پاکستانی ٹی وی چینلز: الطاف حسین سے گرے عمران خان میں اٹکے


بدقسمتی کہہ لیجئے، ہمارے ملک میں پرائیوٹ ٹی وی چینلز کا آغاز ایک آمر کے دور حکومت میں ہوا۔ کاش یہ کریڈٹ کسی منتخب حکومت کو ملتا اور کچھ نہ کچھ آزادی ان کو ملتی۔

بعض حلقوں کے نزدیک ہمارے ہاں چینلز کی تعداد دیگر ممالک کی نسبت کم ہے۔ میرا مسئلہ یہ نہیں کہ چینلز کی تعداد کتنی ہے۔ بلکہ میں معیار کو دیکھتا ہوں، آزادی کو دیکھتا ہوں۔ بالخصوص صحافتی معیار۔ یہ تو ایسا ہی دعوی ہے کہ ہمارے گاؤں میں صرف ایک دکان ہے جب کہ ساتھ والے گاؤں میں درجنوں دکانیں ہیں۔ میرے لئے وہ ایک دکان، جہاں ضرورت کی تمام اشیاء ایک ساتھ ملتی ہوں ان درجنوں دکانوں سے بہتر ہے جہاں سب کا چکر لگانے کے بعد بھی آپ کو ضرورت کی تمام چیزیں نہ ملیں۔

میں نیوز چینلز کو پرائمری لیول کی معاشرتی علوم کی کتابیں سمجھتا ہوں۔ ایک آدھ چینل یا ایک آدھ ٹاک شو کے علاوہ دوسرے تو پرائمری لیول کی حدود سے نکلنے کے لیے بھی تیار ہی نہیں۔ ان کی پالیسی یہ ہے کہ عوام کو خبریں اور تجزیے دینے کی بجائے دوسرے چینلز پر کیچڑ اچالتے رہیں۔

پہلے کیا ہوتا رہا؟ ایک شخص لندن میں بیٹھ کر ہمارے کان کھایا جا رہا تھا۔ جب ان کی تقریر شروع ہو جاتی، سارا میڈیا یرغمال ہو جاتا۔ ان کی ایک لفظ سننے کے بعد دوسرا لفظ سننے کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اور جب وہ اگلے لفظ کی ابتدائی حرف زبان پر لاتا تو اتنا کھینچتا تھا کہ آدمی سوچ میں پڑ جاتا کہ یہ اسم ہوگا؟ مصدر پر اکتفا کریں گے؟ مرکب اضافی کی جانب بات بڑھے گی؟ مرکب توصیفی سے بھی کوئی ان کو روک سکتا ہے کیا؟ ان کی مرضی نیا محاورہ ہی گاڑ دیں! الغرض سامعین و ناظرین کو پورا کمرشل بریک مل جاتا تھا۔

پھر ایک دن کسی کی دعا قبول ہوئی۔ اور جبراً دیکھنے والوں کی الطاف حسین سے جان خلاصی ہو گئی۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی جگہ کسی اور کی پرورش ہو رہی ہے اور ان کا خلاء وہی پر کرے گا۔ صرف معاشرتی علوم کا سلیبس تبدیل ہوا۔ الطاف حسین کی جگہ عمران خان آ گئے۔ جب دیکھو، جس چینل پر دیکھو، موصوف خود بات کر رہے ہوتے ہیں یا ان پر بات ہو رہی ہوتی ہے۔

پروٹوکول دیکھیں تو وزیر اعظم پاکستان سے پہلے ان کو کوریج دی جاتی ہے۔ جب بھی موصوف کا جلسہ ہوتا ہے، انہوں نے تقریر 9 بجے ہی کرنی ہوتی ہے۔ اور ایسے مہارت سے دکھایا جاتا ہے کہ ناظرین کو 500 کا مجمع 5 ہزار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آئے۔ ایک طرف چوٹی کے سیاست دانوں کے ٹکر تک نہیں چلائے جاتے اور ان کو تمام چینلز پر براہ راست دکھایا جاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کو بیک وقت تمام چینلز پر کسی نے براہ راست نہیں دیکھا۔ جب کہ ان کے ایونٹ کو دو دن پہلے سے کوریج دی جا رہی ہوتی ہے۔

ان سے گذارش ہے کہ ہم پر رحم کریں۔ ورنہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ کیا پتہ کب کسی کی دعا قبول ہو جائے۔ ہو سکتا ہے نواز شریف سے پہلے آپ کو ناہلی کا سرٹیفیکیٹ تھما دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words