جناح خاندان کا تعلق ملتان سے تھا

فاطمہ بائی کی شادی سنہ 1884 میں سولہ برس کی عمر میں محمد علی جناح کے ایک کزن سے ہوئی تھی اور وہ ان کے خاندانی گھر میں آ گئیں۔ اس وقت قائداعظم کی عمر سات برس تھی۔ 1954 میں وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے ایک تھیں جو محمد علی جناح کے بچپن سے واقف تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس گھر میں وہ آٹھ افراد دو کمروں میں رہتے تھے۔
فاطمہ بائی اپنے بیٹے محمد علی کے ساتھ رہتی تھیں اور ہیکٹر سے ان دونوں نے بات کی۔ محمد علی نے خاندانی کاغذات سامنے رکھ دیے اور خاندان کی ابتدائی کہانی بتانی شروع کی۔
قائداعظم کے آبا و اجداد ہندو تھے۔ بعد میں وہ اسلام قبول کر کے آغا خان کے خوجہ اسماعیلی مسلک کے پیروکار بن گئے۔ ان کے خاندان کا تعلق ملتان سے تھا جو بعد میں ترک وطن کر کے کاٹھیاواڑ گجرات میں آباد ہو گیا۔ کاٹھیاواڑ کے بعد اس خاندان کی اگلی منزل کراچی ٹھہری۔
جب محمد علی جناح کی عمر چھے برس تھی تو ان کو کراچی کے ایک سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ دس برس کی عمر میں ان کو جہاز میں بٹھا کر بمبئی بھیج دیا گیا جہاں وہ گوکل داس تیج پرائمری سکول میں ایک برس تک پڑھتے رہے اور پھر ان کو واپس کراچی بھیج کر سندھ مدرسہ اسلام میں داخل کرا دیا گیا۔ جب ان کی عمر پندرہ برس ہوئی تو ان کو کرسچ مشنری سوسائٹی ہائی سکول میں داخل کروا دیا گیا۔
جب وہ کراچی کے مشن ہائی سکول میں زیر تعلیم تھے تو سولہ برس کی عمر میں ان کی شادی ایمی بائی نامی ایک چودہ سالہ خوجہ لڑکی سے کر دی گئی۔ شادی کے فوراً بعد محمد علی جناح انگلستان چلے گئے۔ اگلے برس ہی ایمی بائی اور محمد علی جناح کی والدہ مٹھی بائی کا ایک وبائی مرض میں انتقال ہو گیا۔ محمد علی جناح نے اس کے بعد 25 برس تک دوبارہ شادی نہیں کی۔

