ڈسکہ میں کپڑا چرانے کی ملزمہ اور داڑھی کے پیچھے چھپا جنسی تلذذ!


نفسیات کا طالب علم ہوتے کیا یہ بتاؤں کہ کسی عورت، نوعمر بچے یا معصوم جانور پر کیے گئے تشدد کے پیچھے جنسی تلذذ چھپا ہوتا ہے یا اس سفید ریش بزرگ کے نیفے کے نیچے ہوتی طبعی تبدیلی کی بابت لکھوں جو مبینہ کپڑا چور لڑکی کو جوڑے سے پکڑ کر پیچھے کی جانب لٹا رہا ہے اور پھر اس کی ماتھے پر آئی زلفوں کو پیچھے ہٹا کر غیرمحرم چہرے کو نمایاں کر رہا ہے۔

کیا اس بات پر ماتم نہیں بنتا کہ اخلاقیات عالیہ سکھانے والا مذہب جو عیبوں پر پردہ ڈالنے کی غیر معمولی جزا بتاتا ہے کے پیروکار سر بازار عورتوں پر تشدد کر رہے ہیں اور پیچھے قہقہوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔

ڈسکہ کی ویڈٰیو میں جو کچھ ہے وہ پاکستان کی زمین سے جڑی نفسیات میں کچھ انوکھا نہیں ہے۔ انسانیت کی رمق بھی کسی میں باقی ہو تو وہ ضرور ان عورتوں کی گودوں میں بچوں کی چیخیں سنیں گا۔۔۔ بدبختو وہ مائیں تھیں۔۔ تمھاری ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے اور ان بچوں کی مائیں صرف چور ہیں؟

کہا گیا کہ اگر باپ اور بیٹے کے گناہ ایک دوسرے پر آشکار ہو جائیں تو شاید وہ زندگی بھر ایک دوسرے کا منہ نہ دیکھیں ۔ زندگی کی کچھ حقیقتیں تلخ سہی لیکن حقیقتیں ہیں۔ اگر تمھاری ماؤں کی ساری زندگی ایک فلم کی مانند تمھارے سامنے چلا دی جائے تو کیا پھر بھی ماں ہی رہے گی یا اس کے قدموں کے نیچے سے جنت سرکا لو گے۔۔۔ اور لیکن ۔۔۔ تم نہیں سرکا پاؤ گے کہ یہ فیصلہ کسی اور کا ہے۔۔۔

یہ کسی اور کا فیصلہ ہے کہ تم اس سے جنم لو گے ۔۔ اور اس کے قدموں میں جنت کی تلاش کرو گے ۔۔ لیکن یہ کیا تم نے معصوم بچوں کی ماؤں کو سر بازار یوں رسوا کیا۔۔ عیبوں کو چھپانا تو درکنار ان کے بال کھینچے سر پر ہاتھ چلائے اور پھر تفنن طبع کے لیے کپڑوں کے تھان ان کے سروں پر ڈال دیے ۔۔ قہقہے لگائے ۔۔موبائل ویڈیوز بنائیں ۔۔ اور پوری دنیا کو دکھانے کے لیے سوشل میڈیا پر ڈالیں ۔۔

کیا اسی معاشرے میں عورت اپنے بچوں کے ساتھ ریل کی پٹڑی پر لیٹ کر جسموں کے ان گنت ٹکڑے نہیں کرتی ۔۔ جب عورت اپنے بچوں کے ساتھ پٹڑی پر جان دینے جا رہی تھی تو معاشرے کا نیکو کار اس وقت مسجد میں سنگ مرمر لگانے کے پیسے دے کر انا کے غبارے کو پھلا رہا تھا۔ جب عورت بھوکے بچوں کے ساتھ زہر کھا رہی تھی ٹھیک اس وقت سفید کاٹن میں ملبوس نیک حاجی صاحب چھٹے حج کی سعادت حاصل کرنے روانہ ہونے کو تھے ۔

لیکن جب یہی عورت کپڑا مبینہ طور پر چوری کرتے پکڑی گئی تو ۔۔۔ مسجد کا سنگ مرمر اور حج کی سعادت جیسی نیکیاں قد میں چھوٹی پڑ گئیں ۔۔ سب سے بڑی نیکی یہ ٹھہری کہ ماؤں کو سر بازار رسوا کیا جائے ۔

تمھاری دو گھڑی کی محفل نے ۔۔ ان خواتین کی نسلوں کو رسوا کر دیا۔ لیکن کوئی بات نہیں تمھارے عیب تو چھپے ہوئے ہیں ناں۔۔ تم تو معزز ہو۔۔ نیک ہو ۔۔ وضو کے قطرے تمھارے چہروں پر عجب رونق بخشتے ہیں۔۔ کوئی جب تمھیں نیک کہتا ہےتو تم ایک جھر جھری کا ڈرامہ کر کے عجز کا اشتہار لگاتے ہو ۔۔۔ لیکن

روز قیامت اگر تمھاری یہ ساری جھرجھریاں دھری کی دھری رہ گئیں اور تمھاری تمام نیکیوں کا پلڑا ان رسوا خواتین کے پریشان دوپٹو ں کے ایک انگل ٹکڑے کا وزن نہ سہار سکیں تو اس وقت ۔۔ لیکن اس وقت کیا؟ بہت دیر ہو چکی ہو گی نیک بزرگو!

چلیے اس کیفیت رنج میں دانشور جہاں کو یاد کریں۔۔۔

حضرت علی کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو آپ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔

آپ سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔

فرمایا۔۔غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔

فرمایا۔۔۔کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اوراپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=cYgkJA6_LUk

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik