کپتان ہمیشہ صرف ٹیم کے لئے ہی کھیلتا ہے
عمران خان کے چند اندھے مخالف یہ واویلا کر رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کو آف شور کمپنیوں کے معاملے میں پھنسا کر نا اہل کرنے کی کوشش میں اب عمران خان خود پھنس گئے ہیں اور نا اہل ہونے کے قریب ہیں اور الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت اپنی پارٹی کے عہدے سے بھی الگ ہو جائیں گے۔ حالانکہ کوئی ذی شعور شخص اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کرے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان نے یہ سب کچھ خوب جانتے بوجھتے کیا ہے۔ لیکن معاملہ سمجھانے کے لئے ہم پہلے تاریخ سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذات کے لئے کبھی کچھ نہیں کرتے بلکہ اپنی ٹیم کو فوقیت دیتے ہیں خواہ اس کے لئے انہیں کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے اور اپنی ٹیم کو بظاہر کیسے ہی آمرانہ انداز میں کیوں نہ چلانا پڑے۔
یہ جنوری 1983 کا ایک خوشگوار دن تھا۔ جاوید میانداد کریز پر کھڑے تھے۔ ان کا سکور 280 تھا۔ وہ نہ صرف ٹرپل سینچری کرنے بلکہ سر گارفیلڈز سوبرز کا 365 رنز کا ریکارڈ توڑنے کے قریب تھے۔ اچانک سٹیڈیم میں بھنبھناہٹ گونجنے لگی۔ شور زیادہ ہوا تو جاوید میانداد اور بھارتی کھلاڑیوں کی نگاہیں پویلین کی جانب اٹھ گئیں۔ عمران خان پاکستان کی اننگز ڈیکلئیر کرنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد کرکٹ کے کیرئیر کے آخر تک جاوید میانداد اور عمران خان کے تعلقات کبھی نارمل نہ ہو سکے۔ عمران خان نے کبھی اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے جاوید میانداد کو پیغام کیوں نہیں بھیجا کہ وہ جلد از جلد اپنی ٹرپل سینچری مکمل کر لیں بلکہ یکلخت ایسا ڈنڈا کیوں چلایا۔
جاوید میانداد کی تلخی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب 2004 میں ملتان ٹیسٹ میں بھارتی کپتان راہل ڈریوڈ نے اس وقت اننگز ڈیکلئیر کی جب سچن ٹندولکر کا سکور 196 تھا، تو میانداد نے اکیس برس پرانے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا ’میچ کے دوسرے دن کسی نے ڈیکلریشن کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ کپتان نے اپنے پلان کے بارے میں کچھ نہیں کہا بلکہ اشارہ تک نہیں کیا۔ میرا خیال تھا کہ میں ورلڈ ریکارڈ بنا لوں گا مگر جب ڈیکلیریشن ہوئی تو میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سوالات پوچھے مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ انہیں اسے (ٹندولکر کو) ڈبل سینچری کرنے دینا چاہیے تھی۔ وہ ایک گھنٹہ نہیں مانگ رہا تھا۔ چھے سکور بنانے میں اسے کتنے منٹ لگتے؟ ‘
عمران خان نے کبھی اپنے الفاظ سے میانداد کے اس شکوے کا جواب نہیں دیا۔ کپتان نے اپنے عمل سے جواب دیا۔ دسمبر 1991 میں سری لنکا اور پاکستان کا میچ ہو رہا تھا۔ کپتان اس وقت 93 سکور پر بیٹنگ کر رہا تھا۔ اس نے اننگز ڈیکلئیر کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس نے بتا دیا کہ ٹیم کا معاملہ ہو تو وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا خواہ اس کی اپنی سینچری ہی کیوں نہ ہو سکے۔ ہر ذی شعور شخص یہ بات مانے گا کہ یہ میچ ڈرا ہو گیا تھا مگر کپتان نے جیتنے کی کوشش تو پوری کی تھی۔
کپتان کا فلسفہ ہے کہ پلئیر اہم نہیں ہوتا ہے، بلکہ ٹیم اہم ہوتی ہے۔ خواہ جاوید میانداد جیسا سپرسٹار ہو، یا جسٹس وجیہہ الدین جیسا صاف شفاف شخص، جہاں بھی ٹیم کے مفادات کو زک پہنچے گی تو اسے کریز چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ جب کپتان خود اپنی وکٹ کو اہمیت نہیں دیتا ہے تو دوسرے کھلاڑی کس شمار قطار میں ہیں۔
اب اس لندن کے فلیٹوں کے معاملے پر بھی کپتان کو پہلے دن سے علم تھا کہ میاں نواز شریف ہی کی طرح وہ بھی منی ٹریل نہیں دے سکتا۔ اسی لئے اس نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر میاں نواز شریف سے قوم کی جان چھڑانے میں اسے اپنی اننگز کو خیرباد کہنا پڑے تو وہ کہہ دے گا۔ کپتان کو یہ علم بھی تھا کہ آئین کی دفعات باسٹھ تریسٹھ کے تحت میاں نواز شریف جس وقت بھی چاہیں اسے نا اہل قرار دلوا سکتے ہیں کیونکہ ٹیریان کی ولدیت اور سپردگی کے معاملات میں صرف امریکی عدالت کے فیصلے کی کاپی جمع کروانا ہی کپتان کو آؤٹ کر دے گا۔
آئین کی دفعہ باسٹھ صادق اور امین ہونے کے علاوہ اچھے کردار کا حامل ہونے، احکام اسلام سے انحراف میں شہرت نہ ہونے اور پارسا ہونے کی شرط بھی لگاتی ہے۔ مگر کپتان نے ٹیم کی خاطر اس کی پرواہ نہیں کی کہ وہ اپنی سینچری بنا لے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ کپتان وہی کرتا ہے جو وہ کہتا ہے۔
کپتان خوش ہے کہ اس نے خود یقینی نا اہلی کا شکار ہوتے ہوئے بھی نہ صرف میاں نواز شریف بلکہ ان کے پورے خاندان کو بھی ممکنہ نا اہلی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اب خواہ کپتان ٹیم میں رہے یا الیکشن کمیشن ادھر سے بھی نکال دے، مگر جیت حق ہی کی ہو گی۔
انشا اللہ جلد ہی 2018 میں اگلے الیکشن ہوں گے اور شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کی طرف سے وزیراعظم بنیں گے۔ ان پر غیر ملکی فنڈنگ یا جائیداد یا ٹیکس چوری کا الزام لگانا ممکن نہیں ہے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی مزارات کی آمدنی اور مریدوں کے نذرانوں پر ٹیکس نہیں لگتا ہے اور تحریک انصاف کے اس وزیراعظم کو اس طرح سے مسلم لیگی نہیں گھیر سکیں گے جس طرح انہوں نے کپتان کو گھیرا ہے اور خود گھیرے میں آئے ہیں۔
میاں صاحب، کپتان نے اپنی وکٹ گنوا کر شاہ محمود قریشی کو اپنے طور پر وزیراعظم بنوا دیا ہے۔ آپ ہار گئے ہیں۔ اگر پاناما کے کیس میں کسی معجزے سے بچ بھی گئے اور وزیراعظم کی سیٹ پر رہے، تو پھر بھِی آپ کا دل تو جانتا ہی ہے کہ اخلاقی فتح کپتان ہی کی ہوئی ہے۔ کپتان واقعی ٹیم کے لئے کھیلتا ہے۔ خود غرض ہوتا تو شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم بنانے کے لئے چار برس تک اتنی محنت کیوں کرتا؟


