روتھ فاؤ: تاحد نظر چراغ، تاحد نظر روشنی

کیا آپ ادیب رضوی کو جانتے ہیں؟ کیا آپ نے ایدھی کا نام سنا ہے؟ روتھ فاؤ کا مقام ان کے برابر بلکہ کچھ معنوں میں بڑھ کر تھا کیونکہ وہ ایک ایسے ملک کے لئے کچھ کر رہی تھیں جس سے بظاہر ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر آپ ڈیڑھ حب الوطن ہیں تو آپ کی بیماری کا علاج روتھ فاؤ کی زندگی کی صورت سامنے ہے ۔ اگر آپ ڈیڑھ مسلمان ہیں تو آپ کے جنت اور جہنم کی سند بانٹنے کا علاج روتھ فاؤ ہیں جنہوں نے لوگوں کے لیے زندگی حقیقی معنوں میں قربان کر دی اور مذہب و مسلک کی کوئی تفریق نہیں رہی پھر بھی آپ کو ان کی آخرت کی فکر ہے اور انہوں نے ہماری زندگی سنوار دی۔ اگر آپ پدرسری معاشرے کا شاہکار دماغ ہیں تو روتھ فاؤ کی مثال آپ کے دماغ کا علاج کر سکتی ہے اگر آپ کروانا چاہیں۔ اگر آپ خود کو کمزور سمجھتی ہیں تو روتھ فاؤ کو دیکھ لیں، آپ کو دو باتیں سمجھ آ جائیں گی، ایک یہ کہ آپ کمزور نہیں ہیں، دوسری یہ کہ آپ سو لوگوں کے لیے کچھ نہ کر سکیں لیکن کسی ایک کی زندگی بھی بہتر بنا سکیں تو یہ آپ کی کامیابی سے زیادہ روتھ فاؤ کے لیے خراجِ عقیدت ہے۔
ہم سب ایدھی نہیں بن سکتے، ادیب رضوی نہیں بن سکتے، روتھ فاؤ نہیں بن سکتے۔ ایسے لوگ جن کا کام ان کے نام سے بڑا ہے یہ ہم نہیں کر سکیں گے۔ ہمارے جیسے چھوٹوں لوگوں کے کرنے کے کام کچھ اور ہیں کہ ہم ان سب بڑے لوگوں کی عزت کریں، اس بات کا اعتراف کریں کہ انہوں نے ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہے ، یہ اعتراف ریاست کی طرف سے ہو تو ہمیں اچھا لگے کہ ہم محسنوں کو یاد رکھنا سیکھ رہے ہیں۔ اصل میں روتھ فاؤ کے لیے محسن بھی چھوٹا لفظ ہے، چراغ کہنا تو سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے۔ میں انہیں روشنی لکھوں گی۔۔۔ اور یہ میری کم علمی ہے کہ اس سے بڑا لفظ میرے پاس نہیں ہے۔ کیا ہم ان لوگوں کو اپنے لیے مثال بنا کر صحت ، تعلیم ، انصاف کسی بھی شعبے میں کسی ایک انسان کی زندگی بھی بہتر بنا سکتے ہیں؟ اپنی جگہ رہتے، اپنی زندگی کے مسائل میں الجھتے ہم زیادہ نہ کر سکیں مگر اتنا تو کر ہی سکتے ہیں، اگر کرنا چاہیں۔

