وزیر اعظم کی نااہلی اور سوشل میڈیا

میاں صاحب نااہلی ، اہلیت اور اہل واعیال پر بحث ختم ہونے والی نہیں بلکہ تاریخ میں ہمیشہ آج کا دن رقم ہوچکا۔ اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں وہ آنے والا وقت بتائے گا۔ لیکن سوشل میڈیا پر موجود دوستوں نے جو مزیدار تبصرے کئے ان میں کچھ تو ناقابل اشاعت قسم کی تحریریں ہیں، گو وہ بھی اپنے رنگ میں ادبی شاہکار ہی ہیں ،لیکن وہ شاہکار باتیں جو ”ہم سب “ پڑھ سکیں :
٭20اپریل کو جب کورٹ آرڈر کا اعلان ہوا تھا اس سے پہلے معروف ادبی شخصیت عابد علی بیگ صاحب نے لکھا کہ ” جس طرح 11ستمبر کو911 کہہ کر یاد کیا جاتا ہے اسی طرح 20 اپریل کو420 کہہ کر یاد کیا جائے گا۔“
٭مسلم لیگ (ن) ۔۔۔ ن سے مراد ”نا اہل“۔
٭وزیر اعظم نے جمعة المبارک کے دن باوضو ہوکر نااہل ہونے کی سعادت حاصل کی۔صالح ظافر
٭ بعض بیویوں کی طرح چوہدری نثار کو بھی ہر تین ماہ بعد اعتراض اٹھتا ہے کہ”میاں“ وقت نہیں دیتے۔
٭چوہدری نثار اس بیوی کی مانند ہیں جو دن میں کئی مرتبہ اپنے نکمے شوہر سے کہتی ہے کہ بچوں کہ وجہ سے رکی ہوں ورنہ کب کی چلی جاتی۔
٭جدہ کس منہ سے جاﺅ گے غالب، تمہارے پاس تو اقامہ بھی نہیں ہے۔
٭مٹھائی فروشوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ فیصلہ اس دفعہ بھی انگریزی میں سنایا جائے۔
٭ن لیگ نے گلہ کیا ہے کہ دارلحکومت میں دفعہ 144 کے تحت پانچ افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔ پھر پانچ جج اکٹھے۔۔۔؟
٭ ضیاالحق کے سیاسی وارث، اسی کے بنائے قانون 62،63 کے ہاتھوں 64،65 ہو گئے۔
٭ Good after Noonصدیوں سے رائج ہے، لوگوں کو اس وقت بھی پتہ تھا کہ پاکستان میں اچھا وقت (ن) کے بعد آئے گا۔
٭ یا اللہ اب ان کا دھیان ہماری طرف نہ کردینا۔ (زرداری اور بلاول کی دعا مانگتے ہوئے تصویر پر کیپشن)
٭ نواز ترے جانثار، اک اک کر کے ملک سے فرار!!!
٭ میاں شہباز شریف کی طرف سے نااہل ہونے والوں کو دس دس لاکھ اور ریفرنسیوں کو تین تین لاکھ روپے امداد کا اعلان۔
اس خاکسار نے بھی کچھ حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔
٭ صدر مملکت جمہوری عمل آگے بڑھائیں۔ سپریم کورٹ کا صدر ممنون حسین کو مصروف کرنے کا تاریخی فیصلہ ۔
لیکن اس سارے عمل میں مزاح اور تفنن ایک طرف ایک آخری بات کہ اگر یہ احتساب واقعی میرٹ پہ ہوا ہے اور یہ ایک جاری عمل ہے تو ”صرف ایک بات کی خوشی: احتساب سے کوئی بالاتر نہیں۔“

