کیا پاناما کی کہانی ختم ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیجیے! تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آگیا۔ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کیے گئے ساٹھ دنوں میں ہی اپنی رپورٹ مکمل کر کے عدالت میں پیش کر دی ہے لیکن کپتان کے خواب کے برعکس وزیراعظم محمد نواز شریف اب بھی اڈیالہ جیل کی بجائے وزیراعظم ہاؤس میں براجمان ہیں جس کی وجہ سے مجبوراً وہ وزیراعظم ہاؤس منتقل نہیں ہو سکے اورانہیں بنی گالا کے محل پر ہی گزارا کرنا پڑرہا ہے۔ بہر حال جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد ہر کوئی گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنی اپنی پارٹی کو ’’انھے واہ۔ ‘‘ (اردو میں اس کا ترجمہ اندھا دھند کیا جا سکتا ہے لیکن جو مزہ ’’انھے واہ ‘‘ میں ہے وہ اندھا دھند میں نہیں )سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جے آئی ٹی کی دو سو پچاس سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق شریف فیملی کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کو آف شور کمپنیوں نیسکول اور نیلسن کی مالک بھی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شریف فیملی کی 6 آف شور کمپنیوں کو پاکستان میں رقوم بھیجنے کے لئے استعمال کیا گیا لیکن ان رقوم کے بھیجنے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا گیا۔ ایک اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دس جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ کی آخری جلد نمبر دس کو عوام الناس یا فریقین کو جاری نہیں کیا گیا کیونکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کے مطابق یہ مزید تحقیقات کے لئے استعمال ہو گی۔ مزید تحقیقات مطلب؟ یعنی جے آئی ٹی بھی یہ تسلیم کررہی ہے کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہیں اور اگر تحقیقات مکمل نہیں ہیں تو چالان کیسا اور فیصلہ کا ہے کا؟

ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ ساٹھ دن میں دس جلدوں کی تیاری چھ تو کیا ساٹھ بندوں کے بس کا روگ بھی نہیں۔ یہ دس جلدیں کن فرشتوں نے تیار کیں یہ راز فاش ہونے میں شاید اتنا ہی وقت لگے جتنا اصغر خان کیس کا فیصلہ ہونے میں لگا ہے۔ جے آئی ٹی کے مطابق شریف فیملی کے خلاف نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ بہت سے وکلا کی بھی رائے یہی ہے کہ یہ معاملہ ٹرائل کا متقاضی ہے اور ٹرائل جب شروع ہو گا توظاہر ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ جو کہ ایک تفتیشی رپورٹ ہے اس پر جارحانہ بحث ہوگی بالکل اسی طرح جس طرح پولیس کے ایک تھانید ار کی تفتیشی رپورٹ پر ہوتی ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ دفاعی وکیل جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تضادات کے ’’پرخچے ‘‘اڑانے کے لئے پوری تیاری کے ساتھ عدالت میں آئیں گے۔ پھر دبئی کے ان حکام کوبھی طلب کرنے کی بات ہوگی جنہوں نے جے آئی ٹی کو خط جاری کیا۔ کیونکہ یو اے ای کی وزارت انصاف نے 7 میں سے 4 خطو ط کا جواب دینا گوارا نہیں کیا۔

قارئین! آپ کی طرح مجھے بھی یہ معلوم نہیں کہ دبئی کے شہزادے اپنے موقف پر جرح کے لئے پاکستانی عدالت میں پیش ہوتے ہیں یا قطری شہزادے کی طرح وہ بھی عدالتی سمن کو اپنی شان میں گستاخی قرار دیتے ہوئے نخوت سے منہ موڑ لیں گے۔ اس معاملے میں تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ دبئی کے حکام کو پیش کرنا شریف فیملی کی ذمہ داری ہے۔ اب یہ کوئی نہ پوچھے کہ گوادر پورٹ کی زیادہ تکلیف کس ملک کو ہے اور وہ کون سا عربی شہزادہ ہے جس نے فرمایا تھا کہ پاکستان کو قیمت چکانی پڑے گی۔ بہرحال! آئینی ماہرین کے مطابق جے آئی ٹی کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کے خلاف دفاع کا حق دیے بغیر سپریم کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتی اس لئے قواعدوضوابط کے تحت سپریم کورٹ کو کیس نیب کے حوالے کر دینا چاہیے۔

عاصمہ جہانگیر تو یہاں تک کہتی ہیں کہ جے آئی ٹی متنازع رہی ہے اور سپریم کورٹ صرف اس انویسٹی گیشن کی بنیاد پر فیصلہ نہیں سنا سکتی۔ تحقیقات سے چالان تو بن سکتا ہے لیکن پاکستانی عدالتوں میں پیش کیے جانے والے چالان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کا نظارہ ہم روزانہ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ معاملے پر مزید سماعت کے لئے آئندہ سوموار کا دن مقرر کر چکی ہے۔ اس سماعت کے دوران کیا ہوسکتا ہے اس کی سو فیصد منظر کشی تو کوئی منجھا ہوا آئینی ماہرہی کر سکتا ہے لیکن خاکسار ایک ممکنہ خاکہ پیش کرنے کی جسارت کررہا ہے کسی کی طبیعت پر گراں گزرے تو لفافہ صحافی کی پھبتی کسنے کی کھلی چھوٹ ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی رپورٹ کی پابند نہیں۔ گو مجھے یہ ناممکن لگتا ہے لیکن سپریم کورٹ اس رپورٹ کو رد بھی کرسکتی ہے۔ جیسا کہ عمران خان نے ثابت ثابت کا شور مچا کر اپنے کارکنوں کا ذہن بنایا ہوا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ دس جولائی کو نہیں تو آئندہ سوموار کو سپریم کورٹ نوازشریف کو نا اہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دے گی تو ان کے لئے بری خبر یہ ہے کہ ایسا بھی کچھ نہیں ہو رہا اور سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی سفارشات کی روشنی میں پانامہ کیس پر اپنی کارروائی آگے بڑھائے گی۔

معاملہ اگر نیب کوبھیجا جاتا ہے تو وزیراعظم کے سیاسی مخالفین کے لئے یہ بھی کوئی اچھی خبر نہیں کیونکہ حسین نواز اور حسن نواز برطانوی شہری ہیں اور وہ نیب کو لال جھنڈی دکھا سکتے ہیں، رہی بات وزیراعظم کی تو یاد کیجئے ان کے پاس استثنیٰ کا حق محفوظ ہے جسے وہ کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پھر نیب ’’اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے ‘‘ہی گائے گا۔ اگر کوئی صاحب علم یہ سمجھتا ہے کہ سپریم کورٹ اس کی روزانہ سماعت کے بعد چند ہفتوں میں فیصلہ سنا دے گی تو میری دانست میں شاید ایسا ممکن نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک قانونی اور آئینی ماہر دونوں اطراف موجود ہیں اگر الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف پارٹی فنڈنگ کیس تین سال سے آگے نہیں بڑھ سکا توا س کی بھی امید مت کیجئے۔

ویسے بھی مسلم لیگ ن جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کر تے ہوئے عدالت عظمیٰ میں اسے چیلنج کرنے کا اعلان کرچکی ہے اور سپریم کورٹ اس معاملے کو سننے سے انکار کیسے کر سکتی ہے۔ یہ کیس لمبا چلے گا اور کون جانے کہ کب تک چلے گا۔ فرض کیجئے اگر سپریم کورٹ عمران خان کے خواب کے عین مطابق فیصلہ سنا بھی دیتی ہے تو ظاہر ہے مسلم لیگ ن اس کو تسلیم کرنے کی بجائے چیلنج کرے گی۔ عین ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات درستکیے جائیں اور پھر پارلیمانی اور عوامی طاقت کا مظاہر ہ کیا جائے کیونکہ پیپلزپارٹی پہلے دن سے اس معاملے کو عدالت کی بجائے پارلیمنٹ میں لانے کی حامی ہے۔

ایک اور تھیوری جو پیش کی جارہی ہے کہ معاملہ سول اور ملٹری سپرمیسی کا ہے اور مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے اور ڈان لیکس رپورٹ بارے ٹوئٹ واپس لینے پر اصرار نہ کیا جاتا تو نوبت بہ ایں جارسید نہ ہوتی۔ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہر دور میں زیر بحث رہے ہیں اوراگر یہ معاملہ آئندہ انتخابات تک حل نہ ہوا تو مسلم لیگ ن خود کو یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب سمجھے گی کہ اسے سیاسی جنگ کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح ’’ہموارسطح ‘‘ فراہم نہیں کی گئی جیسا کہ 2013کے انتخابات کے بارے میں پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے لئے اب اخلاقی طورپر عہدے پر فائز رہنے کا جواز تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اب اخلاقی سے بڑھ کر قانونی اور اس سے بھی آگے سیاسی ہو چکا ہے اور میری دانست میں اس وقت بھی مسلم لیگ ن سے بہتر سیاسی لڑائی اور کوئی جماعت نہیں لڑ سکتی۔ لیکن! اگریہ سارا تجزیہ رام کہانی بھی ثابت ہوجائے اور تحریک انصاف مرکز میں حکومت بنا بھی لے تو تبدیلی کیا آئے گی؟ راجہ ریاض، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، فردوس عاشق اعوان، فواد چودھری، بابرا عوان اور نذر گوندل کی پارٹی تو تبدیلی لانے سے رہی۔ لیکن ایک تبدیلی کا امکان واضح ہے کہ اقتصادی راہداری سمیت مسلم لیگ ن کی حکومت کے شروع کیے گئے تمام ترقیاتی منصوبوں کا مکو ٹھپ نہ دیا گیا تو یہ التوا کا شکار ضرور ہو جائیں گے۔ اللہ پاکستان پر رحم فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •