پاکستانی نرگسیت پسند ڈوبتا بھی نہیں!

میری دھواں دار تقریر کے بعد ابو نے کہا تھا، اور میں حرف بحرف دہرا رہا ہوں:
"پُتر، شکر کر توں کسی سرکاری ادارے دے وس نئیں پئیا، ایہہ چکی وانگوں پیہہ چھڈ دے، پورا پورا (بھورا بھورا) کر چھڈدے٬”
(بیٹا، شکر کرو کہ تمہارا کسی سرکاری ادارے سے واسطہ نہیں پڑا۔ یہ تو چکی کی طرح پیس ڈالتے ہیں۔ بالکل ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں)
ان کی یہ بات سن کر میری نسیم حجازیت مزید بھڑک اٹھی، اور میں کافی دیر بقول چرچل، میں اپنے جوان ہونے پر، اپنی جوانی کے ضائع ہونے کا ثبوت بنا رہا،
پھر بعد میں، اللہ جانتا ہے کہ زندگی میں جب بھی سرکار کے سامنے بس پرامن و مہذب طریقے سے تین چار مرتبہ آنا ہوا، خادم پورا پورا ہی پیسا گیا، اپنے علاوہ اپنی زندگی میں درجنوں کو بھی پِستے ہی دیکھا۔
اس جنگلی بھینسے کو اکثریت کے ساتھ بےمغزی میں، بےسمت بگٹٹ ہی چھلانگیں مارتے دیکھا۔ جب بھی دیکھا، عمر عزیز گزرتی جا رہی ہے، خیال آیا کہ شاید اب بھینسے کی کچھ تربیت ہونے جا رہی ہے تو خیال کچلا جاتا ہے، نالی میں بہایا جاتا یے، اور پھر بتایا جاتا ہے کہ: دیکھو، کس خوبصورتی سے تمھارا خیال نالی میں بہے جا رہا ہے۔۔۔۔ دیکھو، وہ دیکھو، دیکھو تو سہی یار!
اب دل کرتا ہے کہ نرگسیت کے مارے اس بھینسے سے کہوں کہ اس گندی نالی میں اپنا عکس بھی تو دیکھو، کیونکہ تمھارے نصیب میں صاف پانی میں عکس دیکھنا ہی نہیں، تم اور تمھاری نرگسیت زدہ زندگی اس گندی نالی کے آس پاس کی بنوتری ہے، اور تم اسے ہی اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے ہو، اور مجھے بھی اسے اپنی زندگی کا حاصل سمجھنے پر مجبور کرتے ہو، گندی نالی تمھیں مبارک ہو، میں انکار کرتا ہوں، سلام کرتا ہوں، اور خیال کے ساتھ ساتھ، اب امید بھی نالی میں بہاتا ہوں!
پاکستانی نرگسیت پسند، نہ صرف بدصورت ہے، بدبودار ہے، ننگا بھی ہے، اور ڈوب کر مرتا بھی نہیں،
یاللعجب؟

