حکومت میں اورنگ زیب عالمگیر کی واپسی


آج صبح ٹی وی پر چلنے والے  پروگرام سے علم ہوا کہ کراچی میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے افسران کے احکامات پر وہاں کے ایک ثقافتی مرکز کی دیواروں پر پینٹ کی گئی تصاویر پر سیاہی پھیر دی گئی۔ شاید آپ سمجھ رہے ہوں کہ ان میں وینا ملک یا میرا کو مخصوص انداز میں پینٹ کیا گیا تھا۔ جی نہیں۔ یہ پینٹنگ عبدالستار ایدھی، امجد صابری قوال اور کئی دیگر مشاہیر کی تھیں۔

مشہور واقعہ ہے اور اسے ابن انشا نے بھی بیان کیا ہے۔ اورنگ زیب کی فنون لطیفہ سے نفرت آمیز پابندیاں دیکھتے ہوئے موسیقاروں نے ایک جنازہ تیار کیا۔ جنازے کا جلوس جا رہا تھا کہ دیکھ کر اورنگ زیب نے پوچھا کہ کس کا جنازہ ہے؟ علم ہوا کہ مدھر سر بکھیرنے والے سازوں کا جنازہ ہے اور انہیں دفنانے کے لئے لے جایا جا رہا ہے۔ اورنگ زیب نے خوش ہو کر کہا اتنا گہرا دفن کرنا کہ پھر دوبارہ نہ نکل سکیں۔

انتہا پسندی کی ترجمانی کے لئے مشہور کراچی کے ہی ایک روزنامہ کا بھی یہی دستور ہے کہ اگر اسے کوئی تصویر اپنے اخبار میں چھاپنا پڑے تو تصویروں کو دھندلا کر دیا جاتا ہے۔ کراچی تو پنجاب سے بھی آگے نکل گیا۔

پنجاب میں انتہا پسندوں کی فرمائش پر ابھی تک صرف میلوں ٹھیلوں اور دیگر سماجی تقریبات پر پابندی لگائی گئی ہے۔ مسلمانوں کی بزرگ شخصیات کے مزارات پرصدیوں سے جاری عرس و میلے جن کی تقریبات ہفتوں جاری رہتی تھیں۔ ان پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کا میلہ، لاہور میں میلہ چراغاں، اور پنجاب کے دیگر سینکڑوں مقامات پر لگے یہ میلے اب علانیہ و غیر علانیہ حکومتی پابندی کی نظر ہو چکے ہیں۔

لاہور کے فورٹریس سٹیڈیم میں بھی ایک میلہ لگا کرتا تھا جہاں پنجاب بھر سے شوقین حضرات اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اب وہ بھی بند ہو چکا ہے۔ لاہور میں ہی بسنت میلہ ایک بین الاقوامی تہوار بنتا جا رہا تھا لیکن حکومت کو بسنت میلہ کا یوں بین الاقوامی تہواروں میں شامل ہونا پسند نہیں آیا۔ خادم اعلیٰ نے اس پر پابندی لگا دی۔ بلکہ پتنگ اڑانے پر ہی پابندی لگا دی۔

حکومتی سرپرستی میں ہر ضلع میں جشن بہاراں کا اہتمام کیا جاتا تھا جہاں گھڑ دوڑ، نیزہ بازی، والی بال، کبڈی اور دیگر صحت مندانہ مقابلے ہوا کرتے تھے۔ شاید حکومتی دربار میں کوئی مغل شہزاد ہ آن بیٹھا۔ دلچسپ حکایت ہے کہ کنیزوں میں پرورش پانے والے ایک مغل شہزادے کی سوچ بھی عورتوں جیسی ہو گئی۔ جب حرم سرا میں ایک سانپ نکلا تو کنیزوں نے اونچی جگہوں پر چڑھ کر مردوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ وہ شہزادہ بھی ان میں شامل تھا اور یہی پکار رہا تھا کہ ”کسی مرد کو بلاؤ کسی مرد کو بلاؤ“۔

کراچی اور پنجاب میں بھی کسی مغل شہزادے کو ان مردانہ مشاغل سے خوف آنے لگا تھا شاید۔ اس نے ایک حکم نامہ جاری کیا اور پابندی لگ گئی۔

پنجابی عوام کو شغل میلے کو ترسی ہوئی تھی اس نے اپنا شوق یوں پورا کرنا شروع کیا کہ گاؤں میں کسی کی شادی ہوئی تو تقریب میں کسی مقامی گلوکار کو بلا لیتے کچھ دیر گانا سن لیتے۔ ناچ کر اپنا رانجھا راضی کر لیتے لیکن اب پولیس کو سختی سے ہدایت کر دی گئی ہے کہ ایسی کوئی تقریب نہ ہو اگر کوئی گستاخی پر اتر آئے تو تقریب کے دولہا، اس کے والد، دیگر شرکاء اور گلوکار کو اس کے آلات موسیقی سمیت گرفتار کرلے۔

اب باقی یہی بچا ہے کہ پاکستانی عوام خود کش دھماکوں کے منتظر رہیں۔ بچوں کو یہی بتایا کریں کہ خود کش دھماکے اچھے ہوتے ہیں۔ تبھی تو حکومت نے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور تفریح پر پابندی لگا رکھی ہے۔

Facebook Comments HS