عمران خان عرف نواز شریف پارٹ ٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاملہ نواز شریف کی کرپشن کا نہیں ہے بلکہ معاملہ یہ ہے کہ قوم کو کیا اب عمران خان کی شکل میں دوسرا نواز شریف قبول ہے۔

جنرل ضیا کے دور میں نواز شریف کو ایسا ہی دیانت کا دیوتا بنا کر پیش کیا گیا تھا کہ جیسا عمران خان کو اب بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

نواز شریف اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے کے ساتھ آئے تھے اور عمران خان کو نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کی آڑ میں لانچ کیا گیا، نواز شریف کا اسلامی نظام آیا اور نہ عمران خان کے احتجاج کے نتیجے میں نیٹو سپلائی کبھی رکی، بعد میں خیبرپختونخوا میں ڈرون حملوں پر عمران خان چپ سادھے رہے۔

میاں نواز شریف بھی جماعت اسلامی کے کاندھوں پر سوار ہوکر لانچ کیے گئے تھے، ان کو تو بات تک نہیں کرنا آتی تھی، اسلامی جمعیت طلبہ کے جاوید ہاشمی نے انہیں چمکایا، اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کے ہی حسین حقانی کو نواز شریف کا اسسٹنٹ مامور کیا گیا۔

جماعت اسلامی نے یہی حکمت عملی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھی اور خیبرپختونخوا کی حکومت میں شریک بن کر ان کے معاملات کو چلایا، کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان عمران خان کی ریلی میں نعرے لگاتے رہے اور عمران خان اسے اپنا مجمع سمجھ کر جوش میں ہوش کھوبیٹھے مگر جماعت اسلامی نے اف تک نہیں کی۔

نواز شریف ہوں یا عمران خان۔ یہ دونوں ایک فکری حوالہ رکھتے ہیں، ان دونوں کے طریقہ کار میں ضرور فرق ہے مگر دونوں دائیں بازو کے ایک سے نظریات رکھنے والے ہیں، مذہبی انتہاپسندی سے لے کر طالبان، خواتین کے حقوق اور خارجہ پالیسی میں ان کی ایک سی اپروچ ہے۔

جب نواز شریف کو دیانت کا دیوتا بنا کر پیش کیا گیا تو اس وقت لوگوں نے انہیں کرپٹ کہا مگر ان آوازوں کو جہالت سے تشبیہ دی گئی، اب عمران خان کی کرپشن پر بعض لوگ سوال اٹھارہے ہیں تو ان آوازوں کو گمراہی سے تشبیہ دی جارہی ہے۔

نواز شریف اگر منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام ہوگئے تو عمران خان بھی اب تک کی 18 عدالتی سماعتوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کے مطابق اپنی آمدنی کی منی ٹریل نہیں دے پائے، نواز شریف کے ڈٰیڑھ ارب روپے کے اثاثہ جات تو کسی کاروباری گھپلے کا نتیجہ ہوسکتے ہیں مگر عمران خان کے کسی کاروبار کے بغیر ڈیڑھ ارب روپے کے لگ بھگ ڈیکلئیر اثاثہ جات کن ذرائع کا نتیجہ ہیں، یہ طے ہونا ابھی باقی ہے اور شاید اسے طے کرنے میں ہمیں 30 برس لگ جائیں۔

اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایک خاص وقت تک استعمال ہونے کے بعد نرسری میں اگائے جانے والے مصنوعی سیاست دان پھینک کر نئے سیاست دانوں کی فصل لگا دی جاتی ہے، یہی الطاف حسین کے ساتھ ہوا اور یہی نواز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے مگر قوم کب تک اس پریکٹس کے تحت بے وقوف بنتی رہے گی۔ یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔

اگر عوام عمران خان یعنی دوسرے نواز شریف کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں تو اس بات کے لیے بھی تیار رہیں کہ 30 سال بعد ایک اور جے آئی ٹی رپورٹ بنے گی اور عمران خان کی کرکٹ کے زمانے سے آمدنی، جوئے کے حوالے سے ان کے اعترافی بیانات، شوکت خانم ٹرسٹ میں فنڈنگ کی کرپشن اور غیر ملکی سیاسی امداد کو اس انداز میں پیش کیا جائے گا کہ میرے اور آپ کے پاس ہکا بکا رہ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •