قوم پر زوال کیسے آیا؟

فاضل مصنف کا خیال ہے کہ اندھی محبت کی طرح اندھی نفرت کے نتائج بھی تباہ کن ہوتے ہیں۔ محبت میں لیڈر کے ارشادات پر غور ہوتا ہے نہ ہی اس سے اختلاف کیا جاتا ہے۔ نفرت میں لیڈر کے 99 فی صد خیالات اور فیصلے غلط ہوں، اور ایک فیصدی صحیح تب بھی اس کے سو فیصدی غلط ہونے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ ان دو صورتوں سے بھی زیادہ ایک اور خطرناک رجحان کی طرف آغا افتخار نے یوں توجہ دلائی ہے:
’’تاریخ میں مذکورہ بالا دونوں قسم کی متعدد مثالیں ملتی ہیں لیکن یہ وہ واقعات ہیں، جب کوئی قوم عمومی طور پر ایک لیڈر کی اندھی محبت یا اندھی نفرت میں گرفتار ہوئی، اور اس کے نتیجے میں غلط راستے پر چل نکلی لیکن ان کے علاوہ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ قوم میں ایک فرد کے بارے میں دو قسم کے جذبات ابھرے۔ قوم کے ایک طبقے نے اس فرد سے اندھی محبت کی اور ایک نے اندھی نفرت۔ اس سے ایک قوم کے اندر محاذ آرائی شروع ہوگئی جس کے نتائج مذکورہ بالا دونوں مثالوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے۔ اگر کوئی قوم کسی فرد سے اندھی محبت یا اندھی نفرت کرنے پر متحد ہوجائے تو اس کے نتائج بھی افسوس ناک ہوں گے لیکن اگرکسی قوم کے افراد اندھی محبت اور اندھی نفرت کرنے پر دو طبقوں میں تقسیم ہوجائیں تو پھر اس قوم میں انتشار اور شکست وزوال تقریباً یقینی ہوجاتا ہے۔ ‘‘

آغا افتخار حسین کی جن معروضات کو ہم نے پیش کیا ہے وہ کتاب کے آخر میں ہیں،یہ حصہ ممکن ہے کہ ان دنوں کے بعد رقم ہوا ہو جب اس ملک کے مقبول ترین لیڈر کو پھانسی دی گئی تھی اور اس کی نفرت میں مبتلا گروہ نے جشن منایا تھا، اس وقت ایک صاحب علم نے جس کا اس لیڈر سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کہا تھا :”جن احمقوں نے ایک قومی رہنما کو ختم کر دینے کا یہ طریقہ اختیار کیا ہے, وہ نہیں جانتے کہ اس طرح انھوں نے اس ملک کی سیاست میں ایک مستقل عناد کی بنیاد رکھ دی ہے.” اس صاحب بصیرت کی بات سچ ثابت ہوئی، دوسری طرف ایک سیاست دان نے فرمایا تھا کہ اس شخص سے جان چھوٹے تب ملکی سیاست آگے چلے گی، لیکن ملکی سیاست آگے نہ چلی البتہ قوم بہت پیچھے رہ گئی۔
آغا افتحار حسین نے پیش لفظ کے نیچے 25 اگست 1979 کی تاریخ ڈالی ہے جب 4 اپریل 1979 کو گزرے چار ماہ اکیس دن گزر چکے تھے، ان دونوں تاریخوں کے درمیانی عرصے میں انھوں نے اگر کتاب کا وہ آخری حصہ لکھا ہو جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے تو کچھ عجب نہیں۔

