ڈسکہ بازار سیالکوٹ میں چوری اور جہالت کا ننگا ناچ

دن رات ہی تو ٹی وی ایسی المناک خبریں چلاتا ہے۔ اب دل ناتواں بھی کب تک غم سہے دکھ محسوس کرے اور طبیعت آخر کب تلک یہاں تک آئے کہ مردہ ضمیر جاگ سکیں۔ سومیں نے بھی سوچا ارے بھئی ” مردہ ضمیر“ کے ساتھ سوتے رہو کہ آگ ابھی پڑوس میں ہے میرے گھر تک کہاں پہنچی ہے۔
ابھی دل ناتواں ” تصور جاناں ‘ ‘ میں ہی ڈوبا تھا کہ نظر سے ان ” عوامی انصاف“ کا شکار ہوتی ہوئی خواتین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر ل ہوتی نظر آئی۔ تفریح طبع مقصد تھا مگر ویڈیو چلانے کے بعد اس کو مکمل دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ ٹیلی ویژن کی خبر سننے کے بعد لگا تھا کوئی بھکاری خواتین ہوں گی دوکانداروں کے ہتھے چڑھ گئی ہوں گی۔ (چلو اگر بھکاری بھی ہوتی خواتین تو تھیں) مگر ویڈیو میں میرے انداز میں کسی نچے مڈل کلاس کی تین خواتین ہیں جو دو بچوں کو گو د میں پکڑے دوکانداروں کے ہتھے چڑھ گئی۔ قصور تھا
”کپڑا چراتے پکڑی گئیں“
سوچا اس ویڈیو کو آگے فارورڈ کرکے اپنے سوشل حلقے میں اس عوامی رویے پر رائے لی جائے۔ مگر میری غیرت نے گوارا نہ کیا۔ ضمیر مردہ میں تھوڑی ہلچل ہوئی کہ ویڈیو کے کرداروں کو گریبان سے پکڑوں اور پوچھوں بے غیرتو، لعنت ہے تم جیسے مسلمانوں پر جو سنت نبوی کو منہ کو سجا کر عورتوں کا پردہ کھینچتے ہو، انکے بالوں کو نوچ کر ان کے چہروں کو اپنے موبائلوں کے سامنے منظر بناتے ہو۔ نہ تو تم لوگوں کو اپنی عزتوں کی بھیک مانگتی عورتوں پر ترس آیا نہ ان کی گودوں میں روتے ہوئے بچوں پر رحم؛ تمہارے اپنے گھروں کی عورتیں با حیاءاور با پردہ اور جن کے کپڑے ادھیر رہے تھے کیا وہ کسی کی عزتیں نہیں تھیں؟
ارے حیاءسے بے بہرہ بزرگوارو؛ آپ نے یہ کپڑوں کے پلازے کیسے کھڑے کیے کیا آپ کی ساری کمائی حلال کی تھی۔ تو کیا ہوا کہ حرام کے مال سے ایک سوٹ چوری کر لیا گیا تو چلو ایک لمحے کو مان لیا جائے چوری ہوئی۔ کیا انصاف کی فراہمی کا طریقہ وہی تھا۔ جو تم لوگوں نے اپنایا۔ بہت غصہ تھا تو عورتوں کے وارثین کو طلب کر لیتے اور جرمانے یا سزا طے کر لیتے، کسی کے دوپٹے اتارنے کا حق تم کو کس نے دیا۔
مردانہ ہمت دکھانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے سے طاقت ور کے سامنے بھیکی بلی کیوں بن جاتے ہو۔ تمہارے یہ مسلط حکمران، تو تمہارا ملک کھا گئے کسی کرپٹ شخص کو تو آج تک گریبان پکڑنے کی ہمت تم لوگوں میں نہیں آئی، کرپٹ سسٹم کے خلاف تو تمہاری آواز نہیں نکلتی ، لے دے کر مردانگی ہے تو عورت پر۔
چہرے پر داڑھیاں سجاتے ہو ایسے مذہب کی جو سکھاتا ہے کہ روٹی چوری کرتے کوئی پکڑا جائے تو حکمران کے ہاتھ کاٹو۔ دریائے دجلہ کے کنارے کتا پیاس سے مرے تو خلیفہ ذمہ دار ، اس مذہب کے پیروکار بنتے ہو جس نے انسان کی وقعت اور پھر عورتوں کے احترام کو مقدم قرار دیا۔
افسوس صد افسوس !ایسے عوام ہر ایسے سسٹم ہر ایسے قانون پر جہاں درندے دندا ناتے پھرتے ہیں جہاں حیوان بستے ہیں جو کسی بھی لمحے کسی کو نوچ کھانے پر تیار بیٹھے ہیں کبھی توہین مذہب کے نام پر کبھی مردانگی کے نام پر؛
ہونا کیا ہے، ہونا کچھ بھی نہیں کہ ےہاں کی فصلیں اونچی اور زنجیر عدل بے آواز ہے۔ یہاں کسی کا بھٹو زندہ اور کسی کا شیر درندہ ہے۔ افسوس صد افسوس۔

