غربت اور غلامی ۔۔۔خاتمہ کیسے ہو؟ ۔۔۔ ایک مختصر تبصرہ

پڑھنے کے دوران جو سوالات میرے ذہن میں آتے گئے وہ آپ کے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں۔
ایمانویل کانٹ نے جو ایک اہم فلسفیانہ زاویہ دریافت کیا ہے وہ یہ ہے کہ زمان و مکان اور قانونی علت انسان اپنے وجود میں ساتھ لئے پھرتا ہے۔ جبکہ کرکیگارڈ کا وجودی فلسفہ کہتاہے کہ موضوعی حقیقت انسانی فکر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ دونوں فلسفیانہ فریم ورک انفرادیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اسکی شکل ارتقائی ہوتی ہے۔ عمومی طور پر یہ ارتقاء اس سوال پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ہم کیا جان سکتے ہیں اور جو جان سکتے ہیں اسکے ذرائع ادراک کیا ہیں؟ اس پسِ منظر میں یہ سوال بنتا ہے کہ کیا فرد کی آزادی کا ادراک ممکن ہے؟ کیا انفرادی آزادی کی مقدار اور حدود کا یقین کیا جا سکتا ہے؟

محنت کی تقسیم اور وسائل و ذرائع پیداوار کی تقسیم میں توازن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟ اس سلسلے میں آکسفیم کی حالیہ رپورٹ Economy for 99%?بہت اہم ہے۔ اس رپورٹ میں بین الاقوامی سطح پر وسائل و ذرائع پیداوار اور منافع کی غیر مساویانہ تقسیم کی روداد بیان کی گئی ہے؟ رپورٹ کے اعداد و شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آزاد منڈی کی معیشت کے قواعدوضوابط منصفانہ طور پر لاگو ہو سکتے ہیں؟
عقلیت پسندی اور تجربیت پسندی میں توازن کیونکر ممکن ہے؟ اکثر و بیشتر Rational Approach تجربیت کے آڑے آتا ہے۔آپکو یاد ہوگا کہ افلاطون اور ڈیکارٹ اول الذکر فریم ورک کو ترجیح دیتے ہیں اور جان لاک، ہیوم اور برکلے موخرالذکر کو۔ اول الذکر فریم ورک معروضی حقیقت کوخیال یا شعور کا پرتو سمجھتا ہے اور موخرالذکر فریم ورک معروضی حقیقت کو قائم باالذات سمجھتا ہے ۔
انفرادی نظام اقدار کی دلیل اس فکر پر کھڑی ہے کہ ہر فرد میں کامن سینس کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت خلقی طور پر موجود ہوتی ہے۔ لیکن پھر یہ سوال أبھرتا ہے کہ نظام اور معاشرت کیسے وجود میں آتے ہیں؟ نظاموں کیلئے عروج اور فتح جیسے الفاظ کا استعمال شاید نان اکیڈمک کہلایا جا سکتا ہے۔ ذاتی نظامِ اخلاق اور معاشی آزادی، پیداوار، پیداوار کا ماحول اور پیداواری رشتے ایسی اہم اصطلاحات ہیں جنکی تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔ ہر معاشی نظام وسائل و پیداوار ہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ذریعہ پیداوار، طریقہ پیداوار اور تقسیم پیداوار ایک نظام کو دوسرے نظام ممیز کرتا ہے۔ کیپٹلزم اور آزاد منڈی کی معیشت نے اگر ایک طرف محنت کرنے اور نت نئے پیداوار کی طرف انسان کو مائل کیا ہے تو ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس کی وجہ سے مختلف انسانی گروہوں کے درمیان معیار زندگی میں فرق بھی بڑھایا ہے ۔ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس نظام قدر نے پہاڑ، پانی اور جنگلات تک کو چٹ کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ گلیکسی کو بھی غیر متوازن کر لیا ہے۔ اسلئے کیپٹلزم کیلئے شائد اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فطرت کی بربادی کو کیسے روکا جائے اور ماحولیاتی تبدیلی سے کیسے بچا جائے؟
تہذیبی ارتقاء، کلچر اور شناخت کا کیا جائے؟ یہ ایک ایسا اہم سوال ہے کہ جسکی وضاحت کئے بغیر تنوع کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ مختلف النوع ثقافتیں انسانوں کی اجتماعی دانش کا اظہار کرتی ہیں۔ یکسانیت پسندی اجتماعی دانش کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور انسانی علم کو افلاس کا شکار کر دیتی ہے۔
بے مہار لڑائی جو معاشی سرگرمی اور پیداواری عمل کے ساتھ مسابقی اقدار اور رضاکارانہ تعاون کو منفی طور متاثر کرتی ہے کا علاج کیسے ممکن ہے؟ عدم تشدد کا ماڈل اور عدم مداخلت کی پالیسی موجود ہے مگر اطلاق کیسے ہو؟
شاید ریاستی نیشنلزم، تہذیبی نیشنلزم اور ثقافتی نیشنلزم میں فرق کرنا ضروری ہے۔ نیشنلزم کی موخرالذکر دو اقسام انسان دوستی، تنوع اور تکثیریت کے احترام سے پھوٹی ہیں جسکو جدیدتحقیق انسانی بقا کیلئے لازمی قدر قرار دیتی ہے۔ طاقت، اختیار اور لبرلزم کو انسانی آبادی کی ثقافتی اور تہذیبی اکائیوں کی شکل میں شاید بہتر سمجھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ لبرل اقدارثقافتی اور تہذیبی نیشنلزم کا حصہ ہیں۔
جبر کے محرکات اور جبر کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ اس سوال پر غور کرنے سے شاید ہمیں فرد کے حق انتخاب کو محدود کر دینے والے عوامل کا صحیح اور درست ادراک حاصل ہو جائے گا۔ کتاب میں جبر کو سمجھنے کے لئے جو مثالیں دی گئی ہیں وہ شاید محدود تصورات کا احاطہ کرتی ہیں۔
ایک اور اہم سوال شاید یہ بنتا ہے کہ اصل تنازع جمہوریت اور فاشزم کے درمیان ہے یا اختیار اورعدم اختیاری کے درمیان؟

