چچا چھکن نے عدالت لگائی
چچا نے دیکھا، میر باقر علی چھائے چلے جا رہے ہیں، آگ ہی تو لگ گئی لیکن سنبھل کر بولے۔ ”صاحبِ من آپ کو اس محلے میں آئے ابھی عرصہ ہی کتنا ہوا۔ کَے آمدی و کَے پیرشدی اور ہماری تو نال اسی محلے میں گڑی ہوئی ہے۔ اب آپ جانے دیجئے نا اس بات کو، بازی بازی باریش بابا ہم بازی؟ اور سرِراہ کا کیا ہے، یہ جھگڑا ہم تک آج نہ پہنچتا کل پہنچ جاتا۔ سو اب بھی کیا مضائقہ ہے۔ سامنے ہی تو غریب خانہ ہے، اندر چل بیٹھیں، دو منٹ میں قصہ طے ہوا جاتا ہے۔ مجھے تویہ ہر گز گورا نہیں کہ جس محلے میں سبھی رہتے ہوں وہاں ہمسایوں میں سر بازار جوتی پیزار ہوا کرے۔ ‘‘
یہ کہہ کر چچا نے داد طلب نگاہوں سے مجمع کو دیکھا۔ بولے ”کیوں صاحب!خدا لگتی کہیے، یہ بھلا کوئی شرافت ہے؟ ‘‘
مجمع میں سے تائید کی بھن بھناہٹ سی سنائی دی۔ میرصاحب خاموش ہو کے رہ گئے۔ چچا بولے”تو آپ دونوں صاحب اندرتشریف لے آئیے نا۔ اور میر صاحب اگر چاہیں تو میر صاحب بھی آسکتے ہیں۔ ‘‘باقی لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ ”آپ لوگ جا سکتے ہیں، یہاں کوئی بھانڈ تو ناچیں گے نہیں جو آپ کو مدعو کروں۔ آپس کے جھگڑے طے کرانا مغز پاشی کا کام ہے، آپ لوگ اپنے گھر جا کر آرام کیجیے۔ ‘‘
لیجیے صاحب چچا قاضی القضاۃ بن گئے، مدعی اور مدعا علیہ میر صاحب کو ساتھ لیے گھر میں آئے۔ گھر پہنچ کر پہلے مردانے ہی سے فرامین کی ایک فہرست صادر ہوئی کہ بُندو لیمپ لائے، اور مُودا برف کا پانی بنائے، اور امامی حقہ تازہ کرکے پہنچائے۔ اور بندو لیمپ لا چکنے کے بعد خاصدان لے کر آئے، اور مودا پانی لا چکنے کے بعد اُگالدان لا کر رکھے، اور امامی حقے سے فراغت پا کر پنکھا جھلے۔
سب کو دیوان خانے میں بٹھایا، خود یہ کہہ کر اندر گئے کہ میں ابھی حاضر ہوا۔ اندر جا کر بنیان پر چکن کا کرتہ پہنا۔ پہن ہی رہے تھے کہ چچی نے جلدی جلدی رکعت ختم کرکے سلام پھیر کے پوچھا۔ ”کیا بات ہے؟ ‘‘
چچا بے پروائی کے انداز میں بولے۔ ”عجب حالت ہے لوگوں کی، نہ دن کو چین لینے دیتے ہیں نہ رات کو۔ ان سامنے والے خان صاحب اور مولوی صاحب کا جھگڑا ہو گیا۔ مصیبت میں میری جان پڑگئی۔ سب مُصِر ہیں کہ آپ بیچ میں پڑ کے فیصلہ کرا دیجیے۔ بات ٹالی بھی نہیں جا سکتی، محلے کا معاملہ ٹھہرا۔ بہرحال برسر اولاد آدم ہر چہ آید بگزرد۔ تو تم نماز سے فارغ ہو کر پان کے کچھ ٹکڑے لگا کے بھیج دینا۔ ‘‘
چچی جل کر بولیں۔ ”یہ شوق بھی پورا کر لیجیے۔ ‘‘
چچا کرتے کے بٹن لگاتے ہوئے باہر نکلے، دیوان خانے میں پہنچ کر آرام کرسی پر دراز ہو گئے، ٹانگیں سمیٹ کر اوپر دھر لیں۔ بولے”میں حاضر ہوں، فرمائیے کیا بات ہوئی؟ سارا واقعہ بیان کیجیے۔ لیکن مختصر طور پر۔ ‘‘
مولوی صاحب اور خان صاحب دونوں کی تیوری چڑھی ہوئی تھی، منہ پھلائے لال لال آنکھوں سے ایک اِس طرف ایک اُ س طرف تک رہا تھا۔ چچا کا تقاضا سن کردونوں کے دونوں کچھ کسمسائے مگر چپ کے بیٹھے رہے۔ میر صاحب نے مُہر سکوت توڑی۔ ”حضرت بات تو اصل میں بڑی معمولی تھی۔ ‘‘
چچا نے کہا۔ ”آپ تمہید کو جانے دیجیے، مطلب کی بات کہیے۔ ‘‘
میر صاحب نے غصے کو پی کر کہا۔ ”تو اور کیاکہوں۔ بات حقیقت میں نہایت معمولی ہے، لیکن۔ ‘‘
خان صاحب سے ضبط نہ ہو سکا۔ ”کوئی آپ کی بہو بیٹیوں کو یوں دیکھتا اور آپ اسے معمولی بات کہتے تو جانتا۔ ‘‘
چچا کرسی پر اکڑوں بیٹھ گئے۔ ”مستورات کا واقعہ ہے تو واقعی حضرت اسے معمولی بات کہنا تو بڑی زیادتی ہے آپ کی۔ خان صاحب آپ خود ہی جو واقعہ ہے بیان کیجیے۔ ‘‘
باقر علی صاحب خاموش ہو گئے۔ خان صاحب کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ بولے۔ ”آپ سا منصف مزاج بزرگ پوچھے گا تو بیان کروں گا ہی، آپ سے کیا پردہ ہے۔ ‘‘
چچا پھول گئے۔ کچھ کہنا ضروری معلوم ہوا۔ ”نہیں نہیں کوئی بات نہیں۔ آپ بلا تکلف کہئے۔ ‘‘
خان صاحب نے کہا۔ ”آپ کو علم ہی ہے کہ اس سامنے کے مکان کی نچلی منزل میں ہم رہتے ہیں اور اوپر کی منزل میں ایک کھڑکی ہے جس سے ہمارے مکان کے صحن میں نظر پڑتی ہے۔ ‘‘
چچا نے با ت کاٹ کر فرمایا۔ ”جی ہاں جی ہاں، میری دیکھی ہوئی کیا، میرے سامنے بنی اوراس ایک کھڑکی کا کیا ذکر، اس سارے مکان کی تعمیر میں میرا بہت کچھ دخل رہا۔ مالک مکان فضل الرحمن خان کے مجھ سے مراسم تھے۔ حیدر آباد جانے سے پہلے ہر روز شام کو ملنے آتے تھے اور سچ پوچھئے اُنہیں یہ مشورہ بھی میں نے ہی دیا تھا کہ خالی زمین پڑی ہے اور کوڑیوں کے مول بک رہی ہے۔ تو کچھ ایسی صورت کرنی چاہیے کہ کرائے کی ایک سبیل نکل آئے۔ تو انہوں نے یہ گویا مکان بنایا۔ خیر یہ تو جملۂ معترضہ تھا، آپ بات کہئے۔ ‘‘
خان صاحب نے سوچا کہ بات کہاں تک کی تھی۔ بولے”جی تو اوپرکی منزل میں ایک کھڑکی ہے کہ اس سے ہمارے ہاں کے صحن میں نظر پڑتی ہے۔ ہم اس مکان میں پہلے سے رہتے ہیں۔ یہ حضرت بعد میں آئے۔ آتے ہی ہم نے ان سے کہہ دیا کہ مولوی صاحب اس کھڑکی میں اگر آپ تالا ڈلوا دیں تو مناسب ہے۔ ورنہ عورتوں کاسامناہوا کرے گا اور مفت میں کوئی نہ کوئی قصہ کھڑا ہو جائے گا۔ ‘‘
چچا نے داددی۔ ”بہت مناسب کارروائی کی آپ نے۔ قانونی نقطۂ نظر سے گویا آپ نے ایک ایسی پیش بندی کر لی کہ بعد میں اگر کسی قسم کی بھی شکایت پیدا ہوتو آپ کو گرفت کا جائز موقع ملے۔ بہت ٹھیک۔ جی تو پھر؟ ‘‘
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

