آئینی ذمہ داریوں سے غفلت حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک پر جو حکمران طبقہ اس وقت مسلط ہے ان کی صرف زبانیں چل رہی ہیں، زبانیں چل کیا رہی ہے بلکہ جب بھی بولنے کے لئے منہ کھول لیتے ہیں تو ہلچل مچا دیتے ہیں۔ ان کی زبانوں، کھلے منہ اور طرز گفتگو سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے قلوب پر مہر لگا دی گئی ہے۔ آنکھوں پر پردے ہیں کہ زمینی حقائق کو دیکھ نہیں پا ر ہے ہیں۔ ان کے کانوں کو بھی مہر لگا کر بند کر دیا گیا ہے اس لئے کہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے تنگ خلق خدا کی چیخیں ان کو سنائی نہیں دے رہی ہیں۔

دل و دماغ دونوں تدبر اور فکر سے خالی ہیں۔ سوچتے ہی نہیں اور نہ ہی ڈیڑھ برس میں ان کو یہ سمجھ آئی کہ اب وہ حکمران ہیں، حزب اختلاف نہیں۔ جس ریاست پر یہ مسلط ہے اس ریاست کا ایک قاعدہ اور قانون ہے جس کو ”دستور“ کہا جاتا ہے۔ حکمرانوں نے دستور کی پاسداری کا حلف بھی لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دستوری ذمہ داریوں سے نابلد بھی ہے اور حد درجہ غافل بھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک اہم دستوری ادارہ ہے۔ آئین نے حکمران کی ذمہ داری لگائی ہے کہ اس ادارے کے ارکان میں سے جب بھی کوئی ایک فارغ الخدمت ہو تو وہ حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کرکے ان کی جگہ دوسرے رکن کا انتخاب کر یں گے۔ مہینے گزر گئے مگر وزیر اعظم عمران خان نے حزب اختلاف کے سربراہ شہباز شریف سے مشاورت نہیں کی۔ اپنی طرف سے دو نام منظوری کے لئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھیج دیے انھوں نے بھی منظوری دی مگر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے ان دونوں ارکان سے حلف لینے سے انکار کیا۔

انکار کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ جن دو ارکان کا تقرر کیا گیا ہے وہ غیر آئینی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے سپیکر اور چیئرمین سینٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دستوری طریقہ کار کے مطابق حل کریں۔ مہینے ہو گئے کہ دوارکان کی تقرری کا معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ چند روز قبل چیف الیکشن کمشنر سردار رضا بھی رخصت ہو گئے۔ یوں سمجھ لیں کہ اب عملی طور یہ اہم آئینی ادار ہ غیر فعال ہے۔

اس اہم ادارے کی غیر فعالیت پر حکمرانوں کو مضطرب اور بے چین ہو نا چاہیے تھا مگر افسوس کہ وہاں اب بھی خاموشی ہے اور اس نا اہلی کو بھی اہلیت ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن کی غیر فعالیت پر حکمرانوں کو قوم سے معافی مانگ لینی چاہیے تھی اس لئے کہ وہ ایک آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔

فوج کے سربراہ کی تعیناتی کو جس طرح موجودہ حکمرانوں نے مذاق بنایا وہ ملکی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ملکی تاریخ کا اسی نوعیت کا پہلا اور آخری حادثہ اور مذا ق بھی ہو اس اہم عہدے کے ساتھ۔ سپریم کورٹ نے چھ مہینوں کی مہلت دی ہے ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ مختصر فیصلہ آنے کے بعد ہی وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر، اٹارنی جنرل کا دفتر اور وفاقی وزارت قانون متحرک ہو جاتا۔ تین دنوں تک سپریم کورٹ میں جو تاریخی خفت اٹھانے پڑی اس کو ختم کرنے کے لئے آئین اور قانون کے مطابق قانون سازی شروع کی جاتی مگر افسوس کہ سب کو اس بے عزتی کے بعد بھی تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔

سپریم کورٹ سے مہلت ملنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس اہم معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو خصوصی ذمہ داری سونپ دیتے کہ وہ حزب اختلاف سے بر وقت مشاورت کریں، قانون سازی میں ان سے تجاویز لیں اور قانون پاس کرتے وقت ان سے حمایت کی یقین دہانی بھی کرائے لیکن تاحال اس اہم معاملے پر راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کی وفاقی کابینہ کی جو نصابی ذمہ داریاں یعنی آئینی ذمہ داریاں ہیں اس کو وہ پورا کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ لیکن اس کے بر عکس غیر نصابی سرگر میوں یعنی غیر آئینی سر گر میوں میں ان کا کو ئی ثانی نہیں۔ پارلیمنٹ کا اجلاس جب بھی بلایا جاتا ہے حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں تاکہ ایوان کا ماحول خراب ہو اور سپیکر کو کارروائی ملتوی کرنا پڑے۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں سوالات کے خود جوابات دیں گے، جوابات تو دور کی بات وہ اسمبلی میں آنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔

یہ تو ان کی مہربانی ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وہ کئی مرتبہ شریک ہوئے ورنہ سینٹ تو ابھی تک ان کے دیدار سے محروم ہے حالانکہ دستور نے ان کا نام ایوان بالا رکھا ہے۔ یہ تو حالت ہے ”بڑے میاں“ یعنی وزیر اعظم عمران خان کی تو ”چھوٹے میاں“ تو ”سبحان اللہ“ مطلب وفاقی وزراء تو ”غیر نصابی سرگر میوں“ یعنی غیر آئینی سرگر میوں میں ان سے بھی آگے ہیں۔ اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء نے چپ کا روزہ رکھا ہے۔ ان کو حکومت اور حزب اختلاف دونوں سے کوئی شکوہٰ شکایت نہیں۔

وہ خاموشی سے مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ بھی ہے کہ پانچ سال بعد وہ دوسری طرف بھی جاسکتے ہیں اس لئے وہ حکمرانوں اور حزب اختلاف کے درمیان لفظی جنگ کا حصہ بننے سے اپنا دامن ابھی تک بچائے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء ہر وقت حزب اختلاف کے ساتھ سینگ اڑانے اور اپنی وزارت کے علاوہ کسی دوسرے مشغلے سے لطف اندوز ہونے کو آئینی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، اٹارنی جنرل کے دفتر، وفاقی وزارت قانون اور وفاقی وزراء نے غیر نصابی سرگرمیوں یعنی غیر آئینی ذمہ داریوں کو ترک کرکے نصابی سرگرمیوں یعنی آئینی ذمہ داریوں پر تو جہ نہ دیں تو مستقبل میں بھی کئی ادارے غیر فعال یا عدالتوں میں نہ صرف مذاق بن سکتے ہیں بلکہ حکمرانوں کے لئے درد سر بھی بن سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی اچھی طرز حکمرانی کا خواب تب ہی شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کہ وہ اور ان کی کابینہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی طرف لوٹ آئیں ورنہ مستقبل میں ناکامی اور عوامی غیظ و غضب کا سونامی ان کا مقدر ہو سکتا ہے، اس لئے کہ آئینی ذمہ داریوں سے غفلت حکمرانوں کو قوم کی نگاہ میں گرادیتی ہے جس کا نتیجہ اقتدار سے محرومی کے سوا اور کچھ نہیں ہو تا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •