جب ڈاکٹر عطا الرحمن تعلیم کے مدار المہام ہوا کرتے تھے ۔۔۔
جنرل پرویزمشرف مملکت کے غیر آئینی سربراہ تھے۔ احتساب کا اعلان کیا، عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ احتساب چند ماہ میں مکمل ہو گیا۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔ احتساب کا حاصل یہ تھا کہ جو جنرل مشرف کی طرف آ گئے وہ باکردار ہیں۔ جو دوسری طرف رہ گئے، وہ بدکردار۔ پاوں ٹھیک سے جما لیے تو انتخابات کا اعلان کر دیا۔ کیونکہ احتساب کے بعد انہوں نے خالص جمہوریت کا خواب بھی پورا کرنا تھا۔ پہلے انتخابات دو ہزار دو میں ہوئے۔ پرویز مشرف نے الیکشن میں امیدوار کے لیے بی اے کی ڈگری لازمی قرار دے دی۔ اور فرمایا کہ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی بھٹی میں سے ہر امیدوار کو گزرنا پڑے گا۔ جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا۔
کیا جنرل مشرف کا یہ فیصلہ غلط تھا؟ جو اس فیصلے کو غلط کہے گا، احمق ہوگا اور جہالت و ظلمت کا حامی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ تواچھی بات ہے نا کہ پڑھے لکھے لوگ پارلیمنٹ میں آئیں۔ سب نے کم از کم بی اے تو کر رکھا ہو گا۔ وہ بہتر فیصلے کرسکیں گے اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکیں گے۔ اس سے علامہ اقبال کا وہ شکوہ بھی ختم ہوجائے گا کہ جمہوریت میں لوگوں کو فقط گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔ جو لوگ خلافت پر اصرار کرتے ہیں ان کا بھی جمہوریت پر اعتبار بڑھے گاکہ چلو جیسے تیسے ہی سہی،صحرا میں ہولے سے بادِ نسیم چلی تو ہے۔ ایک غیر آئینی سربراہ ہی نے سہی، انصاف کامعیار تو قائم کردیا ہے نا صاحب۔ اب جو بھی شخص آئے گا، ایک تو تعلیمی کوائف اس کے خواندہ ہونے کی تصدیق کریں گے، دوسرا باسٹھ تریسٹھ کی شقیں اس کے باکردار ہونے کا ثبوت دیں گیں۔ بس دیکھتے جائیے۔ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔
جنرل مشرف کے فیصلے کو ایسا کوئی بھی شخص نہیں جھٹلاسکتا، جو کتابی علم پر یقین رکھتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ غیرنصابی معاشرے میں کتابی علم مار کھا جاتا ہے۔ غیرمستحکم معاشرے میں دو اور دو کا جواب پانچ نکلتا ہے۔ایسے میں جنرل مشرف کے فارمولوں پرکیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پر وہ خود پورا نہ اترتے ہوں۔جب اتنا بڑا تضاد ایک دور رس الجھن کی صورت میں موجود ہو تو پھر سوال انصاف کے نعرے کا نہیں ہوتا۔ نعرے میں پوشیدہ واردات کا ہوتا ہے۔ہم خوار وزبوں دنیا میں کھڑے ہیں۔اس دنیا میں باکردارمجاہد دیوار کا نوشتہ بھی نہیں پڑپاتے۔ بدکرداردرویش پسِ دیوار کے قصے بھی جان لیتے ہیں۔ پھر جنرل مشرف کی واردات تو سامنے کی دیوار پہ لکھی کہانی تھی۔ ایک ایساسیاسی کارکن، جو عقل اورحقیقت پر یقین رکھتا ہو اورکم از کم بھی تین جوتیاں سیاست کی پرخار بستیوں میں گھساچکا ہو، اس کے لیے یہ جاننا کیا مشکل ہے کہ پرویز مشرف کے مقاصد کیا تھے۔ دو ہی تو مقاصد تھے
۱۔ تمام انتخابی حلقوں سے حقیقی عوامی نمائندوں کو قبل از انتخابات مسترد کرنا
۲۔ مزید یہ کہ متحدہ مجلس عمل کے لیے راہ ہموار کرنا
اب یہ سلسلہ کیسے ہوا؟ یہ بھی سن لیجیے
وفاق المدارس کی شہادتِ عالمیہ کی سند ایم اے کی سند کے مساوی ہوتی ہے۔ اس مساوی ہونے کا دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا پہلا فائدہ جنرل ضیا الحق کو ہوا تھا دوسرا فائدہ جنرل مشرف کو ہوا۔علمائے خوش فہم اس سند کے جو دو فوائد گنواتے ہیں وہ فوائد نہیں ہیں۔وہ گندم کی سیرابی میں کانٹوں پر یونہی گرجانے والی دو بوندیں ہیں۔ شہادتِ عالمیہ کی سند کو سرکار محکموں میں کارامد بنانے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مساوی تصدیق نامہ لینا پڑتا ہے۔جنرل مشرف کے دوست ڈاکٹر عطا الرحمن ہائیرایجوکیشن کمیشن کے چیرمین تھے۔وہی ڈاکٹر عطاالرحمن جو ان دنوں پاکستان میں صدارتی نظام کے لیے بے چین ہیں۔ذاتی طور پر میں ڈاکٹر صاحب کی قابلیت اہلیت اور انسان دوستی کا معترف ہوں۔ مگر مکرر عرض ہے کہ پاکستان ایک غیرنصابی علاقے کا نام ہے۔ وہاں ڈاکٹر عطاالرحمن جیسے پیشہ ور لوگ بھی کہاں جمع تفریق کے ساتھ چل سکتے ہیں۔اوپر سے حکم تھا۔ فاضل درس نظامی کو جس مساوی تصدیق نامہ کے حصول میں آٹھ ماہ لگ جاتے ہیں، وہ تصدیق نامہ سیاسی علمائے کرام کو دوہزار ایک میں دو گھنٹوں میں مل رہا تھا۔اکثر علمائے کرام کو تو ان کے گھر لے جاکر دیا گیا کہ یاشیخ یہ بہت اہم رقعہ ہے، سنبھال کے رکھیے کام آئے گا۔ واضح رہے کہ ان دنوں میں ڈاکٹر عطا الرحمن ہماری تعلیم کے مدار المہام ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو ان دنوں ایک بار پھر سے صدارتی نظام اور ٹیکنو کریٹ حکومت کی یاد بہت زور سے ستا رہی ہے۔
کچھ شخصیات ایسی تھیں جن کا علم تو کامل تھا مگر ان کے پاس وفاق المدارس کی سند نہیں تھی۔ ان شخصیات کے پاس ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا تصدیق نامہ پہلے پہنچا، وفاق المدارس کی اسناد بعد میں جاری ہوئیں۔خیریہ تو کشف و کرامات کے زاویے ہیں ان پر تبصرہ نہیں کرناچاہیئے۔ بس یہ دیکھیے کہ اللہ کے فضل اور اس کے کرم سے علمائے کرام ومشائخ عظام کیسے قطار اندر قطار قومی اسمبلی میں پہنچے۔ گوکہ بلوچستان اسمبلی میں بھی دستاریں ہی نمایاں تھیں مگر پختونخوا تو پورا کا پورا عرش کے سائبان میں تھا۔
باقی سیاسی حریفوں کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ تو خیر آپ کو پتہ ہی ہے۔ وصی ظفر جیسے لوگ کاغذات نامزدگی جمع کروانے الیکشن کمیشن جاتے تو کاغذات کی جانچ پڑتال کر کے کہہ دیا جاتا، آپ کا اندراج ہو گیا ہے، جائیے انتخابی مہم چلائیے۔ انتخابی مہم؟ انہیں تو الہام ہوچکا تھا کہ صبح کا سورج میری فتح کی خبر کے ساتھ طلوع ہونا ہے۔ مہم تو جمشید دستیوں کو چلانی پڑتی ہے۔ جمشید دستی جیسا کوئی امید وار الیکشن کمیشن جاتا، اس کے کاغذات دیکھتے تو دل ہی دل میں افسران افسوس کرتے کہ اس کے پاس کاغذات کیوں ہیں۔ کاغذات کلئیر ہوتے تو پھر دو کام کرتے۔ ایک سامنے کھڑا کر کے آیت الکرسی اور دعائے قنوت سنتے دوسرا محدب عدسوں کے ساتھ ان کے دامن کی جانچ پڑتال شروع کردیتے۔ آیت الکرسی میں کہیں بھی کوئی زیر غلطی سے زبر ہو جاتی یا دامن پہ کوئی بھی قبل از مسیح کا داغ مل جاتا تو فرماتے، ہم معذرت چاہتے ہیں آپ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہیں اترتے۔
پرویز مشرف کا میڈیا کارنر ان نمائندوں کو چوبیس گھنٹے ذلیل کرتا جن کو دعائے قنوت یاد نہین تھی۔ ہم جیسے لوگ اپنے ان جینوئن نمائندوں کو ذلیل کرنے میں پیش پیش ہوتے۔ ذلالت کا یہ کاروبار کرتے ہوئے ہم یہ نہیں سوچتے تھے کہ یہ جو باقی لوگ کابینہ میں بیٹھے ہیں کیا وہ اس معیار پر پورا ترتے ہیں؟ ہمیں اس سے غرض بھی کیا ہے۔ ہم تو بس یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ ہم خلافت راشدہ کے عہد میں یا پھر مغربی نظام عدل میں جی رہے ہیں ،جہاں تمام برائیاں وزارت عظمی کی مسند سے پھوٹتی ہیں اور تمام مسائل کا حل استعفے میں ہے۔ ہماری خواندگی شرح بھی الحمدللہ کم از کم چوتھے آسمان کو چھو رہی ہے اور پھر ہم باقی معاملات میں بھی اصولی ہیں تو یہاں بھی ہم اصول پر کار فرما ہوکر اپنی منصف مزاجی کا ثبوت دیں گے۔۔ لہذا ہم بی اے جیسی عالمانہ شرط اورآرٹیکل باسٹھ تریسٹھ جیسی صالحانہ شق کی تائید کریں گے۔تب تک کہ جب تک اس کی آگ ہمارا اپنا دامن نہ پکڑلے۔
بہرکیف!جبرکے ایسے ماحول میں کیاہوتا ہے؟ جمشید دستی جیسےلوگ جعلی ڈگریاں بنوانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بدکرداریساسی کارکن اس جعلسازی کوبوجوہ ہضم کر جاتے ہیں۔ باکردار سیاسی کارکن اس جعلسازی کے خلاف ہوجاتے ہیں۔
دھرتی کےسچے سپوت یہی باکردار سیاسی کارکن قرار پاتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے سچ کا ساتھ دیا ہوتا ہے۔ ہرناوک ِدشنام بدکردارکارکنوں کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے سچ کوجھٹلانے کی جسارت کی ہوتی ہے۔ باکردارسیاسی کارکن کی خوش بختی یہ ہوتی ہے کہ طاقت کے سب سے بڑے مرکز کا سچ ان کے سچ میں شامل ہوتا ہے۔ بدکردار سیاسی کارکن کی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ سایہ بھی ان کی تائید سے انکاری ہوتا ہے۔یہ بدکردار کسی کو سمجھا نہیں پاتے کہ جھوٹ کی کوکھ سے جنم لینے والاسچ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ صحائف کا سہارا لے لیں تو بھی نہیں سمجھا سکتے۔انہیں ہمیشہ کی طرح صرف وقت سمجھاسکتاہے۔ مگر وقت بھی تو وقت گزرنے کے بعد آتا ہے۔ جب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا ہوتا ہے۔


