کیا لبرل میاں صاحب کو بچانا چاہتے ہیں؟
آج کل پاناما اسکینڈل کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک شوشہ چھوڑا جارہا ہے کہ جب پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر لگے کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کو ہیں اور اُنکے بطور وزیراعظم نا اہل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا لبرل طبقہ جمہوریت کے نام پر انھیں بچانے میدان میں اتر آیا ہے۔ جبکہ ڈیڑھ سال سے جاری پاناما اسکینڈل اچانک اِن لبرلز کو جمہوریت کے خلاف سازش لگنے لگا ہے۔ آج اِن لبرلز کو اچانک اِس سارے ہنگامے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نظر آنے لگی ہے۔ اِس لبرل طبقے کی جانب سے میاں صاحِب کے حق میں دلیلوں کے ایسے انبار لگائے جارہے ہیں کہ جیسے اِس ملکِ خداد میں میاں صاحب جیسا جمہوریت کا علمبردار اور صادق اور امین کوئی ہے ہی نہیں۔
میرا نہیں خیال لبرل پر اِس طرح کی تنقید کرنے والا طبقہ لبرل ازم کی درست تعریف سے آگاہ ہے۔ لبرل ازم ایک ایسی قوت کا نام ہے جسے غیر منطقی باتوں اور بنا دلائل سے سمجھایا نہیں جاسکتا۔ بات میاں صاحب کی حمایت یا مخالفت کی نہیں ہے۔ بات زمینی حقائق کا ادراک رکھتے ہوئے عوامی مفاد کو ترجیح دینے کی ہے۔ جہاں تک لبرل طبقے کی بات ہے۔ ایسے کتنے لبرلز ہیں جو پی ٹی آئی کے سپوٹرز ہیں۔ لیکن ایک حقیقی اور سچا لبرل وہ ہوتا ہے جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر عوامی مفاد کے لیے سوچے۔ یاد کیجئے اور بتائیے 2014ء کے دھرنے میں کس نے آپ کا ساتھ دیا تھا؟ اُس وقت کتنے لبرلز تھے جو میاں صاحب کے ساتھ کھڑے تھے؟ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ اصل فائدہ کسے پہنچا؟ غریب عوام کو کیا حاصل ہوا؟ ارے جناب غریب امیر سب کو چھوڑئیے یہ بتائیں اِس سارے کھیل میں آپ کی جماعت کو کیا فائدہ پہنچا؟ فائدہ پہنچا یا مزید نقصان سے دوچار ہونا پڑا؟ آپ نہ بھی بتائیں حقائق سب کے سامنے ہیں۔
آج جو لوگ لبرلز پر تنقید کر رہے ہیں اُن میں کچھ کا تعلق براہ راست پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ جبکہ کچھ وہ لوگ ہیں جو تبدیلی کے نعرے کے پیچھے پچھلے آٹھ دس سالوں سے ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ یہ دونوں گروپس انتہائی جانبداری کے ساتھ عمران خان کے پیچھے کھڑے ہر وقت عوام کو یہ بتانے اور جتانے میں مصروف ہیں کہ عمران خان ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو ملک و قوم کے نجات دہندہ ہیں۔ جو ملک سے کرپٹ نظامِ سیاست کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرکے عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں نکال سکتے ہیں۔ جس کے لیے اُن کا ایک بار وزیراعظم بننا انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ وہ ملک کے با اختیار سربراہ ہوکر یہ سب کام سرانجام دے سکیں۔
اب ان تبدیلی کے خواہوں کو کون سمجھائے پاکستان کی تاریخ میں وزیراعظم کبھی با اختیار ہوا ہے؟ تاریخ گواہ ہے جب بھی کسی وزیراعظم نے با اختیار ہونے کی کوشش کی یا تو وہ سولی پہ لٹکا یا پھر کسی نہ کسی اسکینڈل کی آڑ میں خاموشی سے گھر بھیج دیا گیا۔ با اختیار ہونے کے لیے خان صاحب کو اپنی جماعت سے لاتعلقی اختیار کرکے کہیں اور بھرتی ہونا ہوگا۔
ایک وقت تھا جب میں بھی اِن تبدیلی خواہوں کے ساتھ خان صاحب کےلیے یہی جذبات رکھتا تھا۔ 2013ء کے الیکشن مہم کے دوران میں نے متعدد کالم پاکستان تحریک انصاف اور خان صاحب کے حق میں لکھے۔ حالانکہ میں یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت عمران خان کا اقتدار پر براجمان ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ نظام صرف دو جماعتوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ لہذا اقتدار پر کوئی تیسرا کیسے براجمان ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوسکتا تو خان صاحب آپ کو پارٹی بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہ کام بہت پہلے غریب و متوسط طبقے سے ابھرنے والی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کرچکی ہوتی۔
لیکن باوجود اِسکے 2013ء کے الیکشن میں قومی جذبے کو ابھارنے کے لیے میں نے خان صاحب کے حق میں اِس لیے لکھا کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے۔ اُس وقت تبدیلی کے خواہ عوام کا جذبہ واقعی دیکھنے لائق تھا۔ لیکن افسوس انتخابی نظام کے حوالے سے ہماری پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی۔ عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے بیچ و بیچ خان صاحب کی سیاسی کشتی سونامی میں بہہ گئی۔ اور وہ صرف خیبر پختونخواہ میں ہی اپنی ڈوبتی نیا بچا پائے۔ جو کہ وہ بھی میاں صاحب کے مرہونِ منت تھی۔ اُس وقت میاں صاحب چاہتے تو جے یوآئی ف سے جوڑ توڑ کرکے خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت بنا سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور خان صاحب کو حکومت یہ سوچ کر دان کردی کہ شاید خان صاحب احسان مند رہیں۔ اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے الیکشن میں پیپلزپارٹی کے متبادل کے طور پر آسکیں۔
لیکن بدقسمتی سے خان صاحب کے نا اہل مشیر ان کے دماغ میں یہ ڈر بٹھا چکے تھے کہ خان صاحب کے پاس وقت بہت کم ہے۔ لہذا انھیں 2018ء کا بالکل انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بس پھر کیا تھا خاں صاحب نے بجائے کے پی کے حکومت کو مثالی بنانے کے میاں صاحب کے خلاف دھاندلی کا الزام لگا کر ایسا محاز کھولا کہ دونوں جانب سے آج تک لے تیری کی دے تیری کی، جاری ہے۔
اُس وقت خان صاحب سیاسی بصیرت مظاہرہ کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ پر مکمل توجہ دیتے اور صوبائی حکومت کو دیگر صوبوں کے لیے بطور مثال پیش کرتے تو یقیناً آج خان صاحب کی جماعت پیپلزپارٹی کے متبادل کے طور پر میدان میں ہوتی۔ لیکن خاں صاحب نے اپنا پورا وقت میاں صاحب کی کردار کشی میں صرف کردیا اور آج خالی ہاتھ کھڑے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر خان صاحب کی اِس سیاسی حماقت پر افسوس ہوتا ہے۔
آج بھی وہ پاناما اسکینڈل کی آڑ میں میاں صاحب سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بجائے انھیں عدلیہ سے سزا دلوانے پر زور دیا جائے لوٹا ہوا پیسہ واپس قومی خزانے میں جمع کرایا جائے۔ پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی میڈیا پر آکر میاں صاحب کو مشورہ دیتے ہیں کہ اِس سے پہلے عدالتی فیصلہ آجائے وہ استعفا دیدیں۔
لبرلز پر تنقید کرنے والے خود ہی بتائیں میاں صاحب کے صرف استعفا دینے سے پاکستان کے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟ جب تک انھیں نا اہل قرار دے کر خاندان سمیت تاحیات سیاست پر پابندی نہ عائد کردی جائے۔ لوٹا گیا پیسہ ان سے واپس نہ لے لیا جائے۔ اگر ایسا ہے تو بیشک ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن میاں صاحب سے صرف استعفا لےکر نئے الیکشن کرانا مقصود ہے۔ تو پھر جان لیجیے کھلے الفاط میں کہتے ہیں۔ اِس بار ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں آپ کے ساتھ نہیں۔ اور آپ سے بھی یہی کہیں گے چہرے نہیں نظام بدلنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ کیونکہ صرف چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک کہ نظام نہ بدلا جائے۔


