دلی دور ہے۔۔۔!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قمر علی عباسی پاکستان کے معروف لکھاری گزرے ہیں۔ جون 2013 میں اپنے انتقال کے وقت ان کی عمر قریباً 72 برس تھی۔ یہ اندازہ میں اس بات سے لگا سکتا ہوں کہ ان کے سفرنامے ‘دلی دور ہے’ میں وہ ایک جگہ بتاتے ہیں کہ پاکستان ہجرت کے وقت ان کی عمر چھ برس تھی۔ عباسی صاحب کے والدین نے امروہہ سے پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی۔ پاکستان اور بیرونِ ملک بطور کالم نگار اور مدیر مختلف اخبارات و رسائل سے منسلک رہے اور ہر صنف میں نام کمایا۔ ‘دل دریا ہے’، ‘بغداد زندہ باد’ اور ‘شام تجھے سلام’ ان کی مشہور تصانیف میں سے ہیں۔

آج ان کا خیال کیوں آیا؟ دراصل اپنی زندگی میں مَیں نے جو پہلی کتاب پڑھی تھی، وہ عباسی صاحب کی کتاب ‘دلی دور ہے’ ہی تھی۔ تارڑ صاحب یقیناً اردو سفرنامے کا ایک بہت بڑا نام ہیں لیکن قمر علی عباسی نے جس طرح ‘دلی دور ہے’ میں اپنی کیفیات بیان کی ہیں، وہ شاید سفرنامے کی صنف سے نکل کر افسانے اور آپ بیتی کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے۔ امروہے کی طرف سفر کا حال بیان کرتے ہوئے جس طرح عباسی صاحب نے میرے دل کی دھڑکنیں تیز کیں، اپنے ماموں کی پرانی حویلی کے باہر کھڑے ہو کر جس طرح ان کی آنکھوں نے بچپن میں چھوڑی اس دیوار کی ‘ایک ایک اینٹ کو چھو لیا’، ایک پرانے سے گھر میں ‘جو چلے گئے ہیں ان کو یاد کرتی بوڑھی آنکھوں’ کا قصہ جیسے انہوں نے بیان کیا، شاید انہی کی مرہون منت ہے کہ کتاب پڑھنے کا چسکا پڑ گیا۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ جو چار کتابیں پڑھ لی ہیں، خدا نخواستہ قمر علی عباسی کی دلی دور ہے کی جگہ ہٹلر کی ‘میری جنگ’ پڑھ لی ہوتی تو کتاب تو درکنار، شاید انسانیت پر سے ہی ایمان اٹھ جاتا۔ آج آزادی کی رات ہے۔ بہت برس پہلے، اپنے دادا (بابا) کے انتقال پر، سکول سے تین چھٹیاں کیں تو تیسرے دن بابا کی چیزوں کو چومتے ہوئے یہ کتاب کہیں سے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ بابا بھی دس سال کے تھے جب دلی سے لاہور آ گئے تھے۔ شاید انہیں بھی اس امروہے میں اپنا دلی نظر آتا ہو۔ ذیل میں اس کتاب سے ایک اقتباس یہاں نقل کر رہا ہوں۔ پتہ نہیں آپ کو کتاب پڑھنے پر قائل کر پائے گا یا نہیں، مگر میرے دل کی کیفیت تو ان صفحات کو پڑھتے ہوئے کچھ عجیب سی ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت کو میں بیان تو نہیں کر سکتا۔ مگر ہاں یہ دو صفحے نقل ضرور کر سکتا ہوں۔ جو کوئی بھی اپنے بڑوں سے آزادی اور ہجرت کے قصے سن کر بڑا ہوا ہوگا، یہ الفاظ اس کے دل کے بھی شاید انہی تاروں کو چھیڑیں، جیسے میرے دل میں یہ ہر بار جل ترنگ بنا دیتے ہیں۔

چچا ہنسنے لگے۔ “یہ تو رات کی چوریوں کا حال ہے۔ دن میں بھی فصل چوری ہوتی ہے۔ یہ ذرا دلیری کا کام ہے۔ جب سارے پھل توڑ کر کریٹوں میں رکھ کر ٹرک میں لادنے کی باری آتی ہے، ڈاکو اپنا ٹرک لے کر آ جاتے ہیں اور بندوق کی نوک پر سارا پھل اس ٹرک میں لاد کر لے جاتے ہیں”۔

“پولیس کیا کرتی ہے”، ہم نے پوچھا۔

“رپورٹ لکھتی ہے دو چار مرتبہ باغ میں آ کر کھانا کھاتی ہے۔ جو تھوڑے بہت پھل شاخوں میں رہ جاتے ہیں وہ اپنے افسروں کے لیے ڈالی بنا کر لے جاتی ہے۔” چچا خوب ہنس رہے تھے۔ “چمن کو وہ پیڑ دکھاؤ جو اس کے باوا کے ہیں” ماموں صاحب نے کہا۔ “لو باتوں میں یاد ہی نہیں رہا۔ آؤ چلیں” چچا نے کہا۔

ہم سب اٹھ کر باغ کے اندر چلے گئے۔ مہربان درخت جو اس دھرتی کا گہنا ہیں زمین پر سایہ کئے ہوئے تھے، دھوپ کو سر پر اٹھائے کھڑے تھے۔ جن کے بور کے پھول آنکھیں کھولے ہمیں حیران حیران دیکھ رہے تھے۔ جن کی شاخوں پر موتیوں کی طرح ننھے منے آم لدے تھے۔ یہ کون ہے۔ اجنبی؟ اور چچا بتا رہے تھے۔ “یہ چار پیڑ تمہارے باوا کے ہیں”۔ بوڑھے درختوں کے سائے میں کھڑے ہم ان کی باتیں سن رہے تھے۔ “یہ باغ تمہارے دادا کا تھا۔ پھر بٹتے بٹتے زمین درختوں کی صورت رہ گئی۔ باغ کا کچھ حصہ تو مقدمے بازی کی نذر ہوا۔ کچھ حصے پر کسٹوڈین نے قبضہ کیا۔ اور اب۔ یہ چار پیڑ اور ایک رکھوالا رہ گیا ہے”۔ وہ جذباتی ہو گئے، دوسری طرف منہ کر کے آنسو پونچھنے لگے۔ پھر ہنس کر بولے، “اب تم ماشاء اللہ پانچ بھائی ہو۔ درخت بانٹ لو تو شاخیں بٹ جائیں گی۔” ہم کیا بولتے؟ اس زمین کے بدلے اپنی جنت لے کر پہلے ہی مطمئن ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے سارے کھیت سارے باغ ہمارے ہیں۔

ہم نے درختوں کو ہاتھ لگایا۔ پتے زور زور سے تالیاں بجانے لگے۔ شاخیں اپنے بازو پھیلانے لگیں۔ باغ میں بہت تیز ہوا چل رہی تھی۔ چچا اب درختوں کے نزدیک ایک کھیت کے درمیان سلیقے سے چنی اینٹوں کے کچھ ڈھیروں کے پاس کھڑے تھے۔ “یہ تمہارے بڑے بھائیوں کی قبریں ہیں”۔ انہوں نے اداس ہو کر کہا۔ “تمہیں تو یاد نہیں ہوگا”، وہ بولے۔

“جی چچا”۔

“یہ تمہاری پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ یہ تمہارے بڑے بھائی انور کی قبر ہے۔ چھوٹی چھوٹی اینٹوں کی چنی ہوئی ایک قبر کی طرف اشارہ کیا۔ “یہ دوسرے بھائی قیصر کی۔ اور وہ تیسری تمہاری بہن خورشید کی۔ ایک بھائی کو بھیڑیا لے گیا تھا یہ اس کی قبر ہے”۔

“بھیڑیا لے گیا تھا؟” ہم نے حیرت سے پوچھا۔

“ہاں امروہے کے اکثر گھروں سے بچے بھیڑیا لے جاتا تھا۔ اس میں تمہارا بھائی بھی تھا۔ تین دن بعد آدھا حصہ ملا تھا وہ یہاں دفنا دیا تھا” وہ بولے۔ ہمیں عجیب سا محسوس ہوا؛ قصے کہانیاں حقیقت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔

چچا آہستہ سے جھکے اور نیچے سرکتی اینٹ درست کر دی۔ فضا اداس ہو گئی۔ ہم سوچنے لگے۔ اپنے پیاروں کو یوں چھوڑ کر ہجرت کرنے والے تاریخ میں کہاں جگہ پاتے ہیں۔ کون سا شاعر ان کے قصیدے لکھتا ہے۔ کون انہیں خوشامدید کہتا ہے۔ ہمارے سامنے اپنی ماں کا شفیق اور باپ کا مہربان چہرہ تھا۔ ہم نے انہیں سلام کیا۔ جن کی قربانیاں کہیں نہیں لکھی جائیں گی۔ لیکن ایک نسل سے دوسری نسل اور جب تک اس قرہ ارض پر ایک آدمی بھی زندہ ہے یہ کہانیاں قائم رہیں گی۔

ان قبروں سے آگے زمین پر دور تک ننھے ننھے سرسبز پودوں کا جال بچھا تھا۔ ہمیں یہ بہت خوبصورت لگے۔ چچا نے بتایا یہ پودینے کا کھیت ہے۔ ہم ہنسنے لگے۔ پاکستان جا کر احباب کو بتا سکتے ہیں ہمارے بھی پودینے کا باغات ہیں۔

“تم ایسے موسم میں آئے ہو کہ نہ آم کھلا سکتے ہیں نہ دے سکتے ہیں”۔ چچا اداس ہونے لگے۔

“جس پیڑ کو پانی نہ دیں۔ جسے موسموں سے نہ بچا سکیں۔ اس کے پھل پر کوئی حق نہیں”۔ چچا شاعر ہیں۔ شعر کہتے ہیں۔ کہنے لگے۔ اسی خیال کو میں نے ان الفاظ میں باندھا ہے۔

“چچا کھانا آ گیا ہے”۔ ہمارے ماموں زاد بھائی نے انہیں شاعر سے پھر بزرگ بنا دیا۔

لیلیٰ کی انگلیوں اور مجنوں کی پسلیوں سے زیادہ پتلی پتلی اور ہری میٹھی ککڑیاں۔ بھنی ہوئی مزیدار رہو مچھلی۔ پودینے کی چٹنی خوشبو اڑاتے سنہرے تندوری پراٹھے اور چچا کی مزے مزے کی باتیں، لطیفے۔ ہمارے والد کے قصے۔ جب وقت یوں پر لگا کر اڑتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ ان لمحوں کے لیے انسان کیا نہیں کرتا۔ ہم ٹائم مشین کے بغیر ماضی میں سفر کر رہے تھے۔ دوپہر دیر سے واپسی ہوئی۔ گھر آتے ہی سو گئے۔ آنکھ کھلی تو آنگن میں شام اتر آئی تھی۔ چارپائیاں بچھی تھیں۔ ان پر چادریں بچھی تھیں، تکیے لگے تھے، سب بیٹھے تھے، بولنے اور ہنسنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

چائے پی جا رہی تھی۔ آنگن کے نل سے منہ ہاتھ دھو کر ہم بھی ان میں شامل ہو گئے۔ باورچی خانے میں گرم گرم پھلکیاں پکنے کی پاپڑ تلے جانے کی خوشبو اور ان کے ساتھ مہکتی چائے میز پر لگا دی گئی۔ پھر اندھیرا ہو گیا۔ چراغ روشن ہوئے، آنگن اجالے سے بھر گیا۔ رات آ گئی۔ کئی عورتیں کئی مرد بچے آ گئے۔ بزرگوں کی باتیں، پاکستان کی باتیں، ہندوستان کی باتیں۔ سب کو اطمینان ہے۔ سب خوش ہیں کہ اپنے گھر میں ہیں۔ لیکن ہمارے سینے میں دھڑکنے والا دل کچھ بے چین بھی تھا۔ اپنے گھر اور اپنے ملک کی یاد انجمن میں تنہا کیے ہوئے تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •