سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر کیا بحث ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایسے کمرہ عدالت سے رپورٹ کرنا جہاں ڈیڑھ سو افراد کی گنجائش ہو، اور سات سو سے زائد لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہوں، زندگی کا مشکل ترین وقت یوں بھی ہوتا ہے کہ گھٹن اور سانس لینے میں آسانی نہ رہے تو کسی بھی لمحے ہجوم کے پاؤں تلے روندے جانا کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

جب عدالت کے کمرے میں چوھری شجاعت اور ظفرالحق جیسے عمررسیدہ سیاست دان بھی صبح نو بجے پہنچ جائیں اور کوئی بھی شخص کالا کوٹ پہن کر وکیل کے بھیس میں داخل ہوجائے، عدالتی کارروائی کی الف بے سے بھی ناواقف پریس کارڈ رکھنے والا صحافی بھی ’وزیراعظم کی نا اہلی‘ کے حکم کا عینی شاہد بننے کی کوشش میں ہو تو پھر پیشہ ورانہ مجبوری کی وجہ سے رپورٹنگ کے لئے موجود ہم جیسوں کی ہی شامت آتی ہے جنہوں نے لمحہ بہ لمحہ درست معلومات ٹی وی اسکرین کے ذریعے اپنے ناظرین تک پہنچانا ہوتی ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت کا آغاز کیا تو ہرطرف دھکم پیل تھی اور عدالتی ہرکارے منت سماجت کرکے خاموشی اختیار کرنے کا کہنے پر مجبور تھے۔ سینٹرلی ائرکنڈیشنڈ نظام سے منسلک کمرے میں کئی افراد نے سانس گھٹنے کی شکایت کرتے ہوئے باہر جانے کے لئے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ہر شخص پیسنے سے شرابور تھا مگر جج مکمل سکون کے ساتھ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو سن رہے تھے جنہوں نے تفتیشی رپورٹ میں جے آئی ٹی کی جانب سے اخذ کیے گئے نتائج کے نکات عدالت کے سامنے پیش کیے۔

ابتداء نعیم بخاری نے ان الفاظ میں کی کہ ’اب یہ مقدمہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، چونکہ تفتیش عدالت کے حکم پر ہوئی ہے تو میرا مقدمے میں آنادرست نہیں ہوگا تاہم معاونت کے لئے رپورٹ کے اہم مندرجات کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے شریف خاندان نے تمام کاروبار اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت ثابت کردی ہے، وزیراعظم کی بیرون ملک ملازمت اورکمپنی کی بھی تصدیق ہوگئی ہے، رپورٹ میں گلف اسٹیل کے اثاثوں کے بارے میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں، طارق شفیع کے بیان حلفی کو جعلی قرار دیا گیا ہے، امارات کی وزارت قانون نے گلف اسٹیل کی بارہ ملین درہم میں فروخت کی تصدیق نہیں کی، لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کو جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مریم نواز کی ملکیت قرار دیا ہے، فلیٹ خریداری کی منی ٹریل اور مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ پر بھی رپورٹ میں نتائج دیے گئے ہیں، جے آئی ٹی نے وہ دستاویزات بھی حاصل کی ہیں جن سے مریم نواز کی ملکیت ثابت ہوتی ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ بیرئیر سرٹیفیکٹ پر بھی جے آئی ٹی نے قانونی رائے حاصل کی ہے اور چونکہ سرٹیفیکیٹ مریم کی تحویل میں نہیں دیے گئے اس لیے قانونی طورپر ٹرسٹ وجود میں ہی نہیں آیا۔ نعیم بخاری کاکہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ نے مریم کی ٹرسٹ ڈیڈ کا فرانزک ماہر سے معائنہ کرایا جس میں معلوم ہواکہ دو ہزار چھ میں انگریزی خطاطی کا یہ فونٹ دستیاب ہی نہیں تھا جس میں یہ تحریر کی گئی اس لیے یہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے۔ اسی طرح رپورٹ میں وزیراعظم کے موقف کو تبدیل ہوتے بتایا گیا ہے، قطری خطوط کے بارے میں وزیراعظم نے پارلیمان میں بھی کچھ نہیں بتایا تھا۔

نعیم بخاری کو کافی دیر بعد بنچ کے سربراہ نے مداخلت کرکے روکا کہ اس چیز کا جائزہ لینے کے لئے قانون شہادت میں سیکشن ایک سو باسٹھ موجود ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ مائی لارڈ، آپ درست کہتے ہیں کہ گواہ پر عدالت میں جرح ہوتی ہے تب نتائج تک پہنچا جاتا ہے، اسی لیے یہ معاملہ آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت نہ آنے کا نہیں بلکہ ’کورم نان جوڈس‘ ہے (یعنی ایسی کارروائی جو کسی عدالت کے سامنے نہیں ہوئی)۔ اس کے بعد اپنی روایتی مسکراہٹ کے ساتھ نعیم بخاری نے کہا کہ مائی لارڈ، مسکرا رہے ہیں جس کی وجہ سے میں کچھ کہنے سے ہچکچا رہا ہوں۔ اب یہ عدالت کا کام ہے کہ جے آئی ٹی کے ساٹھ روزہ کام کا جائزہ لے کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہے یا نہیں۔ پھر بولے کہ قطری شیخ کا اس پورے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ سرمایہ کاری میاں شریف اور ان کے بیٹوں کے درمیان معاملہ تھا، وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ’سورس ڈاکومنٹ‘ کا بھی ذکر کیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا یہ تصدیق شدہ دستاویزات ہیں؟ نعیم بخاری نے جواب دیاکہ دستاویزات کی نقول دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ جے آئی ٹی ایک قدم آگے بڑھی ہے اور پچاس ٹرکوں کے اسکریپ کا لکھا ہے لیکن ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ تریسٹھ کی بجائے صرف اڑتالیس ملین ریال میں بیچی گئی، اس فروخت سے حسین نوازکو صرف چودہ ملین ریال ملے، اس طرح ان کے پاس اسپانسرڈ سرمایہ موجو نہیں تھا، جے آئی ٹی نے لکھاہے کہ دوہزار آٹھ میں سعودی عرب کے الرازی بنک سے 35 ملین ریال قرض لیا گیا لیکن دوہزار نو میں بنک نے یہ قرض منسوخ کردیا۔ اس موقع پر نوٹس کو دیکھ کر نعیم بخاری نے شیخ سعید کا ذکر کیا اور پھر معاون وکیل کے سمجھانے پر عدالت سے معذرت کرلی کہ غلطی ہوگئی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ اس کے بعد جے آئی ٹی اس علاقے میں داخل ہوئی جسے گرے ایریا کہتے ہیں اور وزیراعظم کے سات لاکھ پچاس ہزار ڈالرز کا تذکرہ ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں بھی دستاویز تصدیق شدہ نہیں بلکہ سورس ڈاکومنٹ کا کہا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ رپورٹ میں وزیراعظم کو ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ کا چیئرمین بتایا گیا ہے اور اس کی دستاویز بھی موجود ہے، یہ سورس ڈاکومنٹ نہیں، حسین نواز نے یہ کمپنی سنہ دوہزار چودہ میں بند کردی، یہ دستاویز انڈیکس میں ایکس پر موجود ہیں۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ڈبل ایکس یا ٹرپل ایکس؟ ( عدالت میں موجود افراد حیران ہوکر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور جج صاحب معلوم نہیں کس طرف دیکھنے لگے)۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق وزیراعظم نے ایف زیڈ ای کمپنی سے جولائی دوہزار تیرہ تک تنخواہ وصول کی لیکن یہ تنخواہ باقاعدگی سے نہیں لی گئی۔ جسٹس اعجاز افضل نے پوچھا کہ کیا قانون کی شق اکیس کی ذیلی شقوں جی اور ایچ کے مطابق ان دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ ان دستاویزات پر وزیراعظم کے دستخط موجود ہیں، امارات کی وزارت قانون نے جے آئی ٹی کو چار معاملات پر جواب دیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے ہم رپورٹ کی دسویں جلد کو بھی کھولیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی نے دستاویزات پاکستان میں لانے کے لئے قانونی طریقہ کار اختیارکیا گیا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات جے آئی ٹی کی درخواست پر فراہم کی گئیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ خود سے فراہم کردہ دستاویزات اور تفتیشی کی لائی گئی دستاویزات کی قانونی حیثیت میں فرق ہوتا ہے۔

اس دوران جسٹس عظمت سعید کو خیال آیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء عدالت میں کھڑے ہیں اوران کے بیٹھنے کے لئے کرسی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ جونیئر وکیل بیٹھے ہوئے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم جب وکالت کرتے تھے تب ایسی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ روایات تبدیل ہورہی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وکیل سلمان اکرم راجا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کو بھی بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی۔

عدالتی وقفے کے بعد نعیم بخاری نے حسن نواز کی فلیگ شپ اور دیگر تین کمپنیوں کا رپورٹ میں ذکرکیا، قطر کے شیخ کی سرمایہ کاری سے متعلق حسن اورحسین کے بیانات میں تضاد کی بات کی اور کہا کہ سرمایہ کاری بالکل غلط اورمن گھڑت ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ رپورٹ میں سرمایہ کاری کو نہیں اس کی کہانی کو من گھڑت کہا گیا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ برطانیہ میں شریف خاندان کی کمپنیاں خسارے میں تھیں، حسین نواز کمپنیاں بنانے کے لئے سرمایہ کی فراہمی کا بتانے میں ناکام رہے، جے آئی ٹی نے کمپنیوں کے درمیان سرمائے کی گردش بھی بتائی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھاکہ رپورٹ میں سرمائے کی گردش کا بہت ذکر ہے مگر کیا یہ بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کہاں سے آیا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ رپورٹ کہتی ہے کہ حسن کے پاس سرمایہ موجود ہی نہ تھا۔

اس کے بعد نیب اور ایف آئی اے میں شریف خاندان کے زیرالتواء مقدمات کا ذکر ہوا، پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے بنانے کی بات کی گئی، نعیم بخاری نے فرسٹ لیڈی یعنی کلثوم نواز کا بھی نام لیا اور کہا کہ ان کے بارے میں رپورٹ میں نتائج اخذ نہیں کیے گئے تاہم اسحاق ڈار کو بھی آمدن سے زیادہ اثاثوں کا مالک بتایا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر جے آئی ٹی نے قطری خطوط کو افسانہ قرار دیا ہے، مریم کی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی اور ان کو فلیٹس کا مالک بتایا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر ہم مریم نواز کو مالک تسلیم کرلیں تب بھی جب تک وہ وزیراعظم کے زیرکفالت ثابت نہ ہوں تو اس کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ شریف خاندان کے کاروباری سرمائے کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں ہوئی، انہوں نے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے۔ جسٹس عظمت بولے، تو کیا ہوا؟ اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

نعیم بخاری فورا سنبھل کربولے کہ یہ عدالت پر ہے، عدالت جے آئی ٹی کی سفارشات ماننے کی پابند نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں بتائیں اس رپورٹ میں ہمارے لیے کیا ہے جو ہم کریں؟ وکیل نے کہا کہ عدالت بیانات میں تضادات سے نتائج اخذ کرسکتی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل بولے کہ اس کا مطلب ہے آپ صادق و امین پر فیصلہ چاہتے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ہل میٹل مل لگانے کے لئے شریف خاندان کے پاس سرمایہ نہ تھا، جب مل خسارے میں جارہی تھی اس وقت حسین نے اپنے والد کو اٹھاسی کروڑ بھیجے۔ اسی طرح وزیراعظم نے ایف زیڈ ای سے ملنے والی تنخواہ کا گوشوارے میں ذکر نہیں کیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے پوچھاکہ کیا اس معاملے پرقانون کے مطابق سماعت کیے بغیر فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟ نعیم بخاری بولے کہ پانامہ پیپرز فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ ضرورت محسوس کی تو وزیراعظم کو وضاحت کے لئے بلایا جا سکتا ہے، ہماری استدعا ہے کہ وزیراعظم کو بلایا جائے، ہم جرح کریں گے، ہماری استدعا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف ڈیکلریشن جاری کیا جائے۔ نعیم بخاری کے دلائل اس مرحلے پر مکمل ہوگئے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے رپورٹ کے مندرجات پڑھنے شروع کیے، پہلے دس منٹ تک تو جج خاموش ہو کر سرکھجاتے رہے پھر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ رپورٹ ہم نے بھی پڑھی ہے صرف اس بارے میں قانونی معاونت فراہم کریں کہ اس پر کیسے کارروائی کی جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے نتائج ماننا ہم پر لازم تو نہیں، یہ بتایا جائے کہ ان نتائج کے مطابق عدالت کیا فیصلہ کرسکتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج کے مطابق بظاہر وزیراعظم نا اہل قراردیے جاسکتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے نتائج کس حد تک ماننے ہیں اور اس کی کیا شرائط ہیں اس کے لئے قانونی معاونت کریں، آپ کے بظاہر کا مطلب ہے کہ بات ابھی حتمی نہیں۔ اس پرجب ہنسنے کی آوازیں ابھریں تو جماعت کے وکیل نے کہا کہ وہ شریف خاندان کے وکلاءکے دلائل کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اورامید ہے کہ ان کو اس کا موقع دیا جائے گا۔

اس کے بعد درخواست گزار شیخ رشید سامنے آئے اور وہی تقاریردہرائیں جو عموما ٹی وی پر بولتے رہتے ہیں، جج خاموشی سے سنتے رہے، (یہاں ان تمام باتوں کو دوبارہ لکھنا وقت اور تحریر کی طوالت کا باعث ہو گا)۔ شیخ رشید نے کہا کہ ساری قوم سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے، شریف خاندان رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، شیخ رشید نے کہا کہ ان لوگوں کو ایسی سزا دیں کہ تاریخ میں یاد رکھا جائے۔ شیخ رشید کی جانب سے ججوں کو جناب اسپیکر کہنے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ایک درخواست تفتیشی رپورٹ کی جلد دس کے حصول کے لئے دائر کی ہے تاکہ بہتر قانونی دلائل کے ساتھ مقدمہ پیش کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ دوسری درخواست میں جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات دائر کیے ہیں، وکیل نے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کیا اور بیرون ملک سے دستاویزات کے حصول میں قانون کی خلاف ورزی کی، بغیر کسی تصدیق کے دستاویزات کو ثبوت کہا گیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر ایک ملزم تفتیشی افسر کے سامنے اعتراف جرم کرتا ہے تب بھی عدالت نے اس کو قانون کے مطابق پرکھنا ہوتا ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک تفتیشی کی رپورٹ ہے اگرچہ یہ ٹیم نے تیارکی ہے، اس رپورٹ کے بارے میں آئین و قانون کیا کہتا ہے اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس رپورٹ میں کوئی دستاویزی ثبوت نہیں، صرف اس رپورٹ کی بنیاد پر نیب کو ریفرنس بھی نہیں بھیجا جاسکتا، جے آئی ٹی اپنی رائے دینے کا اختیار ہی نہیں رکھتی تھی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ صرف تفتیش تھی جو مکمل ہوگئی ہے اب اس رپورٹ کو دیکھنا ہو گا کہ اس کے اخذ کیے نتائج کی بنیاد پر کیا کارروائی جاسکتی ہے، عدالت کو اس پر قانونی رائے سننی ہے وکیل معاونت کریں۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو دستاویزات رپورٹ میں شامل کیں ان پر کسی کی شہادت ہی ریکارڈ نہیں کرائی۔ عدالتی وقت ختم ہونے لگا تو سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ وہ مریم اورحسن وحسین کی جانب سے پیش ہوں گے جبکہ وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے کہا کہ وہ اسحاق ڈار کی نمائندگی کریں گے انہوں نے رپورٹ پر اعتراض جمع کرایا ہے۔ مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے گیارہ صفحات کے اعتراضات میں سب سے اہم حصہ آئی ایس آئی کے اس نمائندے کی قانونی حیثیت پر سوال ہے جو جے آئی ٹی کارکن تھا۔ اعتراض میں کہا گیا ہے کہ وہ شخص آئی ایس آئی کا صرف مخبر ملازم ہے اور اس کی سرکاری حیثیت ہے نہ ہی اس کو محکمے سے تنخواہ ملنے کا کوئی دستاویزی ریکارڈ موجود ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •