کیا دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی طریقہ ہے؟

ملٹری یا پیرا ملٹری دستے دشمن کے فوجی دستوں سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ان کی ایک اپنی الگ دنیا ہوتی ہے جس میں شہریوں سے ان کو دور رکھا جاتا ہے۔ وہ سویلین پولیس کے انداز میں شہریوں کا حصہ بن کر ان میں اچھے برے نیک بد کی شناخت کرنے کی نہ تو تربیت رکھتے ہیں اور نہ ہی صلاحیت۔ کسی علاقے پر دشمن کے فوجی دستے قبضہ کر لیں اور سویلین انتظامیہ کو ہتھیار کے بل پر شکست دے دیں، تو پھر انہیں فوج ہی شکست دے سکتی ہے۔ مگر شکست دینے کے بعد زندگی کو رواں دواں کرنا اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانا سویلین انتظامیہ کا کام ہوتا ہے۔
اگر سوات میں فوجی آپریشن کے بعد صوبائی حکومت یہ نہیں کر سکی، یا سندھ میں تین دہائیوں سے رینجرز کے بغیر جرائم میں کمی کو ممکن نہیں بنایا جا سکا، تو اس کے لئے سویلین حکومت کو زیادہ قصور وار سمجھا جانا چاہیے۔ کس نے منع کیا ہے صوبائی حکومتوں کو کہ وہ پولیس میں بھرتی نہ کریں اور اسے جدید آلات اور تربیت فراہم نہ کریں؟
ہمارے سامنے ایک امریکی ادارے کی پاکستان میں پولیس ریفارمز کے بارے میں 2011 میں تیار کی گئی ایک رپورٹ ہے جو بتاتی ہے کہ پنجاب میں ہر ایک لاکھ شہریوں کے لئے 183 پولیس ملازمین موجود ہیں، سندھ میں 195، پختونخوا میں 261 اور بلوچستان میں 574۔ رپورٹ کے یہ اعداد و شمار بظاہر اتنے برے نہیں ہیں لیکن بدقسمتی سے پولیس اہلکاروں میں سے ایک نمایاں تعداد وہ ہے جو مختلف اکابرین کی حفاظت اور پروٹوکول کے فرائض سرانجام دے رہی ہوتی ہے یا دفتری امور کی انجام دہی پر متعین ہے۔ یعنی عوام کی حفاظت کے لئے اس سے آدھا نمبر ہی سمجھا جانا چاہیے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عام حالات والے ایک ملک میں ہر ایک لاکھ شہریوں کی حفاظت کے لئے 222 اہلکار موجود ہونے چاہئیں جبکہ ہمارا ملک ایک عام حالات والا نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے۔
امریکی ادارے کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں پولیس ریفارمز کے حامی افسران کی جانب سے کیے گئے تجزیے کے مطابق ناتجربہ کار جونئیر افسران تھانہ چلا رہے ہیں جو اس کام کے لئے کوالیفائیڈ نہیں ہیں اور عام پولیس اہلکاروں کو ایک دن میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے۔ پنجاب میں 2011 میں ایک لاکھ ستر ہزار پولیس اہلکار موجود تھے مگر صرف 82 ہزار ہتھیار اور 5 ہزار بلٹ پروف جیکٹیں موجود تھیں۔ آپ کا شاید خود بھی مشاہدہ ہو کہ پولیس سائل سے ہی اپنی گاڑی کا پیٹرول ڈلوانے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ حکومت اس کو یہ وسائل فراہم کرنے سے انکاری ہے۔
پولیس کو اگر فعال کرنا ہے تو اسے سیاسی اثر سے بھی آزاد کرنا ہو گا۔ بھرتیاں میرٹ پر کرنی ہوں گی۔ یہ یقینی بنانا ہو گا کہ قانون امیر غریب، حاکم محکوم سب پر یکساں لاگو ہو۔ اگر ہمارے بڑے بڑے لیڈروں کے ڈیرے اشتہاری مجرموں کی پناہ گاہ بنے رہیں اور پولیس انہیں ہاتھ لگانے سے بھی قاصر ہو، تو پھر جرم کا خاتمہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ ایک افسر کو ریاست اور قانون کا تابع ہونا چاہیے، حاکمِ وقت کا نہیں۔ عدالتی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ پولیس جسے پکڑے، جج اسے بے خوف ہو کر جلد از جلد سزا بھی دے سکے۔
یہ تو پولیس کا ادارہ تھا جسے مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد باری آتی ہے دہشت گردی کی نظریاتی جڑ کی۔ دہشت گردی کی بنیاد اس سخت گیر مذہبی تعلیم کے ذریعے دی جا رہی ہے جو بیشتر اوقات میں حکومت کے کنٹرول میں ہی نہیں ہے۔ کیا مدرسے کے نصاب کی تدوین اور ٹیچنگ میں حکومت کا کوئی خاص کردار ہے؟ کیا سکولوں کے نصاب کے ذریعے رواداری کی تعلیم دی جا رہی ہے اور بچوں کو انتہاپسند مذہبی تعبیر سے دور رکھنے کے لئے کچھ کیا جا رہا ہے؟ مختلف دروس کا جو رواج چل پڑا ہے، جن میں یونیورسٹی کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ جا رہے ہیں، کس حد تک انتہا پسندی کی تعلیم دے رہے ہیں؟ کراچی میں صفورا گوٹھ اور امریکہ میں تاشفین ملک کے دہشت گردی کے واقعات میں انتہاپسندی کے بیج کی آبیاری انہیں دروس سے ہوئی تھی۔ کیا حکومت اس سلسلے میں کچھ کر رہی ہے؟ کیا شدت پسندی کی تعلیم دینے والوں کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے اور انہیں اس کام سے روکا جا رہا ہے؟
ان سوالات کے جوابات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، تو پھر مذہبی تعلیم، منبر اور محراب حکومت کے کنٹرول میں کیوں نہیں ہیں؟ کیوں ہر شخص اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے؟ اس کام کی اجازت تو ایک سیکولر ریاست میں ہوتی ہے جہاں مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ سمجھا جاتا ہے، ایک اسلامی جمہوریہ میں تو اس کی ہرگز بھی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
یہ سب کام سویلین حکومت کے کرنے کے ہیں۔ لیکن وہ نہ تو پولیس کو ایک جدید، اعلی تربیت یافتہ اور طاقتور فورس بنا رہی ہے اور نہ ہی دہشت گردی کی نظریاتی نرسری کو تباہ کر رہی ہے۔ تو کیا پھر دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے؟ سویلین حکومت کا ڈان لیکس میں مبینہ شکوہ تو سنا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر ہونے والے سٹریٹ کرائم اور چوری ڈاکے کو کنٹرول کرنا یا پولیس میں بھرتی کرنا بھی اس کے بس میں نہیں ہے؟
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کیا ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا؟ فی الحال تو حکومتی اقدامات یہی کہہ رہے ہیں کہ ”ہماری طرف سے ناں ہی سمجھیں“۔

