آزادی کے ستر سال


کیا آپ نے وطن عزیز میں کبھی ایسا منظر دیکھا ہے کہ امن کا زمانہ ہو، بارونق بازار ہو، لوگ بے فکری سے گھوم پھر رہے ہوں، کھا پی رہے ہوں، ٹریفک چل رہی ہو اور وہاں اچانک پولیس کی تین چار گاڑیاں آ جائیں پولیس والے دنادن گاڑیوں سے اتریں اور لوگوں کو روک روک کر ان کی تلاشی لینا شروع کردیں۔ ان سے شناختی کارڈ پوچھنا شروع کردیں جس کے پاس شناختی کارڈ نہیں وہ مشکوک ٹھہرا کر پولیس وین میں بِٹھا دیا جائے۔ شاید نہ دیکھا ہو لیکن اب ایسے مناظر دیکھنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

جنگ عظیم دوم کی وار موویز دیکھیں تو ان میں کبھی کبھار ایسے منظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں کہ جرمن فوجی کسی اتحادی فوجی کی تلاش میں لوگوں کے شناختی کاغذات دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اتحادی فوجی جو کہ عام طور پر فلم کا ہیرو ہوتا ہے وہیں کہیں موجود بھی ہوتا ہے اور دلچسپ طریقے اختیار کر کے بچ نکلنے کی کوشش بھی کرتا ہے کبھی کامیاب ہوتا ہے تو کبھی ناکام ہو کر گرفتار بھی ہو جاتا ہے۔

اس سلسلے کا سب سے دلچسپ منظر سڈنی شیلڈن کے ناول سینڈز آف ٹائم میں پڑھنے کوملتا ہے جب باسک آزادی تحریک کا ایک ہیرو ایک پارک میں پولیس کے گھیرے میں آ جاتا ہے پکڑا گیا تو گرفتاری اور موت یقینی ہے پولیس وہاں موجود لوگوں کے کاغذات چیک کر رہی ہے اچانک ایک خاتون پارک میں داخل ہوتی ہے ہمارے ہیرو کے پاس پہنچ کر اس کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتی ہے۔ میں گھر میں سارا دن بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہوں کھانے پکاتی ہوں صفائیاں کرتی ہوں اور تم یہاں مزے سے بیٹھے موجیں کرتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ کچھ دیر دونوں کی تو تکار ہوتی ہے پولیس سمیت سبھی لوگ ان کی تکرار دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں اور پھر خاتون پولیس کے دیکھتے دیکھتے ہیرو کو کان سے پکڑ کر لے جا تی ہے۔ کچھ خواتین بہت دلیر ہوتی ہیں۔

چلتے ہیں اس موضوع کی طرف جس کے لئے اتنی طویل تمہید باندھی گئی۔ کل جشن آزادی کی شام تھی۔ ہم سرگودہا گئے ہوئے تھے کچھ دیگر کام کرنے کے بعد ٹرسٹ پلازہ گئے۔ وہاں پہنچے تو ساتھ ہی موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ کچھ چیزیں خریدیں باہر نکلے تو ابھی تک بارش برس رہی تھی۔ سامنے ہی فلائی اوور ہے جس کے نیچے پناہ لی۔ یہاں کافی لوگ بارش سے بچنے کے لئے کھڑے تھے ہمارے شہر کو جانے والی گاڑی اسی چوک سے گزر کر جاتی ہے سو ہم بھی یہاں بارش سے بچ کر گاڑی کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ یوم آزادی کی وجہ سے کافی رونق تھی بہت زیادہ ٹریفک چل رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں ایک طرف سے پولیس کی تین گاڑیاں آ گئیں۔ مسلح سپاہی گاڑی سے اترے اور بارش سے بچنے کے لئے پل کے نیچے کھڑے لوگوں کی روایتی انداز میں تلاشی لینا شروع کر دی۔ تلاشی کے دوران شناختی کارڈ بھی طلب کیا جا رہا تھا۔ میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور انجانی سی تلخیاں میرے ذہن میں بھرتی جا رہی تھیں۔ ایک سپاہی میری طرف بھی آیا۔ بھائی ساب کیا کام کرتے ہو؟ میں نے اپنے ادارے کا بتایا، اس نے مجھے نظر بھر کر دیکھا اور میرے قریب کھڑے ایک نوجوان کی تلاشی لینے لگا۔ چند منٹوں بعد ایک سپاہی میری طرف آیا تو پہلے والے نے اسے روک لیا۔ کچھ ہی دیر بعد پہلے والا سپاہی پھر میرے قریب آیا اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگا، بھائی صاحب بہتر ہے کہ یہاں سے دائیں بائیں ہو جائیں، مجھے اس کی بات سے اندازہ ہوا کہ معاملہ کچھ سنجیدہ ہے۔ میں نے ایک رکشا روکا اور اس میں بیٹھ گیا۔

یہ ہے آج کا پاکستان، آزادی حاصل کیے ستر سال ہو گئے۔ دوسری قومیں آگے کی طرف بڑھتی ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ ریورس گیئر لگائے ہوئے ہیں۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے، اسی پاکستان میں امن و سکون تھا محبت تھی، نفرت نہیں تھی۔ لوگ بہت آرام سے باہر گلیوں میں سوتے تھے۔ سارا پاکستان گھوم پھر لو کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ خود میں دو بار کئی ماہ کے لئے کوئٹہ گیا۔ چمن بارڈر تک گھوم آئے کسی نے نہیں پوچھا کہ کون ہو کہاں سے آئے ہو؟

لیکن ترقی معکوس کا الٹا سفر بہت تیزی سے جاری ہے۔ اب کہیں جانا تو ہو تو شناختی کارڈ جیب میں رکھنا ضروری ہے۔ ہر چند میل کے بعد ایک چیک پوسٹ ہے جہاں شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہے۔ اس کا مقصد شاید یہی چیک کرنا ہے کہ بندہ کسی غیر ملک سے تو نہیں آیا۔ لیکن جو غیر ملک سے آئے ہوئے ہیں وہ تو سارے پاکستان میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ محل انہوں نے تعمیر کر لئے۔ بڑی بڑی مارکیٹیں پلازے انہوں نے بنا لئے۔ مری شہر کی ہر دکان پر ان کا قبضہ ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے قرب و جوار میں ان کی بستیاں ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے اندر تک وہ بیٹھے ہیں۔

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کوئٹہ جیسے خوب صورت اور پرامن شہر میں یہ غیر ملکی ایک منصوبے کے تحت لائے اور بسائے گئے۔ انہوں نے پہلے پنجابیوں کو نشانہ بنایا۔ پھر انہوں نے اپنے دیرینہ مخالف مسلک کو نشانے پر رکھ لیا۔ یہ لوگ کون ہیں کہاں رہتے ہیں ان کو مدد کون دیتا ہے یہ بات کس سے چھپی ہوئی ہے۔ ڈان لیکس نے ہمیں جو بریکنگ نیوز دی تھی وہ آدھا سچ تھی، پورا سچ تو یہ ہے کہ بہت سے ادارے اپنے اپنے پالے ہوئے گروہوں کو تحفظ دیتے ہیں۔ مارے جاتے ہیں تو پاکستانی عوام مارے جاتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں جشن آزادی منانے کے سبق دیے جاتے ہیں۔ یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس سے آزادی حاصل کی گئی اور یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ گورے سے آزادی حاصل کر کے ہمیں کس کی قید میں ڈال دیا گیا۔ اور یہ ایک ایسی قید ہے جس کی مدت بھی کسی کو معلوم نہیں۔

یوں چوکوں میں سرعام عوام کی تلاشی لے کر ان کی تذلیل تو کی جا سکتی ہے لیکن نہ دہشت گرد پکڑے جا سکتے ہیں نہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ دہشت گردوں کا سراغ نہ لگا پانے کی کہانی بھی عجب ہے۔ وطن عزیز میں جتنی فورسز سرگرم عمل ہیں شاید ہی کہیں کسی ملک میں اتنی فورسز ہوں۔ پولیس، سپیشل برانچ، سی آئی ڈی، ڈولفن فورس، مجاہد فورس، ایلیٹ فورس، انٹیلی جنس بیورو، یہ تو ہو گئیں سول اداروں کے ماتحت۔ فورسز کی اپنی کئی ایجنسیاں ہیں، یہ لوگ ہر پاکستانی شہر کے رہائشیوں کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ہفتہ دس دن کی بنیاد پر ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر دہشت گردی پر قابو نہیں پاجا رہا تو اس کے قصوروار یہ ادارے ہیں یا پاکستانی عوام ہیں جن کو مسلسل خوف میں مبتلا کیا جا رہا ہے؟

 

Facebook Comments HS