تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ پر مشکل میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی ممنوعہ غیر ملکی فنڈز پر حنیف عباسی کی دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے حنیف عباسی کی درخواست کے جواب میں دفاعی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تحریری گزارشات میں تفصیل لکھ دی ہے، الیکشن کمیشن غیر ملکی فنڈز کا معاملہ نہیں دیکھ سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کی دلیل یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا قانون (پولیٹیکل پارٹیز آرڈر دوہزاردو) غیر موثر ہو چکا ہے؟ وکیل نے کہا کہ اس قانون میں تبدیلی کی گئی، اب اس میں آرٹیکل چھ مختلف صورت میں موجود ہے، اسی طرح پی پی او میں آرٹیکل تیرہ کو بھی دیکھا جائے، اس میں لکھا ہے کہ پارٹی فنڈز کا آڈٹ الیکشن کمیشن نہیں کرے گا۔ قانون میں یہ تبدیلی پارلیمان نے کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کسی سیاسی جماعت کے فنڈز کا آڈٹ اس کے آڈیٹر نے کرلیا اوراس کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی تو اس کے بعد کمیشن کوئی کارروائی نہیں کرسکتا؟ کیا کمیشن پر کوئی پابندی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر پی پی او کا آرٹیکل چھ غیر موثر ہو جائے گا۔ وکیل نے کہا کہ میری بات کچھ مختلف ہے، یہ کہہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن آڈیٹڈ فنڈز کا دوبارہ آڈٹ نہیں کرسکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی پی او کے آرٹیکل سترہ میں پارٹیز کو فنڈنگ ذرائع بتانے کا پابند کیا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ عدالت کے سامنے سرجھکاتا ہوں مگر کچھ اور بات کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہی کچھ اور بات آپ کافی دیر سے کر رہے ہیں مگر واضح نہیں ہو رہی۔ وکیل نے کہا کہ کمیشن کو صرف انہی تفصیلات پر انحصار کرنا ہوگا جو سیاسی جماعت نے پارٹی فنڈز کے حوالے سے فراہم کی ہوں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ خود سے تو کوئی جماعت کبھی غیر ملکی فنڈز کی تفصیل فراہم نہیں کرے گی۔ وکیل بولے کہ اس کو غیر ملکی فنڈز نہ کہیں، اگر الیکشن کمیشن خود سے تمام ریکارڈ دیکھتا تو الگ بات تھی یہاں ایک درخواست پر کارروائی شروع ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے فنڈز گوشواروں پر کلیئرنس سرٹیفیکیٹ جاری کر چکا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ کیا اب کمیشن پر کوئی پابندی ہے کہ وہ فنڈز کی اسکروٹنی نہیں کرسکتا؟ وکیل بولے کہ قانون میں اس کی اجازت نہیں ہے، انیس سو باسٹھ سے لے کر آج تک غیر ملکی فنڈنگ پر کسی سیاسی جماعت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیا آپ کے پاس یہی دفاع ہے اور آپ اس کو موثر سمجھتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ روایت ہے تو کیا کسی شکایت پر بھی الیکشن کمیشن کارروائی نہ کرے۔

وکیل انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف جواب میں جو زبان استعمال کی اس کو بھی دیکھا جائے، کمیشن نے عدالت کو بتایا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ فراڈ ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ یہ الزام ہو سکتا ہے کمیشن نے اپنی طرف سے ایسا نہیں لکھا۔ وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف تعصب ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج کر کہا جا سکتا ہے کہ بلاتعصب فیصلہ کرے۔ وکیل نے کہا کہ مسلم لیگ ن لندن میں بطور کمپنی رجسٹرڈ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کی معلومات کمیشن کو فراہم کریں وہ کارروائی کریں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ قانون میں یہ کوئی دفاع نہیں کہ صرف مجھ اکیلے کو سزا نہ دیں باقیوں کو بھی شامل کریں۔ وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ تعصب کا ہے، الیکشن کمیشن عدالت نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کے پاس کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آپ نے ایگزیکٹو فورم مانا تھا، یہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرح ہے، جو کسی بھی جج کے کنڈکٹ پر بطور ایگزیکٹو فورم کارروائی کرتا ہے۔

اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستی عدالت میں کھڑے ہوئے اور کہا کہ عدالت اس پیراگراف کو دیکھ لے جس پر تحریک انصاف کے وکیل نے اعتراض کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھ گئے ہیں، کمیشن نے مختلف بات کی ہے۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ کمیشن نے اپنے جواب میں ہمارے کیس کا حوالہ دے کر فراڈ کی بات کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن نے ایک عام بات کی ہے تحریک انصاف سے منسوب کرکے نہیں کہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ کسی بھی جماعت کے فنڈز ممنوعہ ثابت ہونے پر بحق ریاست ضبط ہوں گے۔ وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسی انکوائری کرنے کا مجاز نہیں جو بہت زیادہ چھان پھٹک پر مبنی ہو۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی مرحلے پر سیاسی جماعت کے گوشواروں کی اسکروٹنی کرسکتا ہے، قانون میں کوئی پابندی نہیں۔ وکیل انور منصور نے ایک بار پھر پرانی دلیل دہرائی کہ گوشوارے جمع کراتے وقت ہی اسکروٹنی کی جاسکتی ہے بعد میں نہیں۔ کمیشن صرف انہی دستاویزات کو دیکھ سکتا ہے جو ریکارڈ پر دستیاب ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں ایسی شکایت آتی ہے کہ پارٹی سربراہ نے غلط بیانی کی ہے، جیسا کہ اس درخواست میں یہ معاملہ آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت آیا ہے، اگر پی پی او کے آرٹیکل چھ کے تحت یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا پوچھیں تو آپ کاجواب کیا ہوگا؟ کوئی بھی پارٹی اس طرح کی درخواست لاتی ہے تو الیکشن کمیشن کو بھیج سکتے ہیں، برابری کا اصول سب کے لئے ہو گا۔ وکیل نے جواب دیا کہ عدالت اس معاملے پر کمیشن بنا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب متعلقہ فورم یعنی الیکشن کمیشن موجود ہے تو اسے چھوڑ کر کمیشن کیوں بنائیں؟ وکیل بولے کہ قانون میں ایسا طریقہ کارنہیں دیا گیا، الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا۔ جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ کیا قانون میں تمام ارکان پارلیمان کے اثاثے ظاہر کرنے کی شق ہے؟ وکیل نے کہا کہ یہ عوامی نمائندگی کے قانون میں ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ایسا قانون میں نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے شفافیت کے لئے خود سے کیا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کے پاس اس کے علاوہ کیا دلیل ہے کہ آڈیٹر کی رپورٹ کی حیثیت حتمی ہے۔ وکیل نے کہا کہ قانون کے تبدیل ہونے کی بات کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون میں ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے فنڈز کا حساب دیں گی، الیکشن کمیشن یہ حساب لے گا اور اسے یہ اختیار قانون نے دیا ہے۔ کہاں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کا دیا گیا حساب کتاب مان لیا تھا؟ کیا انتخابی نشان الاٹ ہونے کا مطلب ہے کہ حساب کتاب تسلیم کر لیا گیا؟ وکیل نے کہا کہ اس کا مطلب یہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نشان ہر سال الاٹ نہیں ہوتا، پارٹی کے فنڈز گوشوارے ہر سال جمع کرانا ہوتے ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ اگر پارٹی کو کسی ممنوعہ ذریعے سے فنڈز آئے تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا؟ وکیل نے کہا کہ ممنوعہ غیر ملکی فنڈز پر کارروائی کا اختیار وفاقی حکومت کو ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت دو چیزوں کاجائزہ لے رہی ہے، کیا غیر ملکی ممنوعہ فنڈز لیے گئے، کیا سپریم کورٹ اس معاملے کو براہ راست دیکھ سکتی ہے یا اس کے لئے دوسرا فورم ہے۔ وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف نے فنڈز کی تمام تفصیلات دی ہیں، سپریم کورٹ اس معاملے کو آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت دیکھ سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ باہر سے آنے والے فنڈز کا ذریعہ اگر پاکستانی ہیں تو معلوم ہوجائے گا، الیکشن کمیشن اس کی تفتیش کرلے گا، فنڈز دینے والوں کی شناخت سامنے آجائے گی۔ وکیل بولے کہ الیکشن کمیشن اس کی تفتیش نہیں کرسکتا، قانون میں اجازت نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیش و تحقیق پر کوئی پابندی نہیں، قانون میں اجازت ہے۔

وکیل انور منصور نے کہا کہ فنڈز کا آڈٹ آڈیٹر نے ہی کرنا ہے اور وہ ایک مکمل آزاد اتھارٹی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آڈیٹر پارٹی کا ہوتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اگر آڈیٹر نے کوئی غلط کام کیا تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی غلط کام پر آڈیٹر کا لائسنس منسوخ ہوجائے گا لیکن جس پارٹی نے ممنوعہ فنڈز لیے وہ ضبط نہیں ہوں گے۔ جسٹس عمرعطانے کہا کہ آپ کے دلائل سے ہی دیکھ لیا جائے تو آڈیٹر سے اس غلطی کا سوال کون پوچھے گا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی کسی بھی تشریح سے ایسا نہیں ہوسکتا جو آپ کہہ ر ہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ بغیر قانون اور اتھارٹی کے اکاؤنٹس کھول کر ازسرنو پڑتال نہیں کی جا سکتی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے دفاعی دلائل مکمل کیے تو درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے جوابی دلائل کا آغازکیا۔ وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے فنڈز دینے والے افراد کی دستاویزات جعلی اور خودساختہ ہیں، عدالت میں جعل سازی سے تیار کی گئی دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں، صرف ایک نہیں تمام کاغذ جعلی ہیں اور یہ ثابت کروں گا۔ اگرکئی شخص مستقل طورپر ترک وطن کرکے بیرو ن ملک چلا گیا تو وہ غیر ملکی تصور ہوگا، اسے پاکستان اوریجن کہنا اس کے فنڈز کو درست ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔ کیس آٹھ ماہ سے چل رہا ہے، اور اب یہ دستاویزات تیار کر کے سامنے لائی گئی ہیں، ہم نے امریکا کی فارن ایجنٹس ریگولیٹری اتھارٹی (فارا) کی ویب سائٹ سے تحریک انصاف کے فنڈز کی تفصیلات حاصل کرکے جمع کرائی تھیں ان پرمدعا علیہ نے اپنے جواب میں اعتراض نہیں کیا۔

اس موقع پر وکیل انور منصور نے اپنی نشست سے اٹھ کر کہا کہ درخواست گزار اپنی ضمنی درخواست کی نقل مجھے فراہم کریں۔ اس بات پر وکیل اکرم شیخ اچانک جلال میں آگئے اور کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، عدالت میں مجھ سے درخواست کی نقل کیوں مانگی گئی، کیا انور منصور جیسے سینئر وکیل کو نہیں معلوم کہ نقل دینے کا طریقہ کار کیا ہے؟ میں نے ان کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو نقل فراہم کررکھی ہے، وہاں سے لے لیں۔ اتنے بڑے وکیل کو عدالت میں اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ اکرم شیخ کے اس اچانک حملے سے جج اور وکیل سب بھونچکا رہ گئے۔ انور منصور شرمندہ ہوکر اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح ردعمل نہ دیا جائے تو بہتر ہے، اب آگے بڑھیں۔ اسی دوران اکرم شیخ نے اپنے منشی کو آواز دی، یعقوب، محترم اورقابل عزت انور منصور کو ہماری درخواست کی نقل نہایت ادب و احترام سے پیش کی جائے۔

اس کے بعد اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ امریکی فارا کی ویب سائٹ پر دیکھی جائے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ وکیل کا کام مقدمے کو آسان بنانا ہوتا ہے، میں ویسے بھی مشکل پسند نہیں، آٹھ برس کی عمر سے غالب کو پڑھنا شروع کیا، اب ستاون سال کی عمر میں بھی چچا غالب کی شاعری پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔ مائی لارڈ، دل تھام کے رکھیے، اب اہم چیز سے شروع کرنے لگا ہوں، تحریک انصاف کی دستاویزات میں جس رقم کی انٹری دو ہزار بارہ میں دکھائی گئی ہے وہ اسی دستاویز میں دوسرے صفحے پر دوہزار دس میں بطور فارن فنڈنگ لی گئی۔ تحریک انصاف نے اصل فنڈز سے کم فنڈنگ دکھائی، حلال کو حرام سے الگ کرکے پاکستان بھیجنے کا دفاع لیا ہے۔ وکیل انور منصور اپنی نشست سے اٹھے اور کہا کہ دوہزار دس میں لیے گئے فنڈز کی دوہزاربارہ میں انٹری کی وضاحت جواب میں کی گئی ہے۔ جسٹس عمر عطا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کامطلب ہے کہ دستاویزات کے صفحات پر غلط عنوان لگ گئے ہیں۔ انور منصور نے کہا کہ مجھے افسوس ہوا کہ درخواست گزار کے وکیل نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں جعلی دستاویزات بنانے کے لئے امریکا گیا تھا۔

اکرم شیخ نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا، میں نے کہا کہ انور منصور کا بھی اس دوران امریکا جانا محض اتفاق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انور منصور صاحب، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، دل کے مریض ہیں زیادہ سٹریس نہ لیں۔ پھر وکیل اکرم شیخ سے مخاطب ہوکر چیف جسٹس نے کہا کہ جو دستاویزات فارن فنڈز دینے والے افراد کی فہرستوں پر مشتمل ہیں ان کو دیکھنے میں تو ہمیں مہینوں لگ جائیں گے۔ وکیل اکرم شیخ بولے، مائی لارڈ‘آپ کی عقابی نظریں کبھی ایسے مواد سے صر ف نظر نہیں کریں گی، تمام دستاویزات جعلی سازی اور فراڈ سے تیار کیے گئے۔ ان کو قانون شہادت کی دفعات باسٹھ اور ایک سو چونسٹھ کے تحت شواہد ریکارڈ میں دیکھا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ کیا غیر ملکی فندز دینے والے تمام افراد کے نام فارا کی ویب سائٹ پر ہوتے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ عطیات دینے تمام افراد کے نام نہیں ہوتے، صرف بڑی رقم والوں کے کوائف موجود ہوتے ہیں۔ عدالت کو بتادوں کہ یہ دستاویزات میں نے نہیں بنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے نہیں بنائیں مگر آپ دفاع کے وکیل ہیں، جواب آپ کے ذمے ہے۔ اس مرحلے پر ہم کوئی نتائج نہیں اخذ کر رہے۔ جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ کیا عدالت میں جمع کرائی گئی عطیہ دہندگان کی دستاویزات فارا کی ویب سائٹ کی فہرست سے مطابقت رکھتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ ہونا تو ایسے ہی چاہیے، جن لوگوں نے عطیات دیے ہیں فارا کے پاس ان کا ریکارڈ ہوگا۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ میرا مقدمہ عمران خان کے جھوٹے بیان حلفی کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بیان حلفی کے غلط کا انحصار ممنوعہ غیر ملکی فنڈز ثابت ہونے پر ہے۔ وکیل نے کہا کہ مائی لارڈ‘ آپ نے کہا تھا اگر ضرورت پڑی تو وزرات داخلہ کو فریق بنائیں گے، صرف الیکشن کمیشن ہی اس کا فورم نہیں، فارن فنڈنگ حساس معاملہ ہے، افسوس کہ اسی طرح کے الزامات پر ہمارے ملک میں منتخب سیاسی حکومتیں ختم کی گئیں، ضروری ہوگا کہ ان چیزوں کو واضح طور پر طے کیا جائے، وزارت داخلہ کو فریق بنانے کی درخواست بھی دی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کاعلم ہے، قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ میرا مقدمہ تحریک انصاف پر پابندی یا اس کے فندز ضبط کرنے کا نہیں، وہ حکومت اور الیکشن کمیشن کاکام ہے۔ میرا مقدمہ پی ٹی آئی کے سربراہ کے جھوٹے بیان حلفی کا ہے۔ جو جعلی دستاویزات پارٹی نے دی ہیں اس پر تو معلوم نہیں پابندی سے زیادہ کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ جن افراد نے عطیات دیے ان کی شہریت بھی معلو م کرنا ہوگی، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ فراہم کی گئی دستاویز اور فارا میں آئے عطیہ دہندگان کے نام مختلف ہیں؟ وکیل نے کہا کہ ہم نے فارا سے لے کر ناموں کی فہرست دی تھی اس کی مدعا علیہ نے نفی نہیں کی اور اپنی فہرست دیدی جس میں مختلف نام ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ امریکا کے قانون کو دیکھ لیا جائے، فارا کے قانون میں تمام عطیہ دہندگان کے کوائف ویب سائٹ پر شائع کیے جانا ضروری ہے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ مدعا علیہ نے اپنے جواب میں جو مؤقف یا دفاع لیا ہے اس کو آپ وزن نہیں دے ر ہے۔ وکیل نے کہا کہ عدالت فارا کی سائٹ یا قونصلر کے ذریعے بھی عطیہ دینے والوں کی تصدیق شدہ فہرست منگوا سکتی ہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہم اور آپ ایک جگہ ہیں، اگلی بات اہم ہے اس پر چلیں۔ وکیل نے کہا کہ کلائمکس اور ڈراپ سین میں وقفہ کم سے کم ہو تا کہ دلچسپی زیادہ سے زیادہ ر ہے۔ مدعا علیہ کہتا ہے کہ حلال فنڈز پاکستان بھیج دیے، حرام وہیں چھوڑ دیے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ یہ لفظ استعمال نہ کریں، اصل لفظ ممنوعہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی پی او کے آرٹیکل چھ کے تحت الیکشن کمیشن یہ معاملہ دیکھ سکتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ مقدمہ لے کر آئے ہیں، مدعا علیہ بھی عدالتی اختیار کو مانتا ہے۔ جسٹس عمر نے کہا کہ درخواست گزار اور مدعا علیہ کے ماننے سے عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں مل جاتا۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ عدالت سے فارن فنڈنگ پر فیصلہ نہیں بلکہ بیان حلفی پر ڈیکلریشن چاہتے ہیں۔ وکیل بولے کہ محدود کیس لایا ہوں، یہ عدالت کےلئے کافی و شافی ہے، ہم پر اپنے جواب میں تحریک انصاف نے اقلیتوں کی توہین کا الزام لگایا جیسے خود یہ اقلیت کی بہت تکریم کرتے ہوں، انہوں نے سات سو صفحات کی دستاویزات میں اقلیت کے عطیہ دہندگان کے نام ہی غائب کر دیے ہیں، مدعا علیہ نے دستاویزات میں جو میناکاری کی ہے اب اس سے باہر نہیں جاسکتے۔ وکیل انور منصور نے عدالت کے سوال پر بتایا کہ بعض عطیہ دہندگان کی معلومات حاصل نہیں ہوسکیں کیونکہ بہت سے لوگ کارڈ سے پیسے بھیجتے ہیں اور نام ظاہر نہیں کرتے۔ جسٹس عمر عطا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کارڈ سے پانچ ہزار ڈالرز دینے والے بھی اپنی شناخت نہیں بتاتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مدعا علیہ کو عدالت میں عطیہ دینے والوں کی کوائف کے ساتھ وضاحت کرنی چاہیے۔ وکیل نے کہا کہ جو ممنوعہ فنڈز تھے وہ امریکا میں ہی رہ گئے۔

جسٹس عمر نے پوچھا کہ ممنوعہ فنڈز وہاں کن مقاصد پر خرچ کیے گئے۔ وکیل انور منصور نے کہا کہ یہ پارٹی کے ایجنٹ کو ہی علم ہوگا، اگر کوئی شخص امریکا میں غلط کام کرتا ہے تو یہاں پارٹی کی لیڈر شپ اس کی ذمہ دار نہیں، ہم نے ایجنٹ کو بتایا ہوا تھا کہ کون سے پیسے فنڈ کے طور پر لیے جاسکتے ہیں، اگر اس نے ہدایات پر عمل نہیں کیا تو پارٹی کیا کرے۔ وکیل اکرم شیخ اس پر بولے کہ ممنوعہ فنڈز سے پارٹی انکار نہیں کر رہی، یہ کہتے ہیں کہ صرف حلال یہاں لے کرآئے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ جب وہاں پارٹی کا ایجنٹ پارٹی کی پالیسی اور منشور کی تشہیر کرتا ہے تو اس کے اس اقدام کی بھی پارٹی ذمہ دار نہیں ہوگی؟ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے ممنوعہ فنڈز نہ لینے کا بیان حلفی دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں مختلف ذرائع سے بیرونی فنڈز آتے ہوں تو بیان حلفی دینے والا صرف اپنی معلومات کے مطابق کہنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ معاملہ بہت تفصیلی انکوائری کا متقاضی ہے۔ وکیل نے کہا کہ انکوائری کس چیز کی ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہرچیز کی انکوائری ہونا چاہیے۔ عمران خان کا سرٹیفیکیٹ اگر ان کی معلومات کے مطابق ٹھیک تھا تو اس کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ فرض کریں اگر سو روپے کاعطیہ ملا، ستر روپے پاکستان آئے اور تیس جو ممنوعہ تھے وہاں رہ گئے، تب کیا کہیں گے؟ وکیل نے کہا کہ اس ملک میں ہم نے ایک وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھایا کہ اس نے ایک شخص کو قتل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ امریکا میں ایجنٹ نے پی ٹی آئی کے کہنے پر فنڈز اکھٹے کیے۔ پارٹی نے جواب میں یہ نہیں لکھا کہ ایجنٹ نے ہماری اجازت کے بغیر ممنوعہ فنڈز لیے۔ پھربولے کہ فقہ سے مثال دیتا ہوں کہ ایک من دودھ میں اگر پیشاب کا ایک قطرہ مل جائے تو اسے نجس کردیتا ہے۔ جسٹس عمر نے کہا کہ یہ دوسری مثال ہے جو آپ نے تہذیب کے مطابق نہیں دی، آپ نہایت نفیس اور شائستہ شخصیت ہیں، مہذب مثالیں دیں، پہلے آپ نے وزیراعظم والی مثال دی۔ (اشارہ بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کی طرف تھا)۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ میں نے تو حدیث سے مثال دی ہے اگر مائی لارڈ کی جمالیاتی حس پر گراں گزری تو معافی چاہتا ہوں۔ عدالت پوچھے کہ کیا تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز لینے پر اپنے ایجنٹ کے خلاف کوئی کارروائی کی؟ سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •