قندیل بلوچ کے پیر، ناشرا سندھو کے چھالے اور ڈسکہ کی ماں
پندرہ جولائی کو قندیل بلوچ کی برسی تھی۔ قندیل بلوچ ایک لڑکی نہیں ہے، آئینہ ہے۔ ہم کیا ہیں؟ ہم وہ ہیں جو آئینے میں اپنا حلیہ دیکھتے ہیں تو صرف منہ پھیر لیتے ہیں، ازالہ نہیں کرتے۔ آئینہ توڑ دیتے ہیں، کالک نہیں ہٹاتے۔ ہم برا مان جاتے ہیں کہ آئینے نے نشاندہی کیوں کی۔ ہماری ترتیب الٹ ہے۔ ہم کسی بھی قندیل کی ننگی رانیں دیکھ لیتے ہیں، ننگے پیر نہیں دیکھ پاتے۔ دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ کیونکہ ہمارے جرائم کا پتہ رانیں نہیں دیتیں، پیر دیتے ہیں۔ ہم اپنے جرائم کیوں دیکھیں۔ مگر دیکھنا تو پڑے گا۔ دیکھیے
قندیل بلوچ کی برسی کے دو روز بعد یعنی سترہ جولائی کو پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم ملک واپس پہنچی۔ کوئی انہیں وصول کرنے ائیر پورٹ نہیں گیا۔ جانا ہماری شان کے خلاف تھا، چلیے کوئی بات نہیں۔ ٹرانسپورٹ کا انتظام ہی کردیا ہوتا، مگر نہیں کیا۔ خواتین کھلاڑیوں کو ان کے والدین لینے آئے۔ ناشرا سندھو کو ان کے بزرگ والد موٹرسائیکل پرلینے آئے۔ موٹر سائیکل پر ہی بٹھا کر انہیں گھر لے گئے۔ اس سفید ریش والد کو سلام۔
مگر معاشرے کا کیا کیجیے۔ یعنی ہمیں یہ پورا منظر برا ہی نہیں لگا۔ کیونکہ ہم اس منظر کے پس منظر کو براطسمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنا کرداربرا نہیں لگا۔ کیونکہ ہم دوڑتی ہوئی لڑکی کو بدکردار سمجھتے ہیں۔ لڑکی اور کرکٹ؟ لاحول ولا۔ انہیں کرکٹ سے دور رکھیے کہ ان کے ہونے سے ہم اسکرین کے پردے پر کرکٹ نہیں دیکھ پاتے۔ ہم وہ سب دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں جو دماغ کے پردے پر نقش ہے۔ ایسا ہونے میں قصور انہی لڑکیوں کا ہے۔ انہیں سامنے سے ہٹایا جائے۔ ہم انہیں اس حالت میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ اگر سامنے آنے دے رہے ہو پھر تو ہم دیکھیں گے۔ اس میں اب ہمارا کوئی قصور نہیں۔ قصور لڑکی کا ہے، باہر کیوں نکلی۔ لڑکی کے والدین کا ہے، نکلنے کیوں دیا۔
ہمیں سب کچھ نظر آئے گا۔ ہمیں ناشرا سندھو کی آنکھوں امید کے جلتے بجھتے دیے نظر نہیں آئیں گے۔ موٹر سائیکل دوڑاتے والد کی سفید پلکوں پرلرزتے ہوئے خواب نظر نہیں آئیں گے۔ ہمیں ناشرا کا خستہ مکان اور یہ پھٹ پھٹیا موٹر سائیکل بھی نظر نہیں آئے گی۔ ہمیں موٹر سائیکل پر اس کا مردانہ انداز میں بیٹھنا نظر آئے گا۔ اس کا ننگا سر اور کھلے بال نظر آئیں گے۔ یہ بات تہمت لگے تو پھر ایک کام کیجیے۔ آپ ناشرا سندھو سے کسی کمپنی کے اشتہار کے لیے کنٹرکٹ سائن کروا لیجیے۔ اسٹوری بورڈ بنائیے۔ کہانی کو والد کے خوابوں کے گرد رکھیے۔ مرکزی خیال ناشرا کی جدو جہد، محنت اور کامیابی کو بنائیے۔ ناظرین کے جذبات کو ہدف بنائیے۔ ان جذبات کو جو رشتوں کے احترام سے منسلک ہوں۔
کوئی بھی ماں وہ اشتہار دیکھے تو بیٹی کی زندگی کا سفراور اپنی خوشگوار تھکن یاد آجائے۔ بیٹی دیکھے تو باپ کی طرف نگاہِ فخر اٹھ جائے۔ بھائی دیکھے تو ٹوٹ کر بہن پر پیار آجائے۔ باپ دیکھے تو آنکھیں بھیگ جائیں۔ شوٹنگ شروع کیجیے۔ ناشرا کے ہاتھ میں گیند دے کر کریز کی طرف دوڑاتا ہوا دکھائیں، اس کو وکٹ حاصل کرتا ہوا دکھائیں، وکٹ کے اطراف میں کھیلتا دکھائیں، گیند کی طرف اچھلتا ہوا دکھا ئیں، پھر اسے اپنے گھر میں بزرگ والد کے گلے لگتا ہوا دکھائیں، والد کو ماتھے پر چومتا ہوا دکھائیں، ماں کو جائے نماز سے سجدہ شکر اداکر کے اٹھتا ہوا دکھائیں، اس کی آنکھ کی نمی دکھائیں، اس پورے منظر کو اٹھاکر اسکرین کے پردے پر لے جائیں۔
اب ثناخوانِ تقدیسِ مشرق سے پوچھیے، آپ نے ناشرا پر فلمائے گئے اس اشتہار میں کیا دیکھا؟ جواب آئے گا کہ ہم نے فحاشی دیکھی۔ کیا انسان کی عقل حیرت میں نہ پڑجائے کہ اس سارے منظر میں ناظرین کو اعضا وجوارح ہی کیوں دکھائی پڑے؟ خواب اور امید کو تو چلیے چھوا جا سکتا ہے نہ ہی دیکھا جاسکتا ہے، مگر ناشرا کے ماتھے سے گرتا ہوا محنت کا پسینہ اور باپ کی آنکھ ٹپکتا ہوا خوشی کا آنسو کیوں نظر نہیں آیا۔ محنت، لگن، جدو جہد اور شفقت نظر کیوں نہیں آئی؟ سر پکڑنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ہمیں اسباب پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بنیادی طور پرمسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ میں ہتھوڑا ہے، ہر ابھری ہوئی چیز پر ہمیں کیل کا گمان ہوتا ہے۔ ہم لبِ دریا بیٹھے کانٹا بردارشکاری ہیں، اٹھتی بیٹھتی لہر میں کسی تنکے کو بھی مچھلی خیال کرتے ہیں۔ ہمارا دہیان مارا گیا ہے۔ گھر کے ماحول نے اور درس گاہ کے نصاب نے تسلسل کے ساتھ ہمارے خیال کے پردے پر نسوانی اعضا نقش کردیے ہیں۔ اس نصاب میں نقطہ ارتکاز ناف کو بنایا گیا ہے۔ ان اعضا کی مدد سے خواتین کا محدودکردار ہمیں تعلیم کردیا گیا ہے۔ اس کردار سے ایک قدم پیچھے ہٹیے تو انحراف ہے۔ ایک قدم آگے بڑھیے تو سرکشی ہے۔
ہم حیران وپریشان لوگ ہیں۔ خاتون کو دوڑتا ہوا دیکھ کر حیران ہیں کہ یہ بھاگ کیسے لیتی ہے؟ خاتون کو ہاکی پکڑ ے دیکھ کر پریشان ہیں کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ اب یہاں کسی عمل کے ہوسکنے اور نہ ہوسکنے پر تو بحث ممکن نہیں، چنانچہ ہم جائز ناجائز کی بحث کرتے ہیں۔ جائز ناجائز کی بحث میں ہماری ترجیحات آشکارا ہیں۔ ہم لڑکی کا کرکٹ کھیلنا ہی غلط سمجھتے ہیں۔ جب کرکٹ کھیلنا ہی غلط ٹھہرا تو کرکٹ کے نتیجے میں ملنے والے کسی دکھ کے ہم ذمہ دار کیسے ہوسکتے ہیں۔ تحقیر ہورہی ہے تو اچھاہی ہورہا ہے۔ انحراف کا شوق تھا، اب بھگتنے کا حوصلہ بھی کیجیے۔ اسی لیے خوابوں کے تعاقب میں دوڑنے والی بہن کہیں گرپڑے تو سرپرستوں کو بتاتی نہیں ہے۔ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلی جائے گی، شکوہ نہیں کرے گی۔ ناشرا سندھوکی تذلیل کا نظر آنا اس بات پر منحصر ہے کہ ہمیں کہیں ناشرا تو نظر آئے۔ مگر ناشراتو اپنے وجود کے پس منظر میں کہیں کھوگئی ہے۔ وجود پر بھی چھالے کون دیکھتا ہے۔ چھالوں کے پیچھے زندگی کا تپتا ہوا صحرا کون دیکھتا ہے۔ مگر دیکھنا تو پڑے گا۔ دیکھیے
پندرہ جولائی کو قندیل بلوچ کی برسی تھی۔ سترہ جولائی کو خواتین کرکٹ ٹیم کی تحقیر تھی۔ اس بیچ پندرہ اور سولہ کی درمیانی شب آتی ہے۔ یہ ایسی شب ہے جو ہر دوسرے گھر میں آتی ہے۔ مگر ڈسکہ میں کپڑے کی ایک دکان میں وہ بال بکھیرے ماتم کرتی ہوئی آتی ہے۔ بالکل قندیل بلوچ نامی ایک المیے کی طرح۔ یہ المیہ گھر گھر کا ہے۔ مگر اس کا فسانہ کسی قندیل کی مجبورمسکراہٹوں سے پھوٹتا ہے۔ یہ فسانہ خاک میں مل جائے تو ہم مطمئن ہوتے ہیں۔ کیونکہ ”فاحشہ“ کی موت فقط موت ہے، گلا گھونٹ کے ماریے یا خنجر گھونپ کر۔ اسی لیے توڈسکہ میں ہم اپنے پیٹ سے دامن اٹھاتے ہیں اور ایک گھنٹہ اس کی وڈیو بناتے ہیں۔ ہم اپنی ہی عزت کو بالوں سے گھسیٹتے ہیں اور فخر سے فیس بک پر اپلوڈ کرتے ہیں۔ ہم ننگی گالیاں دیتے ہیں اور اسے اپنا اعزاز جتلاتے ہیں۔ آخر کیوں؟ کیونکہ ہم نے چوری دیکھی، مجبوری نہیں دیکھی۔ ہم ماؤں کی گود میں روتا ہوا کمسن خواب نہیں دیکھتے۔ اس خواب کے گلے میں لٹکے ہوئے تعویذ کھول کے نہیں پڑھتے۔ ہم نے قندیل بلوچ کے ننگے پیر نہیں دیکھے، ہم نے ناشرا سندھو کے پیر کے چھالے نہیں دیکھے، تو ہم ڈسکہ کی ایک دکان میں مار کھانے والی ماں کی گود میں ننھا سا سہما ہوا خواب کیسے دیکھ سکتے تھے۔



