توبہ شکن (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان ہی دنوں اس نے فیصلہ کیا کہ وہ پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کرے گی۔ حالانکہ اس کے گھر والے ایک اچھے بر کی تلاش میں تھے۔ ہاتھی مرا ہوا بھی سوالاکھ کا ہوتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ریٹائرہو کر بھی اونچی نشست والی کرسی سے مشابہ ہوتا ہے۔ اباجی کے مال و متاع کو گو اندر سے گھن لگ چکا تھا لیکن حیثیت عرفی بہت تھی۔ نوکر چاکر کم ہو گئے تھے ۔سوشل لائف بھی پہلے سی نہ رہی تھی۔ فنکشنوں کے کارڈ بھی کم ہی آتے لیکن رشتے ڈی سی صاحب کی بیٹی کے چلے آرہے تھے اور اعلیٰ سے اعلیٰ آرہے تھے۔ اس کی امی گو پڑھی لکھی عورت نہ تھی۔ لیکن با اثر با رسوخ خواتین کی صحبت نے اسے خوب صیقل کر دیا تھا۔ اس میں ایک ایسی خوش اعتمادی اور پرکاری پیدا ہو گئی تھی کہ کالجوں کی پروفیسریں اس کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو کمتر سمجھا کرتیں۔

جس وقت بی بی نے پولیٹیکل سائنس کرنے پر ضد کی تو امی نے زبردست مخالفت کی۔ ابا جی نے قدم قدم پر اڑچن پیدا کی کہ جو لڑکی ہمیشہ پولیٹیکل سائنس میں کمزور رہی ہے وہ اس مضمون میں ایم اے کیونکر کرے گی۔ کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد ابا جی اس بات پر رضامند ہو گئے کہ وہ پروفیسر سے ٹیوشن لے سکتی ہے۔

جس روز ریٹائرڈ ڈی سی صاحب کی کار سمن آباد گئی تو پروفیسر فخر گھر پر موجود نہ تھے۔ دوسری مرتبہ جب بی بی کی امی گئیں تو پروفیسر صاحب کسی سیمینار میں تشریف لے جا چکے تھے۔ ملاقات پھر نہ ہوئی۔ تیسری بار جب بی بی اور ابا جی ٹیوشن کا طے کرنے گئے تو پروفیسر صاحب مونڈھے پر بیٹھے ہوئے مطالعہ میں مصروف تھے۔ باہر کے نلکے کے ساتھ نیلے رنگ کی پلاسٹک کی ٹیوب لگی ہوئی تھی۔ ٹیوب ویل کا پانی سامنے کے تنگ احاطے میں اکٹھا ہو رہا تھا لیکن پروفیسر صاحب اس سے غافل مٹتی شفق میں حروف ٹٹول ٹٹول کر پڑھ رہے تھے۔

پہلے ابا جی نے ہارن بجایا۔ پھر خانساماں خانساماں کہہ کرآوازیں دیں۔ نہ تو اندر سے کوئی باورچی قسم کا آدمی نکلا اور نہ ہی پروفیسر صاحب نے سر اٹھا کر دیکھا۔ بالآخر ابا جی نے خفت کے باوجود دروازہ کھولا اور بی بی کو ساتھ لے کر برآمدے کے طرف چلے۔ ٹیوب غالباً دیر سے لگی ہوئی تھی اور مٹی کیچڑ میں بدل چکی تھی۔ بڑی احتیاط سے قدم دھرتے ہوئے سیڑھیوں تک پہنچے اور پھر کھنکار کر پروفیسر صاحب کو متوجہ کیا۔

پونہ گھنٹہ بیٹھنے رہنے کے باوجود نہ تو اندر سے کوکا کولا آیا نہ چائے کے برتنوں کا شور سنا ئی دیا۔ اس بے اعتنائی کے باوجود دونوں باپ بیٹے سہمے سے بیٹھے تھے۔ شام گہری ہو چلی تھی اور سمن آباد یے گھروں کے آگے چھڑکاؤ کرنے میں مشغول تھے۔ قطار صورت گھروں سے ہر سائز اور ہر عمر کا بچہ نکل کر اس چھڑکاؤ کو بطور ہولی استعمال کر رہا تھا۔ عورتیں نائیلون جالی کے دوپٹے اوڑھے آجارہی تھیں۔ ایک ایسے طبقے کی زندگی جاری تھی۔

 جو نہ امیر تھا اور نہ ہی غریب…. دونوں کے درمیان کہیں مرغ بسمل کی طرح لٹک رہا تھا۔

جب بات پڑھانے تک جا پہنچی تو پروفیسر فخر بولے۔

”جی ہاں۔ میں انہیں پڑھا دوں گا۔ بخوشی“

اب پہلو بد ل کر ریٹائرڈ ڈی سی صاحب نے کہا….معاف کیجئے پروفیسر صابح! لیکن بات پہلے ہی واضح ہو جانی چاہیے…. یعنی آپ…. میرا مطلب ہے آپ کی Renumerationکیا ہوگی؟“

ٹیوشن کی فیس کو خوبصورت سے انگریزی لفظ میں ڈھال کر گویا ڈی سی صاحب نے اس میں سے ذلت کی پھانس نکال دی۔

لیکن پروفیسر صاحب کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ مونڈھے کی پشت کو دیوار سے لگا کر بولے۔

”میں….مجھے…. دراصل مجھے گورنمنٹ پڑھانے کا عوضانہ دیتی ہے سر۔ اس کے علاوہ…. میں ٹیوشن نہیں کرتا….تعلیم دیتاہوں۔ جو چاہے جب چاہے مجھ سے پڑھ سکتا ہے۔“

”دیکھیے جناب…. میں اس لیے پڑھاتا ہوں کہ مجھے پڑھانے کا شوق ہے۔ اگر میں تحصیدار ہوتا تو بھی پڑھاتا۔ اگر ضلع کا ڈی سی ہوتا تو بھی پڑھاتا۔ کچھ لوگ پیدائشی میری طرح ہوتے ہیں۔ ان کے ماتھے پر مہرتی ہے پڑھنے کی…. ان کے ہاتھوں پر لکیر ہ ہوتی ہے پڑھانے کی۔“

بی بی کے حلق میں نمکین آنسو آگئے۔

دو غیرتوں کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف ڈی سی صاحب کی وہ غیر ت تھی جسے ہر ضلع کے افسرو ں نے کلف لگائی تھی۔ دوسری جانب ایک Idealisticآدمی کی غیرت تھی جو گھونگے کی طرح اپنا سارا گھر اپنے ہی جسم پر لاد کر چلا کرتا ہے اور ذرا سی آہٹ پا کر اس گھونگے میں گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔

پروفیسر صاحب بڑی بھلی سی باتیں کیے جارہے تھے اور اس کے ابا جی مونڈھے میں یو ں بیٹھے تھے جیسے بھاگ جانے کی تدبیریں سوچ رہے ہوں۔

”فائن آرٹس کا دولت کی ذخیرہ اندوزی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں میرا پروفیشن فائن آرٹس کا ایک شعبہ ہے۔ انسان میں کلچر کا شعور پیدا کرنے کی سعی…. انسان میں تحصیل علم کی خواہش بیدار کرنا…. عام سطح سے اٹھ کر سوچنا اور سوتے رہنا…. ایک صحیح استاد ان نعمتوں کو بیدار کرتا ہے۔ ایک تصویر، ایک گیت، ایک خوبصورت بت بھی یہی کچھ کرپاتے ہیں۔ ساز بجانے والے کو اگر آپ لاکھ روپیہ دیں اور اس پر پابندی لگائیں کہ وہ ساز کو ہاتھ نہ لگائے تو وہ غالباً وہ…. اگر وہ Genuineہے تو آپ کی پیشکش ٹھکرا دے گا…. میں ٹیچر ہوں۔ Genuineٹیچر…. میں Fakeنہیں ہوں….زبیری صاحب….!“

ڈی سی صاحب اپنی بیٹی کے سامنے ہار ماننے والے نہیں تھے۔

”اور جو پیٹ میں کچھ نہ ہو تو غالباً سازندہ مان جائے گا۔“

”پھر وہ سازندہ Fakeہوگا۔ Passionکا اس کی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو گا بلکہ غالباً وہ اپنے آرٹ کو ایک تمغہ، ایک پاسپورٹ، ایک اشتہار کی طرح استعمال کرتا ہوگا۔“

”اچھا جی آپ پیسے نہ لیں لیکن بی بی کو پڑھا تو دیا کریں۔“

”جی ہاں۔ میں بخوشی پڑھا دوں گا۔“

”تو کب آیا کریں گے آپ؟…. میں کار بھجوا دیا کروں گا۔

 پروفیسر فخر کی آنکھیں تنگ ہو گئیں اور وہ ہچکچا کر بولے…. ”میں تو کہیں نہیں جاتا شام کے وقت….“

”تو میرا ….تو میرا مطلب ہے کہ آپ اسے پڑھائیں گے کیسے؟“

”یہ چار پانچ کے درمیان کسی وقت آجایاکریں۔ میں پڑھا دیا کروں گا۔“

بی بی کے پیروں تلے سے یوں زمین نکلی کہ اس وقت تک واپس نہ لوٹی جب تک وہ اپنے پلنگ پر لیٹ کر کئی گھنٹے تک آنسوؤں سے اشنان نہ کرتی رہی۔

عورت کے لئے عموماً مرد کی کشش کے تین پہلو ہوتے ہیں۔

بے نیازی

ذہانت اور

فصاحت

یہ تینوں اوصاف پروفیسروں میں بقدر ضرورت ملتے ہیں۔ اسی لئے ایسے کالجوں میں جہاں مخلوط تعلیم ہو لڑکیاں عموماً اپنے پروفیسروں کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہیں…. اس محبت کا چاہے کچھ نتیجہ نہ نکلے لیکن ہیروشپ کی طرح اس کا اثر ا ن کے ذہنوں میں ابدی ہوتا ہے جس طرح ملکیت ظاہر کرنے کے لئے پرانے زمانے میں گھوڑوں کوداغ دیا جاتا تھا اسی طرح اس رات بی بی کے دل پر مہر فخر لگ گئی۔

ابا جی ہر آنے جانے والے سے پروفیسر فخر کے احمق پن کی داستان یوں سنانے بیٹھ جاتے جیسے یہ بھی کوئی ویت نام کا مسئلہ ہو۔ ان کے ملنے والے پروفیسر فخر کی باتوں پر خوب ہنستے۔ بی بی کو شبہ ہو چلا تھا کہ انہوںنے بیٹی کو ٹیوشن کی اجازت نہ دی تھی پھر بھی اندر ہی اندر اباجی فخر کی شخصیت سے مرعوب ہو چکے تھے۔

ایک دن جب بی بی اپنی سہیلی سے ملنے سمن آباد گئی اور سامنے والی لائن میں اسے پروفیسر فخر کا مکان دکھائی دیا تو اچانک اس کے دل میں ایک زبردست خواہش اٹھی۔ وہ خوب جانتی تھی کہ اس سارے وقت پروفیسر صاحب کالج جا چکے ہوں گے۔ پھر بھی وہ گھر کے اندر چلی گئی۔ سارے کمرے کھلے پڑے تھے۔ لمبے کمرے میں ایک چارپائی بچھی تھی جس کا ایک پایہ غائب تھا اور اس کی جگہ اینٹوں کی تھٹی لگی ہوئی تھی۔ تینوں کمروں میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ ہر سائز، ہر پیپر اور ہر طرح کی پرنٹنگ والی کتابیں۔ ان کتابوں کو درستگی کے ساتھ آراستہ کرنے کی خواہش بڑی شدت کے ساتھ بی بی کے دل میں اٹھی۔

جستی ٹرنک پر پڑے ہوئے کپڑے، زرد رو چھپکلیاں جو بڑی آزادی سے چھت سے جھانک رہی تھیں اور کونوں میں لگے ہوئے جالے۔ ان چیزوں کا بی بی پر بہت گہرا اثر ہوا۔

باورچی خانے سے کچھ جلنے کی خوشبو آرہی تھی لیکن پکانے والا دیگچی سٹوو پر رکھ کر کہیں گیا ہوا تھا۔ بی بی نے تھوڑا سا پانی دیگچی میں ڈالا اور سہیلی سے ملے بغیر آگئی۔

جس روز بی بی نے پروفیسر فخر سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اسی روز جمالی ملک کا رشتہ بھی آگیا۔

جمالی ملک لاہور کے ایک نامی گرامی ہوٹل میں مینجر تھے۔ بڑی پریس کی ہوئی شخصیت تھی۔ اپنی پتلون کی کریز کی طرح۔ اپنے چمکدار بوٹوں کی طرح جگمگاتی ہوئی شخصیت…. وہ کسی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار نظر آتے تھے۔ صاف ستھرے دانتوں کی چمک ہمیشہ چہرے پر رہتی۔

جمالی ملک اپنے ہوٹل کی تنظیم، صفائی اور سروس کا سمبل تھے۔

ائیر کنڈیشنڈ لابی میں پھرتے ہوئے ، مدھم بتیوں والی بار میں سرپرائز وزٹ کرتے ہوئے لف کے بٹن دباتے ہوئے۔

ڈائننگ ہال میں وی آئی پیز کے ساتھ پرتکلف گفتگو کرتے ہوئے، ان کا وجود کٹ گلاس کے فانوس کی طرح خوبصورت اور چمکدار تھا۔

جس روز اس بڑے ہوٹل کے بڑے مینجر نے بی بی کے خاندان کو کھانے کی دعوت دی اسی روز ڈرائی کلینر سے واپسی پر بی بی کی مڈبھیڑ پروفیسر فخر کے ساتھ ہوگئی۔ ووہ فٹ پاتھ پر پرانی کتابوں والی دوکانوں کے سامنے کھڑے تھے اور ایک پرانا سا مسودہ دیکھ رہے تھے۔

ان سے پانچ قدم چھ قدم دور ”ہر مال ملے آٹھ آنے“ والا چیخ چیخ کر سب کو بلا رہا تھا۔ ذرا سا ہٹ کر وہ دکان تھی جس میں سرخ چونچوں والے ، ہریل طوطے، سرخ افریقہ کی چڑیاں اور خوبصورت لقے کبوتر غٹر غوں غٹر غوں کر رہے تھے۔ پروفیسر صاحب پر سارے بازار کا کوئی اثر نہ ہورہا تھا اور وہ بڑے۔ انہماک سے پڑھنے میں مشغول تھے۔

کار پار ک کرنے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ بالآخر محکمہ تعلیم کے دفتر میں جا کر پارک کروائی اور پیدل چلتی ہوئی پروفیسر فخر تک جا پہنچی۔

پرانی کتابیں بیچنے والے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ کرم خوردہ کتابوں کے ڈھیر تھے۔ ایسی کتابیں اور رسالے بھی تھے جنہیں امریکن وطن لوٹنے سے پہلے سیروں کے حساب سے بیچ گئے تھے اور جن کے صفحے بھی ابھی نہ کھلے تھے۔

”سلام علیکم سر….!“

چونک کر سر نے پیچھے دیکھا تو بی بی شرمندہ ہوگئی…. اللہ ! اس پروفیسر کی آنکھ میں کبھی تو پہچان کی کرن جاگے گی؟ ہر بار نئے سرے سے اپنا تعارف تو نہ کروانا پڑے گا۔

”آپ اتنی دھوپ میں کھڑے ہیں سر….“

پروفیسر نے جیب سے ایک بوسیدہ اور گندہ رومال نکال کر ماتھا صاف کیا اور آہستہ سے بولے ” ان کتابوں کے پاس آکر گرمی کا احساس باقی نہیں رہتا۔“

بی بی کو عجیب شرمندگی سی محسوس ہوئی کیونکہ جب کبھی وہ پڑھنے بیٹھتی تو ہمیشہ گردن پر پیسنے کی نمی سی آجاتی اور اسے پڑھنے سے الجھن ہونے لگتی۔

”آپ کو کہیں جانا ہو تو ….جی میں چھوڑ آؤں آپ کو۔“

”نہیں میرا سائیکل ہے ساتھ…. شکریہ!“

بات کچھ بھی نہ تھی۔ فٹ پاتھ پر پرانی کتابوں کی دکان کے سامنے ایک بے نیاز چھوڑے پروفیسر کے ساتھ جس کے کالر پر میل کا نشان تھا، ایک سرسری ملاقات تھی چند ثانیے بھر کی۔

لیکن اس ملاقات کا بی بی پر تو عجیب اثر ہوا۔ سارا وجود تحلیل ہو کر ہوا میں مل گیا۔ کندھوں پر سر نہ رہا…. اور پاؤں میں ہلنے کی سکت نہ رہی تھی۔ حالانکہ پروفیسر فخر نے اس سے ایک بات بھی ایسی نہ کی جو بظاہر توجہ طلب ہوتی۔ پر بی بی کے تو ماتھے پر جیسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے چندن کا ٹیکہ لگا دیا ۔ کھوئی کھوئی سی گھر آئی اور غائب سی بڑے ہوٹل پہنچ گئی۔

جب وہ شمعوز کی ساڑھی پہنے آئینہ خانے سے لابی میں پہنچی تو دراصل وہ آکسیجن کی طرح ایک ایسی چیز بن چکی تھی جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جمالی ملک صاحب شارک سکن کے سوٹ میں ملبوس، کالر میں کارنیشن کا پھول لگائے گھٹنوں پر کلف شدہ سرویٹ سرکھے اتنے ٹھوس نظر آرہے تھے کہ سامنے میز پر کہنیاں ٹکائے جھینگے کا پلاؤ اور چوپ سوٹی کھانے والی لڑکی پر انہیں شبہ تک نہ ہو سکا اور وہ جان ہی نہ سکے کہ مسلسل باتیں کرنے والی لڑکی دراصل ہوٹل میں موجود ہی نہیں ہے۔

اگر بی بی کی شادی جمالی ملک سے ہو جاتی تو کہانی آئسنگ لگے کیک کی طرح دلآویز ہوتی۔ لفٹ کی طرح اوپر کی منزلوں کو چڑھنے والی۔

سوئمنگ پول کے اس تختے کی طرح جس پر چڑ ھ کر ہر تیرنے والا سمرسولٹ کرنے سے پہلے کئی فٹ اوپر چلا جایا کرتا ہے۔

لیکن….

شادی تو بی بی کی پروفیسر فخر سے ہوگئی۔

ڈی سی صاحب کی بیٹی کا بیاہ اس کی پسند کا ہوا اور اس شادی کی دعوت ہوٹل میں دی گئی جس کے مینجر جمالی صاحب تھے۔ دلہن کے گھر والوں نے چار ڈی لکس قسم کے کمرے دو دن پہلے سے بک کر رکھے تھے اور بڑے ہال میں جہاں رات کا آکسٹرا بجا کرتا ہے، وہیں دولہا دلہن کے اعزاز میں بہت بڑی دعوت رہی۔ نکاح بھی ہوٹل میں ہی ہوا اور رخصتی بھی ہوٹل ہی سے ہوئی۔ ساری شادی کاہنگامہ مفقود تھا۔ ایک ٹھنڈ کا، ایک خاموشی کا احساس مہمانوں پر طاری تھا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے ہال میں یخ بستہ کولڈ ڈرنکز پیتے ہوئے سرد مہر سے مہمانوں سے مل کر بی بی اپنے میاں کے ساتھ سمن آباد چلی گئی۔

لیکن اس رخصتی سے پہلے ایک اور بھی چھوٹا سا واقعہ ہوا۔

نکاح سے پہلے جب دلہن تیار کی جارہی تھی اور اسے زیور پہنایا جارہا تھا، اس وقت بجلی اچانک فیوز ہو گئی۔ پہلے بتیاں گئیں پھر ائیر کنڈیشنر کی آواز بند ہو گئی ۔ چند ثانئے تو کانوں کو سکون سامحسوس ہوا لیکن پھر لڑکیوں کا گروہ کچھ تو گرمی کے مارے اور کچھ موم بتیوں کی تلاش میں باہر چلا گیا۔

اندھیرے کمرے میں ایک آراستہ دلہن رہ گئی۔ ارد گرد خوشبو کا احساس باقی رہا اور باقی سب کچھ غائب ہوگیا۔

بتیاں پورے آدھے گھنٹے بعد آئیں۔

اب خدا جانے یہ جمالی ملک کی سکیم تھی یا واپڈا والوں کی سازش تھی۔ بجلی چلے جانے کے کوئی دس منٹ بعد بی بی کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ڈری ہوئی آواز میںبی بی نے جواب دیا۔

”کم ان….“

ہاتھ میں شمعدان لیے جمالی ملک داخل ہوا۔

اس نے آدھی رات جیسا گہرا نیلا سوٹ پہن رکھا تھا۔ کالر میں کارنیشن کا پھول تھا اور اس کے آتے ہی تمباکو ملی کوئی تیز سی خوشبو کمرے میں پھیل گئی۔

بی بی کا دل زور زور سے بجنے لگا۔

”میں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارا جنریٹر خراب ہو گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں بجلی آجائے گی…. کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو ؟

وہ خاموش رہی۔

”میں یہ کینڈل سٹینڈ آپ کے پاس رکھ دوں؟“

اثبات میں بی بی نے سر ہلا دیا۔

جمالی ملک نے شمعدان ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔

جب پانچ موم بتیوں کا عکس بی بی کے چہرے پر پڑا اور کنکھیوں سے اس نے آئینے کی طرح دیکھا تو لمحہ بھر کو تو اپنی صورت دیکھ کر وہ خود حیران سی رہ گئی۔

”آپ کی سہیلیاں کدھر گئیں؟“۔

 ”وہ نیچے چلی گئی ہیں شاید….“

”اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوتو ….تو میں یہاں بیٹھ جاؤں چند منٹ۔“

بی بی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

وہ اپالو کی طرح وجیہہ تھا۔ جب اس نے ایک گھٹنے پر دوسرا گھٹنا رکھ کر سر کو صوفے کی پشت سے لگایا تو بی بی کو عجیب قسم کی کشش محسوس ہوئی۔ جمالی ملک کے ہاتھ میں سارے ہوٹل کی ماسٹر چابیاں تھیں اور اس کی بڑی سی انگوٹی نیم روشنی میں چمک رہی تھی۔

اس خاموش خوبصورت آدمی کو بی بی نے اپنے نکاح سے آدھ گھنٹہ پہلے پہلی بار دیکھا اور اس کی ایک نظر نے اسے اپنے اندر اس طرح جذب کرلیا جسے سیاہی چوس سیاہی کو جذب کرتا ہے۔

”میں آپ کو مبارکباد پیش کر سکتاہوں؟….“ اس نے مضطرب نظروں سے بی بی کو دیکھ کر پوچھا۔

وہ بالکل چپ رہی۔

”لڑکیاں….خاص کر آپ جیسی لڑکیوں کو ایک بڑا زعم ہوتاہے اور اسی ایک زعم کے ہاتھوں وہ ایک بہت بڑی غلطی کربیٹھتی ہیں۔“

نقلی پلکوں والے بوجھل پپوٹے اٹھا کر بی بی نے پوچھا….”کیسی غلطی؟“

”کچھ لڑکیاں محض رشی سادھوؤں کی تپسیا توڑنے کو خوشی کی معراج سمجھتی ہیں….“

وہ سمجھتی ہیں کہ کسی بے نیازی کی ڈھال میں سوراخ کر کے وہ سکون معراج کو پالیںگی۔ کسی کے تقویٰ کو برباد کرنا خوشی کے مترادف نہیں ہے۔ کسی کے زہد کو عجز و انکساری میں بد ل دینا کچھ اپنی راحت کا باعث نہیں…. ہاں دوسروں کے لئے احساس شکست کا باعث ہوسکتی ہے یہ بات….

چابیاں ہاتھ میں گھوم پھر رہی تھیں۔ ذہانت اور فصاحت کا دریا رواں تھا۔

”یہ زعم…. عورتوں میں، لڑکیوں میں کب ختم ہوگا؟…. میرا خیال تھا آپ ذہین ہیں لیکن آپ بھی وہی غلطی کربیٹھی ہیں جو عام لڑکی کرتی ہے۔ آپ بھی توبہ شکن بننا چاہتی ہیں۔“

”مجھے….مجھے پروفیسر فخر سے محبت ہے۔“

”محبت….؟ آپ پروفیسر فخر کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اندر سے وہ بھی گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے تمام آئیڈیلز کے باوجود وہ بھی کھانا کھاتے ہیں۔ سوتے ہیں…. اور محبت کرتے ہیں…. ان کا کورٹ آف آرمر اتنا سخت نہیں جس قدر وہ سمجھتے ہیں۔“

وہ چاہتی تھی کہ جمالی ملک سے کہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے پروفیسر فخر کے متعلق کچھ کہنے والے! تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ یہاں لیدر کے صوفے سے پشت لگا کر سارے ہوٹل کا ماسٹر چابیاں ہاتھ میں لے کر اتنے بڑے آدمی پر تبصرہ کرو….لیکن وہ بے بس سنے جارہی تھی اور کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔

میں پروفیسر صاحب سے واقف نہیں ہوں لیکن جو کچھ سنا ہے اس سے یہی اندازہ لگایا ہے کہ ….وہ اگر مجرد رہتے تو بہتر ہوتا…. عورت تو خواہ مخواہ توقعات سے وابستہ کرلینے والی شے ہے…. وہ بھلا اس صنف کو کیا سمجھ پائیں گے؟“

”جمالی صاحب!…. اس نے التجا کی۔

”آپ سی لڑکیاں اپنے رفیق حیات کو اس طرح چنتی ہیں جس طرح مینو میں سے کوئی اجنبی نام کی ڈش آرڈر کردی جائے محض تجربے کی خاطر…. محض تجسس کے لئے ….۔

 وہ پھر بھی چپ رہی۔

”اتنے سارے حسن کا پروفیسر صاحب کو کیا فائدہ ہو گا بھلا…. منی پلاٹ پانی کے بغیر سوکھ جاتا ہے ۔ عورت کا حسن پرستش اور ستائش کے بغیر مر جھا جا تاہے ….کسی ذہین مرد کو بھلا کسی خوبصورت عورت کی کب ضرورت ہوتی ہے؟ اس کے لئے تو کتابوں کا حسن بہت کافی ہے۔“

شمعدان اپنی پانچ موم بتیوں سمیت دم سادھے جل رہا تھا اور وہ کیوٹیکس لگے ہاتھوں کو بغور دیکھ رہی تھی۔

”مجھ سے بہتر قصیدہ گو آپ کو کبھی نہیں مل سکتا قمر…. مجھ سا گھر آپ کو نہیں مل سکتا کیونکہ میرا گھر اس ہوٹل میں ہے اور ہوٹل سروس سے بہتر کوئی سروس نہیں ہوتی اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ میری باتوں پر آپ کو اس وقت یقین آئے گا جب آپ کے چہرے پر چھائیاں پڑ جائیں گی۔ ہاتھ کیکر کی چھال جیسے ہو جائیں گے اور پیٹ چھاگل میں بدل جائے گا…. میں تو چاہتا تھا….میری تو تمنا تھی کہ جب ہم اس ہوٹل کی لابی میں اکٹھے پہنچتے…. جب اس کی بار میں ہم دونوں کا گزر ہوتا۔ جب اس کی گیلریوں میں ہم چلتے نظر آتے تو امریکن ٹورسٹ سے لے کر پاکستانی پیٹی بوژوا تک سب، ہماری خوش نصیبی پر رشک کرتے لیکن آپ آئیڈیلسٹ بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ حسن کے لئے گڑھا ہے بربادی کا۔“

ساون کی رات جیسا گہر ا نیلا سوٹ، کارنیشن کا سرخ پھول اور آفٹر شیولوشن سے بسا ہوا چہرہ بالآخر دروازے کی طرف بڑھا اور بڑھے ہوئے بولا۔

”کسی سے آئیڈیلز مستعار لے کر زندگی بسر نہیں ہو سکتی محترمہ…. آورش جب تک اپنے ذاتی نہ ہوں ہمیشہ منتشر ہو جاتے ہیں۔ پہاڑوں کا پودا ریگستان میں نہیں لگا کرتا۔“

اس میں تو اتنا حوصلہ بھی نہ رہا تھا کہ آخری نظر جمالی ملک پر ہی ڈال لیتی۔ دروازے کے مدور ہینڈل پر ہاتھ ڈال کر جمالی ملک نے تھوڑا سا پٹ کھول دیا۔ گیلری سے لڑکیوں کے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔

”میں بھی کس قدر احمق ہوں۔ اس سے اپنا کیس pleadکر رہا ہوں جو کبھی کا فیصلہ کر چکی ہے…. اچھا جی مبارک ہو آپ کو….“

دروازہ کھلا اور پھر بند ہو گیا۔

جاتے ہوئے وجیہہ مینجر کو ایک نظر بی بی نے دیکھا اور اپنے آپ پر لعنت بھیجتی ہوئی اس نے نظریں جھکا لیں۔

چند لمحوں بعد دروازہ پھر کھلا اور ادھ کھلے پٹ سے جمالی ملک نے چہرہ اندر کر کے دیکھا۔ اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں نمی اور شراب کی ملی جلی چمک تھی جیسے گلابی شیشے پر آہوں کی بھاپ اکٹھی ہو گئی ہو۔

”مجھ سے بہتر آدمی تو آپ کو مل رہا ہے….لیکن مجھ سے بہتر گھر نہ ملے گا آپ کو مغربی پاکستان میں۔“

اسی طرح سنتو جمعدارنی کے جانے پر بی بی نے سوچاتھا۔ ہم سے بہتر گھر کہاںملے گا کلموہی کو۔

اسی طرح خورشید کے چلے جانے پر وہ دل کو سمجھاتی تھی کہ اس بد بخت کو اس سے اچھا گھر کہاں ملے گا اور ساتھ ساتھ بی بی یہ بھی جانتی تھی کہ اس سے بہتے گھر چاہے نہ ملے وہ لوٹ کر آنے والیوں میں سے نہیں تھیں۔ اتنے برس گزرنے کے بعد آپ ایک پل تعمیر ہو گیا۔ آپی آپ ماضی سے جوڑنے والا۔ وہ دل برداشتہ انار کلی چلی گئی…. اس کا خیال تھا کہ وہ چار گھٹنے کی غیر موجودگی میں سب کچھ ٹھیک کردے گی۔ سنتو جمعدارنی اور خورشید تک کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔

لیکن ہوا یوں کہ جب وہ اپنے اکلوتے دس روپے کے نوٹ کو ہاتھ میں لیے بانو بازار میں کھڑ ی تھی اور سامنے ربڑ کی چپلوں والے سے بھاؤ کر رہی تھی اور نہ چپلوں والے پونے تین سے نیچے اترتا تھا اور نہ وہ ڈھائی روپے سے اوپر چڑھتی تھی، عین اس وقت ایک سیاہ کار اس کے پاس آکر رکی۔

 ليکن ہوا يوں کہ جب وہ اپنے اکلوتے دس روپے کے نوٹ کو ہاتھ میں لئے بازار ميں کھڑي تھي اور سامنے ربڑ کي چپلو ں والے سے بھاؤ کر رہي تھي اور نہ چپلوں والے پونے تين سے نيچے اترتا تھا اور نہ وہ ڈھائي روپے سے اوپر چڑھتي تھي عين اس وقت ايک سياد کار اس کے پاس آکر رکي۔

اپنے بوائے پھٹے پيروں کو نئي چپل ميں پھنسا تے ہوئے اس نے ايک نظر کار والے پر ڈالي۔

وہ اپالو کي بت کي طرح وجيہہ تھا۔

کنپٹيوں کے قريب پہلے چند سفيد بالوں نے اس کي وجاہت پر رعب حسن کي مہر بھي لگا دي تھي۔ وقت نے اس سينٹ کا کچھ نہ بگاڑا تھا۔ وہ اسي طرح محفوظ تھا جيسے ابھي ابھي کولڈ اسٹوريج سے نکلا ہو۔

بي بي نے اپنے کيکر کے چھال جيسے ہاتھ ديکھے۔

پيٹ پر نظر ڈالي جو چھاگل ميں بدل چکا تھا۔

اور ان نظروں کو جھکا ليا جن میں اب کنيزہ گوند کي بجھي بجھي سي چمک تھي۔

جمالي ملک اس کے پاس سے گزرا ليکن اس کي نظروں ميں پہچان کي گرمي نہ سلگي۔

واپسي پر وہ پروفيسر صاحب سے آنکھيں چرا کر بستر پر ليٹ گئي اور آنسوؤں کا رکا ہوا سيلاب اس کي آنکھوں سے بہہ نکلا۔

پروفيسر صاحب نے بہت پوچھا ليکن وہ انہیں کيا بتاتي کہ درخت چاہے کتنا ہي اونچا کيوں نہ چلا جائے اس کي جڑيں ہميشہ زمين کو ہوس سے کريدتي رہتي ہیں ۔ وہ انہیں کيا سمجھاتي کہ آئيڈيلز کچھ مانگے کا کپڑا نہيں جو پہن ليا جائے۔

وہ انہیں کيا کہتي کہ عورت کيسے توقعات وابستہ کرتي ہے۔

اور۔۔۔۔

يہ توقعات کا محل کيونکر ٹوٹتا ہے؟

وہ غريب پروفيسر صاحب کو کيا سمجھاتي ۔

ايسي باتيں تو غالباً اب جمالي ملک بھي بھول چکا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •