یہ بیٹیاں اتنی جلدی جوان کیوں ہوجاتی ہیں؟

ابھی بمشکل دو سال کی ہوگی کہ بھائی کو اسکول جاتے دیکھ کے ضد کرنے لگی، مجھے اسکول جانا ہے؛ ”پلے گروپ“ میں داخل کروا دیا گیا، بیمار رہنے لگی، تو امی کو ہمیں ڈانٹنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ ”اتنی کم عمر کو اسکول میں ڈال دیا ہے، نہ نیند پوری ہوتی ہے نہ آرام کر پاتی ہے۔“ اسکول سے اٹھا لیا گیا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے، جب یہی بیٹی اپنی ہی موج میں بہن بھائیوں کو جتلا رہی تھی، کہ ”ابو میری کوئی بات نہیں ٹالتے، میں جو کہتی ہوں، مان لیتے ہیں۔“ میں نے غور کیا، بہت سوچا تو لگا وہ صحیح کَہ رہی تھی۔ ایسا کیوں ہے؟ آج تک کوئی جواب نہ ملا، لیکن یہ ہے کہ بیٹی کا یہ دعوا میرے لیے تمغے سے کم نہیں۔ میں آج بھی اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا، کہ بیٹیوں کا مان توڑنے والا باپ، بہت کم ظرف ہوگا۔
اسکول کالج میں میری ڈراینگ اور ہینڈ رایٹنگ مثالی ہوا کرتی تھی۔ یہی احوال میری بیٹی کا ہے؛ آج کل تختی کا زمانہ کہاں، لیکن اس کی ہینڈ رایٹنگ خوب ہے، اور ڈراینگ میں بھی دل چسپی ہے۔ میں خوش ہوں کہ میری بیٹی میرا پرتو ہے۔
اس کو شلوار قمیص پسند نہیں رہا؛ جب کبھی اس کو شلوار قمیص سلوا کے دیا گیا، رونے لگی، کہ یہ چبھتا ہے۔ اس کی ماں زبردستی پہنا دے تو جب 
میری بیٹی اب دسویں جماعت میں ہے۔ ڈانگ کی ڈانگ ہے؛ قد میں انیس بیس میرے برابر آ گئی ہے۔ میں کم سن تھا لیکن زرا زرا سا یاد ہے، کہ میرے نانا کے پاس ٹیوبوں والا ریڈیو تھا۔ لکڑی سے بنے اس ڈبے سے ”سہاڈا چڑیا دا چمبا ایہ، بابل اساں ٹر جانڑا“ کی آواز آتی تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔ میں بڑی عمر کا ہو گیا، جب کبھی نانا کا رونا یاد آتا میری حیرت نہ جاتی تھی، کہ وہ کیوں روتے تھے۔ آج میں یو ٹیوب پر گانے سن رہا تھا؛ طفیل نیازی تان بھر رہے تھے، کہ بیٹی آ کے کہنے لگی، ابو مجھے ہاکی اسٹک خرید دیں، مجھے اسکول کی ٹیم میں شامل ہونا ہے۔ اس کی ماں جزبز ہوتی ہے تو ہو، میں اپنی بیٹی کی بات تو نہیں ٹال سکتا۔ اسی دوران طفیل نیازی کی صدا آئی، ”سہاڈا چڑیا دا چمبا ایہ، بابل اساں ٹر جانڑا“ تو میرا دل بھر آیا، بہت چاہا کہ نہ آنسو نہ بہیں، لیکن میرے اختیار سے باہر ہو گئے۔ کس سے پوچھوں کہ یہ بیٹیاں اتنی جلدی جوان کیوں ہو جاتی ہیں؟

