سیاسی میدان میں کیا ہونے کو ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کیا ہونے کو ہے، یہ سوال کم و بیش اگر سب کی زبان پر نہیں تو خیال میں ضرور ہے۔ کچھ یہ کہہ کر کہ ’’کچھ بھی نہیں ہوگا، سب یونہی چلتا رہے گا‘‘ اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ یہ سوچ کر خائف ہو جاتے ہیں کہ مالیاتی بدعنوانی کے جرم میں موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو معزول کر دیے جانے سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ کوئی اپنے محیر العقول علم کی بنیاد پر یہ کہہ کر انکشاف کرتے ہیں کہ کارستانی ان کی ہے جن کے بارے میں سب جانتے ہیں مگر کھل کر ان کا نام نہیں لے سکتے۔ وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انہیں منتخب وزیراعظم نہیں چاہیے، متعین کردہ وزیراعظم چاہیے۔ جن کا نام نہیں لیتے بقول ایک جیّد صحافی کے ان کے ایک اعلٰی اہلکار سے جب سوال کیا گیا کہ کہیں مارشل لا لگائے جانے کا امکان تو نہیں، تو انہوں نے کہا کہ آپ ہماری فکر نہ کیجیے۔ اب قانون کی عملداری ہی مارشل لا ہوگی اور معزز جج صاحبان نئے جرنیل۔ اگر جیّد صحافی کی کہی بات درست ہے، کیونکہ کچھ ہی روز پہلے معروف جے آئی ٹی رپورٹ سے متعلق ایک خبر لگانے والے مستند صحافی احمد نورانی نے آج بارہ جولائی کے اخبار میں اپنی خبر کے غلط ہونے پر تحریری معذرت چاہی ہے، تو اس بات سے کیا یہ اندازہ لگایا جائے کہ ’’انہوں‘‘ نے ’’کام‘‘ ’’عدالت عالیہ‘‘ کے سپرد کر دیا ہے یا یہ کہ عدلیہ بذات خود ناک میں دم آ جانے کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینے پر تل گئی ہے۔

یہ دونوں قیاس درست نہیں لگتے۔ جہاں تک کام سونپے جانے کی بات ہے تو براہ راست  ایسا اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ عدلیہ میں کوئی تو مرد حر ہوگا ہی جو زود یا بدیر آشکار کر دے گا کہ کب کیا ہوا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایک پوری حکمت عملی مرتب کی گئی ہو جس پر تب سے عمل درآمد کروایا جا رہا ہو جب پہلی بار تحریک انصاف اور مولانا طاہر القادری نے مشترکہ دھرنا دیا تھا۔ پھر بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، یہاں پھر وہی فلمی اتفاق یا محاورہ جاتی تشکیک آڑے آتی ہے، کہ پانامہ لیکس منظر عام پر آ گئیں۔ آف شور کمپنیاں، جنہیں بنایا جانا کوئی اس قدر غیر قانونی بھی نہیں سامنے آئیں، جن کے ضمن میں ماسوائے آئیس لینڈ کے وزیر اعظم کے دنیا میں کسی اور حکمران نے اس بنیاد پر استعفٰی نہیں دیا۔

میاں نواز شریف کے بیٹوں حسن و حسین کے لندن میں مہنگے فلیٹوں کو لے کر عمران خان عدالت میں چلے گئے۔ عدالت نے فیصلہ کیا مگر بعد میں مزید تفتیش کرنے کی خاطر جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی جس نے اپنی رپورٹ حال ہی میں دس جولائی کو پیش کی ہے۔ یہ قصہ تھا ان کی جانب سے کسی کو کام سونپے جانے کا جو اتنا قابل یقین نہیں لگتا۔

دوسرا قیاس کرپشن کے خلاف عدلیہ کے خود سے فعال ہو جانے سے متعلق ہے۔ اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ کہ کرپشن سے متعلق عدلیہ نے خود سے نوٹس نہیں لیا۔ مقدمہ درج کروایا گیا، عدلیہ کو اسے سننا ہی تھا۔ جب عدلیہ کو دس ہزار سے زائد دستاویزات پیش کی گئیں جن میں بیشتر اخبارت کی رپورٹیں اور خبریں تھیں اور جن سے متعلق ایک معزز جج نے کہا تھا کہ ان میں سے بیشتر کاغذ ایسے ہیں جن پر پکوڑے رکھ کر دیے جا سکتے ہیں یعنی بے حد ناکارہ۔ عدالت ان سب کو پڑھ کر اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتی تھی۔ بہرحال بہت دنوں تک فیصلہ محفوظ رکھے جانے کے بعد بالآخر عدالت نے فیصلہ سنایا جس کے اوپر ناول “گاڈ فادر” کا معروف جملہ درج کیا گیا تھا۔ ججز میں بھی تقسیم تھی لیکن کم و بیش سبھی نے وزیراعظم کو مورد الزام ضرور ٹھہرایا تھا۔ پھر جے آئی ٹی بنا دی گئی جسے تحقیق کے لیے ساٹھ روز دیے گئے۔ اتنی کم مدت میں تیار کی گئی رپورٹ میں بہرطور سقم ہوں گے تاہم عدالت عظمٰی نے شنوائی کی خاطر 17 جولائی کی تاریخ دے دی ہے۔ عدالت مذکور کو انہیں قوانین کے مطابق چلنا ہوگا جو ملک میں رائج ہیں۔ وکلاء اس ساری رپورٹ کا تیا پانچہ بھی کر سکتے ہیں اور کہی گئی باتوں کو ثابت کرنے میں ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اگر مقدمہ سننے اور فیصلہ کرنے، وہ بھی وزیر اعظم کو معزول کیے جانے سے متعلق فیصلہ کرنے میں عجلت دکھائی تو عدالت کا اپنا وقار خطرے میں پڑ جائے گا۔ اگر معمول کے مطابق مقدمہ سنا تو 2018 چڑھ ہی جائے گا یوں طولانی مقدمے کا فائدہ مقتدر پارٹی کو ہوگا چنانچہ عدلیہ اپنے طور پر بھی کرپشن کے خلاف فعال نہیں ہے۔

تو پھر گھمچال کیا ہے؟ معاملہ نہ انگلی اٹھانے والوں سے شروع ہوا تھا اور نہ عدلیہ کی خود فعالیت سے بلکہ معاملہ پاکستان میں در آئے ایک نئے مظہر یعنی میڈیا اور میڈیا کی عجیب و غریب آزادی سے شروع ہوا تھا، جب میڈیا نے عمران خان کے نعرے “کرپشن” کو پاکستان کا اولین مسئلہ بنا دیا۔ اگرچہ پاکستان میں ملک ریاض جیسا مجاہد ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ کوئی کام رشوت دیے بغیر کروا کے دکھاؤ۔ کرپشن بلا شبہ بڑا مسئلہ ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ایک سو سے زیادہ ملکوں کا لیکن اہم ترین مسئلہ اس لیے نہیں ہے کہ کرپشن کی جڑ نظام کی خرابیوں میں مضمر ہوا کرتی ہے۔ جب تک نطام کے سقوم دور نہیں کیے جائیں گے کرپشن کا بال بھی بیکا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ایسے ایسے پٹواری ہیں جن کے لاہور کی ڈیفنس کالونیوں میں شاندار بنگلے اور کئی کئی گاڑیاں ہیں۔ بڑے عہدیداروں کی تو بات ہی کیا کرنی۔

حال ہی میں پیش کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور ان کی اولاد کی آمدنیوں اور ان کے طرز زندگی پر ہونے والے اخراجات میں تضاد ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی ساری اشرافیہ اور مڈل کلاس کے بیشتر افراد کی آمدنیوں اور ان کے طرز زندگی پر اٹھنے والے اخراجات پر یہ بات صادق آتی ہے۔ ایک دوست کہا کرتا ہے،”مرزا، ہم سب ڈاکو ہیں۔ کوئی چھوٹا کوئی بڑا”۔ ڈاکو ہونے کی بنیاد اگر ایک طرف لالچ پر رکھی گئی ہے تو دوسری طرف “صارفین کے سماج” کے فروغ نے اسے مضبوط تر اور بیشتر کیا ہے۔ صارفین کے سماج سے جان چھڑانا ناممکن ہے اور جب تک لوگوں کی تنخواہیں اور دیگر آمدنیاں ان کی ضروریات کے مطابق نہ کی جائیں تب تک مالی بدعنوانی اور رشوت ستانی کو روکا جانا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ عدالتیں میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ میاں منشا، ملک ریاض، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، مولانا فضل الرحمٰن، آصف زرداری اور بے تحاشا دوسرے سیاستدانوں، سرکاری افسروں اور اہلکاروں، فوج کے سابقہ جرنیلوں و افسروں ( کیونکہ فوج میں موجود لوگوں کی کرپشن دیکھنا فوج کا اپنا کام ہے)، تاجروں، دکانداروں، وکیلوں، ڈاکٹروں، انجنیروں اور پتہ نہیں کس کس کو جن کی ظاہر کردہ آمدنیوں اور ان کے اخراجات میں تفاوت ہو جیلوں میں ڈال دے۔ سب کی املاک اور دولت ضبط کر لے تاکہ کم از کم آئندہ دس بیس سال کوئی مالی بدعنوانی کرنے کی جرات نہ کرے اور ساتھ ہی باقی ماندہ لوگوں کی منتخب کردہ حکومت سب لوگوں کی آمدنیاں اتنی نہ کر دے جن سے وہ اپنی ضرورت کی ہر چیز خرید سکیں۔ گھر تعمیر کر سکیں، بچوں کو تعلیم دلوا سکیں، صحت پر اخراجات کر سکیں تب تک کرپشن کو ختم تو کیا کم بھی نہیں کیا جا سکتا۔

چنانچہ ہوگا کیا؟ اپوزیشن کی کوشش ہوگی کہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف مقدمہ چلنے کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو جی بھر کر بدنام کیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ کسی طرح لوگوں کو سڑکوں پر لے آئے۔ شدید گرمی اور ممکنہ سیلاب کی وجہ سے ایسا کیا جانا ماہ ستمبر گذرنے کے بعد ہی ممکن ہوگا اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ دسمبر 2017 میں الیکشن کروا دے۔ یوں کروائے گئے انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے؟ اس کے بعد جوتیوں میں دال کیسے بنٹے گی، یہ ابھی ہمیں دیکھنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •