بلوچستان پر بھی غور کریں سرکار

پاکستان سے اس کے شامل ہوجانے والوں کو بڑی امیدیں تھیں۔ آج پاکستان ستر سال کا ہو گیا ہے۔ کتنی امیدیں پوری ہوئی اور کس کی۔ یہ سوال تو پوچھنا بنتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ معدنیات سے مالامال۔ شاید یہی اس کا قصور رہا ہے۔ بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ٖباقی پاکستانیوں کے لیے نا قابل رسائی ہے۔ جو ترقی کا کام ہو رہا ہے وہ زیادہ تر صرف پشتون بیلٹ میں ہے۔ بیشتر حصہ میں فوج نے داخلہ بند کر رکھا ہے۔ عام پاکستانی بلوچستان کے بارے کتنا جانتا ہے؟
ہمیں دھماکوں، مسنگ پرسنز اور اغوا کی داستانوں سے ہی پتا چلتا ہے کہ بلوچستان ہے۔ 1971 میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوگیا۔ تب سے لیکر آج تک ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہوا کیا تھا۔ نہ حمود الرحمن رپورٹ عام ہوئی اور نہ ہی آج تک پاکستان کے عام عوام جانتے ہیں کہ ہم نے کیا غلط کیا کہ ہمارا ایک حصہ ہم سے آزادی کے اتنا جلدی بعد چلا گیا۔ ہمارے بیانئے بھارتی سازش اور بنگالیوں کی بلاوجہ کی بغاوت کے گرد گھومتے ہیں۔ ویسےاپنے کرتوتوں کا کچھ اندازہ ہم لگا سکتے ہیں اس بات سے کہ آج بھی بنگالی لوگوں کے بارے ہم متؑعصبانہ اور ہتک آمیز الفاظ ہی استعمال کرتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں نوکری کر کے آنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ مغربی پاکستان کے کئی افسروں کا بنگالیوں سے ہتک آمیز رویہ آخری حدوں کو چھوتا تھا۔ بنگال کی شکایات پر کوئی کان نہیں دھرا گیا۔ سقوط ڈھاکہ ہو گیا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اس سقوط سے سبق حاصل کرتے۔ مگر ہم نے تاریخ کا بلیک آوٹ کر دیا۔ کچھ بھی نہیں سیکھا۔
آج بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مشرقی پاکستان سے کچھ کم بری نہیں ہے۔بس جغرافیائی طور پر بلوچستان زیادہ قریب ہے اور اس کو کنٹرول کرنا آسان ہے۔ اس وقت بھی بلوچستان کے اندر دو بلوچستان ہیں۔ ایک کنٹونمنٹ کے اندر اور دوسرا باہر۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ امن و امان صرف کنٹونمنٹ کے اندر ہے۔ بلوچستان میں ہر سال ہم کتنے ہی لوگ کھو دیتے ہیں۔عام لوگ، پڑھے لکھے لوگ، قلم اور آواز اٹھانے والے،قانون نافذ کرنے والے، ریاست چلانے والے لوگ۔ کسی بھی ریاست کی رٹ کو برباد کرنے والے لوگ بڑے سیانے ہوتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے پڑھے لکھے باشعور لوگ ختم کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں 8 اگست 2016 میں وکیلوں کا اجتماعی قتل کیا گیا۔ پھر ابھی کوئٹہ میں پھر کل قتل و غارت ہوئی مگر میڈیا کا زور سابق وزیر اعظم کی ریلی پر تھا۔ اسی ریلی میں جب نکالے جانے والے وزیر اعظم آئین بدلنے کی بات کر رہے تھے تو ان کی نظر میں صرف اپنا اقتدار تھا۔ خبروں کے مطابق جب کوئٹہ میں 15 لوگ شہید ہوے تو اس وقت صوبے کے قابل احترام وزیر اعلی لاہور اسی ریلی میں تھے۔ سرکار، جمہوریتوں میں صوبوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑا جاتا۔ آئین بدلیں نہ بدلیں، بلوچستان کی مد میں ریاست کے اطوار ضرور بدلیے۔
بلوچستان کی مد میں کافی دیر پہلے ہی ہوچکی ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بات بہت آگے نکل چکی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ابھی بھی بات سنواری جاسکتی ہے۔ ریاست کا سب سے اہم کام ہے پالیسی بنانا، اور امن قائم کرنا۔ بلوچستان کی مد میں جو بھی پالیسی ہے وہ کام نہیں کر رہی۔ بلوچستان کو میڈیا، اور پالیسی سازوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایک اور سقوط پاکستان تک بات نہ جانے دیں۔

