صاف نظر آ رہا ہے،’ جمہوریت پھر خطرے میں ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں جب بھی کسی بڑے مگر مچھ کے خلاف کوئی کیس بنتا ہے تو سب سے پہلے یہ آواز آتی ہے، ‘انہیں بس ہماری کرپشن نظر آتی ہے؟‘
زرداری صاحب پر کرپشن کا کیس بنے تو ’جمہوریت کے خلاف سازش‘
فوج کا کوئی جرنیل پھنس جائے تو ’فوج کو بدنام کرنے کی سازش‘۔
نواز شریف صاحب پر کیس بن جائے تو، ’جاوید چودھری جیسے مدبر کالم نگار لکھتے ہیں کہ ’انہیں صرف شریف خاندان کے بارہ ملین درہم نظر آتے ہیں؟‘
بات سب کی ’ٹھیک‘ ہے۔

یہ بالکل اسی طرح ٹھیک ہے، جیسے عبدالقیوم جتوئی صاحب نے جاوید چودھری صاحب کے پروگرام میں لائیو کہا تھا کہ سب کرپشن کرتے ہیں تو ’کیا کرپشن پر ہمارا حق نہیں ہے؟‘
بات ’ٹھیک‘ ہے، جب پہلے کسی بڑے مگرمچھ کو سزا نہیں ہوئی تو نواز شریف صاحب کیوں ہو؟ جب ایان علی نے کوئی جرم نہیں کیا تو شریف خاندان کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ جب پہلے کسی بڑے چور کو کبھی نہیں پکڑا کیا تو اب نواز شریف صاحب کو چھوٹی سے غلطی کرنے پر کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟
احتساب کی بات آئے تو پاکستان میں ہر طاقتور ادارے اور طاقتور شخصیت کے خلاف سازش ہوتی ہے اور اگر آج تک نہیں ہوئی تو صرف غریب عوام کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی۔
اب تو صرف کاش کا ہی لفظ منہ سے نکلتا ہے۔

کاش کہ مشرف صاحب ایک فوجی نہیں بلکہ ایک فروٹ فروش ہوتے اور راولپنڈی کی انتظامیہ انہیں خلاف قانون سڑک پر ریڑھی لگانے کی وجہ سے سزا سناتی۔
کاش کی زرداری صاحب سبزیاں بیچنے والے ہوتے اور مہنگے کریلے بیچنے کی وجہ سے ان کو گرفتار کر لیا جاتا۔
کاش نواز شریف صاحب اس رمضان میں مہنگے انگور بیچتے اور دھوکہ دہی کے جرم میں دھر لیے جاتے۔
کاش کہ مریم نواز کوئی اسکول ٹیچر ہوتیں اور بیمار ہونے کے باوجود میاں شہباز شریف صاحب ایک غیر حاضری کی وجہ سے انہیں معطل کر چکے ہوتے۔
کاش کہ یہ سب غریب ہوتے، کاش یہ بس ڈرائیور ہوتے، کاش یہ مستری ہوتے، مزدور ہوتے، قلی ہوتے، موچی ہوتے لیکن یہ کاش شاید کاش ہی رہے گا۔

اگر یہ سب غریب ہوتے تو پھر سب سیاستدانوں اور صحافیوں کو سانپ سونگھ جاتا۔

پھر یہ یہی کہتے اور لکھتے ’’ان چوروں اور حرام خوروں کو اس سے بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔ انہیں جرات کیسے ہوئے کہ یہ خلاف قانون جائیں اور ریاست کی رٹ کو چیلینج کریں، انہیں عبرت کا نشان بناتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر کی سیچوایشن بہتر بنائی جانی چاہیے۔‘‘ لیکن یہ اسی وقت ہوتا اگر یہ غریب ہوتے۔

اب تو حضور والا معاملہ مختلف ہے۔ اب ملک کے سارے قانون، ساری کی ساری عدالتیں، سارے کے سارے صحافی، سارے کے سارے اخلاقیات دان صرف اور صرف ان کے لیے ہیں۔ اب تو حضور معاملہ طاقتوروں اور بڑے مگر مچھوں کا ہے۔

اب تو صاف نظر آ رہا ہے، ’’ کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے‘‘

سنا ہے آج ایک شخص سرکاری گودام سے چار کلو گندم چوری کرتے ہوئے پکڑا کیا ہے، آئیے سب مل کر اس چور کے لیے احتساب کا نعرہ لگاتے ہیں، آئیے بس یہی ایک باقی بچتا ہے، باقی سارے تو اس ملک میں ’شریف زادے‘ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •