لائل پوری موٹے، میں تمھیں معاف نہ کر دوں؟


میں نے پوری زندگی چاہے بہت سے غیر عقلی فیصلے کیے ہوں لیکن اس موقع پر جس سرعت سے میرے دماغ نے اس مسئلے کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے اور پھر انہی حصوں سے عقلی حل کی عمارت تعمیر کی…. قابل تعریف ہے، اس موقع پر جس فلسفیانہ انداز سے میں نے اسقرائی اور استخراجی منطق Inductive & deductive reasoning کا بھرپور استعمال کیا …. اس کی تعریف کروں گا چاہے آپ کی نظر میں اپنی تعریف خود اپنی زبان سے کرتا احمق ہی کیوں نہ لگوں ۔

میں نے سوچا کہ اس کا ایک حل فرار ہو سکتا ہے لیکن پھر خود اس کی یہ کہہ کر نفی کر دی کہ یہ بد دیانتی سی معلوم پڑتی ہے

گو کہ بدیادنتی کے حوالے سے یہ نتیجہ نکالنے میں معاشرتی اخلاقیات سے زیادہ اپنے کی مخالفین کی تعداد کا پانچ ہونا تھا۔

یعنی پکڑے جانے کی شکل میں جو زیادہ قریب از امکان ہے ستر روپے جائیں گے ، ٹھکائی بھی ہو گی ۔

دوسرا حل ان کی منت سماجت میں تھا کہ ا ن کو اپنی مجبوری بتائی جائے لیکن تھوڑی دیر پہلے ایک سفید داڑھی والے بزرگ کے ساتھ جو کچھ ہو چکا تھا اس نے اس امکان کا دروازہ بھی بند کر دیا۔

تیسرا ممکنہ حل ہی زیادہ عقلی دکھائی دے رہا تھا۔ وہ یہ کہ اپنی عزت نفس کو معصوم سرکار اور بھولے بادشاہو جیسے نشتر سے لہو لہان نہ کیا جائے ۔اور گر پیسے دینا ہی ٹھہرا تو کیوں نہ اس انداز سے دیے جائیں کہ یہ ٹرانزیکشن ایک تمکنت کے ساتھ نمٹ جائے

اور کچھ اس انداز سے دیے جائیں کہ تین ڈنڈا بردار افراد ‘ موٹا اور زیادہ موٹا ،مرعوب ہو کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جائیں۔

یہ وہ زیادہ سے زیادہ نقصان تھا جو میں اس وقت ان کو پہنچا سکتا تھا۔

یہ حتمی فیصلہ کرتے وقت میں کیک کا آخری ٹکڑا نگل رہا تھا ۔

میں اٹھا ۔ ایک کمال انداز سے کم موٹے کے پاس گیا ۔ چالیس روپے اس کی ہتھیلی پہ یوں رکھے جیسے یہ کوئی رقم ہی نہ ہو اور ان کے تاثرات دیکھے بغیر روانہ ہوا۔

میں غصہ میں نہیں تھا شاید اس کی وجہ میرے پاس اس وقت ایک ہی آپشن کا موجود ہونا تھا۔۔برداشت۔

بزدل آدمی کی اکثر و بیشتر نیکیاں عموما ایک ہی آپشن کے میسر ہونے میں مضمر ہو تی ہیں۔

میرے پاس تیس روپے بچے تھے میں اس گاڑی کی جانب گیا جو تلہ گنگ جاتی تھی اور اس کا کرایہ تیس روپے تھا۔ شو مئی قسمت کہ جو سیٹ مجھے ملی اس کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور سارا راستہ ٹھنڈی یخ ہوا لگتی رہی ۔ میں تمام راستہ ایک کمزور آدمی کے پسندیدہ مشغلے کے طور مختلف منصوبے بناتا رہا کہ ڈپٹی کمشنر بن کر اس موٹے کے ساتھ کیا سلوک کروں گا اور اگر ڈی ایس پی بن جاﺅں تو کیا اس موٹے کو کہیں زیادہ ذلیل نہیں کر سکتا ۔ بھرے مجمع میں ۔سڑک پر گھسیتتے ہوئے ۔ ذہن میں جھکڑ چل رہے تھے ۔ شیشے سے آنے والی دسمبر کی ہوا اثرانداز نہیں ہوتی تھی ۔

زندگی گزرتی چلی گئی ‘ پہلے اکثر اور بعد میں کم کم وہ موٹا مجھے یاد آتا رہا۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایس پی تو کیا بننا تھا بس ایک جعلی سا صحافی بن گیا، صحافیوں کے اثرو رسوخ کی داستانیں اپنی جگہ لیکن یہ شعبہ بھی مجھے کوئی خاص مدد نہیں کر سکتا تھا۔

میں نے زندگی میں صرف ایک بار پولیس کو ایکسپریس کا کارڈ دکھا یا اور اس کے بعد ایسا کرنے کی کبھی ہمت نہ ہوئی۔

شہر لاہور کی شبینہ محفلوں اور اس میں دلائل سے چھتیں اڑا دینے کی یادیں عمر بھر کا حصہ اور حاصل ہیں۔ ایسی ہی ایک محفل میں شرکت کی غرض سے گلبرگ جا رہا تھا اور میرے ساتھ گاڑی میں بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہمدم دیرینہ جنید یزدانی بیٹھے تھے۔ اس رات بھی حسب معمول ان کے پاس کچھ ایسے فزکس اور فلسفہ کے دلائل ہاتھ لگے تھے کہ بغیر وقت ضائع کیے اس محفل میں پہنچ کر مخالفین کے کچھ نازک حصے اپنے مضبوط دلائل سے سوجا دینا چاہتے تھے اور بحیثیت تماش بین میں بھی اتاﺅلا تھایہ منظر دیکھنے کو۔

جیل روڈ پر نہر کے پل پر ہمیں پولیس نے رکنے کا اشارہ کیا ۔

صحافتی کارڈ کی طاقت کے قصے تو میں نے خوب سن رکھے تھے لیکن کبھی استعمال کرنے کا نہیں سوچا تھا۔

پولیس والا قریب آیا تو میں نے ڈیش بورڈ سے جھٹ کارڈ نکال کر دکھایا ۔

کارڈ دیکھ کر اس کے چہرے پر مرعوبیت نمایاں ہونے کو ہی تھی کہ اس کی نظر حامل کارڈ کے چہرے پر پڑ گئی ۔ اس نے اشارہ کیا کہ آپ دونوں نیچے اتر آئیں۔ اس نے گاڑی کی سیٹیں چیک کیں۔ گاڑی کی ڈگی اور پھر ہمارے ہاتھ کھڑے کروا کرہماری ڈگیاں چیک کیں۔ لائسنس اور گاڑی کے کاغذات چیک کیے اور پھر جانے کا اشارہ کیا۔

جنید یزدانی صاحب اور میں گاڑی میں بیٹھے۔ میں نے ان کی جانب نہیں دیکھا۔ لیکن نہ جانے کن اکھیوں سے مجھے یوں لگا کہ وہ میری طرف دیکھ رہے ہیں اور ان کے چہرے پر مخصوص لاہوری طرز کی تحریر نیون سائن کی طرح چہرے پر جگمگا رہی ہے اور لکھا ہے ”لکھ لعنت ۔۔ایڈ ا توں صحافی ۔۔کھلوندا نئیں“

تو قصہ مختصر کہ صحافیانہ ٹھاٹھ باٹھ تو آپ نے دیکھ ہی لیے۔ اب موٹے کے حوالے سے کیا کیا جائے۔

تاریخ میں بہت کچھ برا ہوا ہے لیکن آپ مسلسل یہ بوجھ لیکر مستقبل کی طرف نہیں چل سکتے۔ جیسے نوے کی دہائی میں ہارس ٹریڈنگ اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے وغیرہ جیسے واقعات ہوئے۔ لیکن کئی دفعہ معاف کرنے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ آ پ اس واقعہ کو دوبارہ ہونے کے لیے راستہ مہیا کر رہے ہیں ۔

میرا خیال ہے کہ ہارس ٹریڈنگ اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے جیسے واقعات کو فی الحال معاف نہیں کرتے لیکن موٹے کو معاف کر سکتے ہیں۔

میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا، آپ سے مشورہ کر رہا ہوں ، آپ کی ذات کی خاطر معاف کر دینے کو تیار ہوں۔ وگرنہ آپ جانتے تو ہیں کہ میرے پاس آپشنز کے کس قدر ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔

کیا کہتے ہیں آپ؟ لائلپوری موٹے کو معاف کر دیا جائے؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

10 thoughts on “لائل پوری موٹے، میں تمھیں معاف نہ کر دوں؟

  • 04/03/2016 at 7:12 صبح
    Permalink

    بہت خوب وقار صاحب۔ صبح صبح دل پزیر تحریر پڑھنے کو ملی۔ آپ کی "اسقرائی اور استخراجی منطق” کا تو یہی تقاضا ہے کہ لائل پوری موٹے کو معاف کر دیا جائے ۔۔۔۔۔۔ 🙂

    • 04/03/2016 at 1:38 شام
      Permalink

      کر دیا سر ۔۔۔ بہت شکریہ ۔۔اچھا ہوا اس جھگڑے میں آپ نے مصالحت کے لیے قدم اٹھایا اٹھانے میں پہل کی
      گو کہ یہ کالم تین ماہ پرانا ہے ۔ وجاہت صاحب کی اتھاہ محبت اور ان کا شکریہ کہ انہوں نے دوبارہ لگا دیا۔
      لیکن ایک گلہ کرتا چلوں۔ آٹھ دن سے کالم نہیں لکھ سکا۔ برادر حسنین جمال سے فون پر بات ہوئی تو یہی کہہ رہا تھا کہ اچھا بھلا ایک دن کالم لکھنے بیٹھا لیکن سوچا پہلے ہم سب کے آج کے کالم پڑھ لوں اس دوران آپ کا کالم عورت عظیم ہے پڑھ لیا۔ بس اس کالم نے میری سوچ کو ایسا بانجھ کیا کہ کیا بتاوں۔ اور آپ جانتے ایسا ہو جاتا ہے بعض اوقات کہ کوئی اعلیٰ تحریر پڑھنے کے بعد آپ کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ آپ کیا کر رہے ہیں یا کیا لکھ رہے ہیں ۔۔وغیرہ وغیرہ۔

    • 04/03/2016 at 2:47 شام
      Permalink

      چلیے برادرِ محترم وقار ملک صاحب، موٹے لائل پوری کا قصہ تو ختم ہوا۔ ویسے یہ ثقافتی چَھل اور معاشی جُل فیصل آباد اور راولپنڈی تک محدود نہیں، برِ صغیر کے ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں کسی نہ کسی روپ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ خیر برسوں کے اس جھگڑے سے فراغت کے بعد اب آپ اگلا کالم لکھیے اور ‘ہم سب’ کی ضیافتِ طبع کا سامان کیجیے۔ یہ اچھی بات نہیں کہ میرا کالم پڑھ کر آپ کی سوچ بانجھ ہو گئی اور آپ آٹھ دن سے کالم نہیں لکھ سکے۔ پھر تو مجھے اس وقت تک لکھنا نہیں چاہیئے جب تک آپ پھر سے رواں نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔ 🙂

  • 04/03/2016 at 8:36 صبح
    Permalink

    میں بھی نصیر احمد نصیر صاحب سے دونوں باتوں میں متفق ہوں۔ ایک تو یہ کہ صبح صبح یہ اعلیٰ تحریر ایک اچھا شگن ہے اور دن انشاللہ مسکراتے ہی گزرے گا۔ دوسرا یہ کہ اب واقعی موٹے کو معاف کر دینا چاہئے۔

    • 04/03/2016 at 1:40 شام
      Permalink

      بہت شکریہ عاصم بخشی صاحب

  • 04/03/2016 at 9:47 صبح
    Permalink

    موٹے کو معاف کرنا ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے، ظالم کی مدد کرنے والا بھی ظلم میں حصہ دار ہوتا ہے اس لیے موٹے کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے..

    • 04/03/2016 at 1:41 شام
      Permalink

      بہت شکریہ رووف صاحب

  • 04/03/2016 at 10:39 صبح
    Permalink

    پہلی بات تو یہ کہ لائل پوری موٹا کیا اب بھی موجود ہے۔ یا آپ اسے جانتے ہیں۔ اگر موجود ہے اور آپ اس کو جانتے ہیں تو دیکھیں کہ اگر تو اس ڈگر پر چل رہا ہے تو معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اس نے اپنی روش بدل لی ہے ( جس کا امکان بہت کم ہے) تو اسے در گزر کریں۔
    باقی آپ اپنے معاملات میں آذاد ہیں۔ بقول شخصے "چاہے تو انڈا دیں اور چاہیے بچہ "

    • 04/03/2016 at 1:42 شام
      Permalink

      ہاہاہا۔۔بہت شکریہ مبین صاحب

  • 20/03/2016 at 4:57 شام
    Permalink

    Waisay Peerwadhai main tu main nay bhi 20 Rupaiy diay thay isi chakar main..1980 ki dahai k aakhri salon ki baat hai..

Comments are closed.