروع کیا گیا ہو۔ اور یہ عمل ایسے کسی خاص مقصد کی تکمیل کے لیے بھی نہ کیا گیا ہو جو کسی بھی طور پر پاکستان میں عوام کی رائے سے منتخب کردہ حکومتوں کو کمزور کرے اور ان کے اختیارات سے ان کو محروم کرے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کا آئین جس ادارے کو جو اختیار دیتا ہے وہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر ہی کام کرے اور کسی بھی طور اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز نہ کرے۔
ہمیں اپنے ماضی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تمام تعصبات اور نفرتوں سے بالاتر ہو کر اس ملک کی بہتری اور ترقی کو سپورٹ کرنا ہے اور یہ صرف اسی طور ممکن ہے کہ جب اس ملک میں عوام کی حکمرانی ہوگی۔ اور یہ بھی صرف اسی طور ممکن ہے کہ جب اس ملک میں جمہوریت ہوگی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہماری سیاسی وابستگی کوئی بھی ہو لیکن ہمیں ہر حال میں اپنے حق حکمرانی کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ ہمیں جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔

