سچائی اور مابعد سچائی پر ایک مختصرترین نوٹ


گزشتہ کچھ عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ اب ہم سچائی کے زمانے میں نہیں، مابعد سچائی کے عہد میں جی رہے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ سب لوگ، جنھوں نے پہلے سچائی کا زمانہ دیکھا اور اب اس کے بعد کا دور دیکھ رہے، اور پھر بھی ’جی رہے ہیں‘ کسی بڑے اعزاز کے مستحق ہیں ۔ گویا یہ وہ ساونت ہیں کہ ان کے ہاں۔۔۔۔ کچھ رشتہ ہی نہیں خواب کا تعبیر کے ساتھ۔

مابعد سچائی کا سیدھاسادہ مطلب یہ ہے کہ امر واقعہ پر اس کی توجہیات وتعبیرات غالب آگئی ہیں۔ امر واقعہ بلاشبہ موجود ہوتا ہے، وہ خبر بھی بنتا ہے، جب وہ ٹھیک ٹھیک، اپنے حقیقی سیاق میں بیان میں آتا ہے تو سچائی وجود میں آتی ہے، لیکن فی زمانہ امر واقعہ اور سچائی کا ہونا، آسمان پر بجلی کی چمک کے مساوی ہے، بس پل بھر کی چمک، اس کے بعد تبصروں، رایوں، تجزیوںکی نہ رکنے والی گھن گرج۔گھن گرج بھی موزوں لفظ نہیں، چیخم دھاڑاوریلغار کہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اگر کوئی واقعی لشکر موجود ہے تو وہ میڈیائی مبصرین کالشکر ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقت اور ہر طرح کا ہتھیار ہے، کچھ ہتھیار ان کے اپنے ہیں، اور زیادہ تر ان سے حاصل کیے گئے ہیں جن کے پاس ہتھیاروں کا وافر ذخیرہ ہے۔روایتی ہتھیاروں کا زمانہ لد گیا، اب نہایت نفیس اور آسانی سے سمجھ میں، اور گرفت میں، اور رسائی میں نہ آنے والے ہتھیاروں کا زمانہ ہے۔ یہ سب نفیس اور نئے ہتھیار اس لشکر کے پاس ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سچائی کا خاتمہ نہیں ہوا، سچائی پسپا ہوئی ہے، جب لشکر ہوگا تو سچائی پسپا ہی ہوگی۔ سچائی کا پسپا ہونا دراصل غیرجانب داری سے عقلی و منطقی گفتگو کے امکان کو معدوم کرڈالناہے۔ اس وقت ہم میڈیا میں جتنی باتیں، بحثیں، تبصرے، رائیں، سن رہے ہیں، وہ عقل کے خاتمے کی علامت نہیں، بلکہ عقل ومنطق کے خاص استعمال کے سبب ہیں۔ بہ ظاہر آپ کو ایک قسم کا پاگل پن لگتا ہے، اور ہمارا ملک ایک بڑا پاگل خانہ محسوس ہوتا ہے، جہاں جس کے منھ میں جو آئے ہو کہہ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ پاگل پن نہیں، عقل وسمجھ کا آسانی سے سمجھ میں نہ آنے والا استعمال ہے۔سادہ لفظوں میںاس عقل کا آمرانہ اور من مانا استعمال ہے، جو ہر عام، نیم خواندہ شخص کے پاس ہے۔جی ہاں، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ آدمی اپنی عقل کو سو طرح سے استعمال کرسکتا ہے۔ اقبال نے عشق کے مقابلے میں، عقل کی عیاری کی بات کی تھی( موازنے میں یہی بڑی خرابی ہے) اصل میں عقل عیار نہیں ہوتی، صاحب عقل عیار ہوتا ہے۔ عقل عیار ہوکر بھیس نہیں بدلتی، صاحب عقل اپنے مخصوص جذبات کے دھاگے سے بھیس تیار کرتا ہے اور بے چاری عقل کو مڑھ دیتا ہے۔

غیر جانب داری کا لفظ کلیشے بن گیا ہے، اور اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب پلے نہیں پڑتا۔ اس کی جگہ اگر ہم ’جذباتی انقطاع‘یعنی Emotional Disassociationکا لفظ استعمال کریں تو شاید ہم اپنی بات واضح کرسکیں۔ آج پانامہ سے لے کر باقی واقعات پر جتنا کچھ سننے، دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے، اس میں یہی جذباتی انقطاع نہیں ہے۔ اس کی غیر موجود گی میں ہم کسی واقعے یا سچائی پر عقلی گفتگو کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ مفاداتی وابستگی بھی مضرہوتی ہے، لیکن کسی شخص یا نظریے سے جذباتی وابستگی ہولناک طور پر خطرناک ہوتی ہے۔مفادات پورے ہوجائیں تو مفاداتی وابستگی ختم ہوجاتی ہے، اور اپنے پیچھے ایک اخلاقی بد اعمالی کا نشان چھوڑ جاتی ہے ۔ادھر جذباتی وابستگی آدمی کو عقلی طور پر چالاک اور حقیقی طور پر عیار بنادیتی ہے۔ آدمی کے پاس خالی دلیل ومنطق نہیں، دلیل ومنطق کا بارود آجاتاہے۔ ایسے آدمی کابیان کم سے کم لفظوں میں apocalypticہوتا ہے۔قیامت آئی کہ آئی، دنیا کے آخری دن آن پہنچے ہیں۔ یہ ہے وہ نتیجہ جو جذباتی انقطاع کے نہ ہونے سے، اور جذباتی وابستگی کے شدید ہونے سے، اور منطق و دلیل کو بارود بنانے والوں، یعنی مابعد سچائی کو ممکن بنانے والوں کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے۔ قیامت آئے نہ آئے، قیامت کے آثار پیدا کرکے کچھ لوگوں کی دنیا ضرور سنور جاتی ہے۔

جذباتی انقطاع ہمیں سچائی کے قریب کرتا ہے، گویا امر واقعہ پر آزادانہ، معروضی گفتگو کو ممکن بناتا ہے۔ بلاشبہ یہ گفتگو ایک قسم کی ہوتی ہے، نہ کسی امر واقعہ کا واحد بیان ممکن ہے، مگر یہ مختلف زایوں سے کی گئی گفتگو دراصل ایک امرواقعہ کو سمجھنے کے لیے ہوتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ دو طرح کی تعبیرات ہیں۔ ایک سمجھنے کے لیے، دوسری حکم لگانے کے لیے۔ ایک کی زبان میں وہ عجز و انکسارہوتا ہے جو چیزوں کو حقیقی طور ہر جاننے کی جستجو کا زائیدہ ہوتا ہے اور دوسری کی زبان میں وہ تحکم ہوتا ہے جو خود کو ہمیشہ سچا سمجھنے کے التبا س کا نتیجہ ہوتاہے؛ ایک کی زبان حوالہ جاتی، حقائق کے قریب ہوتی ہے، جب کہ دوسری کی زبان میں اسم صفات سے لے کر طنز وتعریض وملامت و نفرت کا بے محابا استعمال ہوتا ہے، جس کا مقصود لوگوں کو امر واقعہ میں سمجھنے کے عمل میں شریک کرنا نہیں، انھیں اپنے نظریے یا مﺅقف کے لیے ایندھن بنانا ہوتا ہے۔ جسے مابعد سچائی کہا جا رہا ہے، وہ دوسری قسم کی تعبیرات ہیں۔ شاید انھی کے بارے میں سلیم کوثر نے کہا ہے:

دیکھتے کچھ ہیں دکھاتے ہمیں کچھ ہیں کہ یہاں

کچھ رشتہ ہی نہیں خواب کا تعبیر کے ساتھ

Facebook Comments HS