چچا چھکن نے عدالت لگائی
چچاکی بے حد و حساب تجویزوں کا ذخیرہ اس پہلی ہی تجویز کے بعد ختم ہو چکا تھا۔ ”اب یوں آپ ہر تجویز میں مین میخ نکالنے لگے تو طے ہو چکا آپ کا جھگڑا یعنی مکان بدلنے میں آخر قباحت ہی کیا ہے؟ سیدھی سی بات ہے بھئی نہیں نبھتی الگ ہو جاؤ، نہ رہے بانس نہ بجے بنسری۔ کیا آپ کے خیال میں اس مکان کے سوا شہر بھر میں اور معقول مکان نہیں؟ یا اور مکان بال بچے دار لوگوں کے رہنے کے لئے نہیں بنوائے گئے؟ انکار کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے، اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ آپ لوگ صلح صفائی پر آمادہ نہیں اور چاہتے ہیں کہ روز اسی قسم کے قصے کھڑے ہوا کریں۔ ایسی حالت میں میرا کوئی تجویز پیش کرنا دشوار ہے، آپ خود آپس میں نمٹ لیجیے۔ ‘‘
میر صاحب بے چارے پریشانی کے عالم میں یہ باتیں سن رہے تھے اور کرسی پر بار بار پہلو بدلتے تھے آخر نہ رہاگیا، ہمت کر کے بولے۔ ”میں نے تو عرض کیا نا کہ دونوں کے لیے بہترین ترکیب وہی ہے کہ کھڑکی میں تالا لگا رہے اور اس کی چابی۔ ‘‘
چچاجل گئے”اجی آپ کیا ایک واہیات سی بات کو چمٹ گئے ہیں اور بار بار پیش کیے جا رہے ہیں۔ چابی تالا، چابی تالا یعنی آپ نے تو کچھ ایسا سمجھ رکھا ہے جیسے ایک تالے کی دوسری کنجی بنوائی ہی نہیں جا سکتی۔ ‘‘
میر صاحب نے بھی جل کر جواب دیا۔ ”پھر یوں تو دیوار کی اینٹیں نکال کر بھی جھانکا جا سکتا ہے۔ ‘‘
بات چچا کی سمجھ میں نہ آئی۔ بولے۔ ”تبھی تو کہا تھا کہ ایک صاحب نقل مکان کر لیں۔ نا مانیں تو اس کا کیا علاج۔ اچھی بات ہے، وہ ان کی عورتوں کو دیکھاکریں، یہ ان کی عورتوں کو تاکا کریں۔ ‘‘
خان صاحب تاؤ کھا گئے، بگڑ کر بولے۔ ”دیکھئے صاحب منہ سنبھال کر بات کیجئے عورتوں کا نام یوں ہی نہیں لیا جاتا، یہ ناموس کا معاملہ ہے، ہم غریب سہی مگر نکٹے نہیں۔ ‘‘
چچا کچھ کسمسائے، میر صاحب گھبرائے، مولوی صاحب اٹھ کھڑے ہوئے، بولے۔ ”تو میں اب اجازت چاہتا ہوں، گھر پربال بچے پریشان ہو رہے ہوں گے۔ جب کوئی بات طے ہو چکے تو مجھے اطلاع دے دیجیے گا۔ ‘‘
خان صاحب نے اٹھ کر انکاہاتھ پکڑ لیا۔ ”تمہارے بال بچے ہیں، ہمارے بال بچے نہیں؟ پہلے فیصلہ ہو جائے پھر جانے دوں گا۔ ‘‘
مولوی صاحب نے ہاتھ چھڑانا چاہامگر خان صاحب کی گرفت مضبوط تھی، بولے۔ ”تو اپنا تالا لاؤ اور کھڑکی میں ڈال دو۔ ‘‘
خان صاحب بولے۔ ”تالا تم دو، چابی میرے پاس رہے گی۔ ‘‘
چچا کوتو یہ تجویز شروع ہی سے نا مرغوب تھی، بولے”تالا یہ کیوں دیں؟ بے پردگی تمہاری عورتوں کی ہوتی ہے یا ان کی؟ ‘‘
چچا کی تائید سے مولوی صاحب کو بھی حوصلہ ہوا، بولے۔ ”دیکھئے تو سہی۔ ‘‘
خان صاحب کو آگ لگ گئی۔ بڑھ کر مولوی صاحب کی گردن میں ہاتھ ڈالا۔ مولوی صاحب کے گلے سے ایک اس قسم کی آواز نکلی جیسے ذبح ہوتے ہوئے بکرے کے گلے سے نکلتی ہے۔
میر صاحب”ہائیں ہائیں‘‘کرتے لپک کر اٹھے۔
چچا بولے۔ ”یہ ہاتھا پائی ٹھیک نہیں۔ ‘‘
خان صاحب نے میر صاحب کو دھکیلا تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے دیوار سے جا لگے۔
چچا نے ہاتھ پکڑنا چاہا تو ایک زناٹے کا تھپڑ انہیں بھی رسید کیا۔
میر صاحب تو چپکے کھڑے رہ گئے۔ چچا دو قدم پیچھے ہٹ کر بولے۔ ”ہائی یو!‘‘
لیکن خان صاحب کس کی سنتے ہیں، مولوی صاحب کو گردن سے پکڑ کر دھکیلتے ہوئے باہر نکل گئے۔
میر صاحب آوازیں سنتے ہی پھر باہر کو لپکے۔
چچا چپ چاپ جہاں تھے، وہیں کے وہیں کھڑے گال سہلاتے رہے۔
کھڑے ہی تھے کہ پردہ اٹھا، چچی اندر آگئیں غصے کے مارے چہرہ تمتما رہا تھا، بولیں۔ ”میں نہ کہتی تھی کہ پرائے قصے میں دخل نہ دینا مگر میری بات اس کان سن اس کان اڑا دی۔ اب آیا ہوگا جھگڑا چکانے کا مزہ۔ دوکوڑی کا شخص بے آبرو کر گیا۔ ‘‘
چچا اس کے لئے تیار نہ تھے، بے قابو ہو گئے، ”دیکھو اس وقت منہ سے بات نہ کرو، ورنہ خدا جانے میں کیا کر بیٹھوں گا۔ ‘‘
چچی جل کر بولیں۔ ”اب اور کیا کروگے، گھر کی عزت خاک میں ملا دی، محلے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا، ابھی کچھ اور کرنے کے ارمان باقی ہیں؟ ‘‘
چچا سے جواب بن نہ پڑا، ”عزت تھی تو ہماری تھی، تمہاری نہ تھی، تمہیں کیا؟ ‘‘
چچی بولیں۔ ”یہ عمر ہونے کو آئی، بچوں کے باپ بن گئے اور بے عزت ہوتے شرم نہیں آتی۔ ‘‘
اس کے جواب میں چچا نے گھر اور بچوں کے متعلق اس قسم کے نا مبارک الفاظ دہن مبارک سے نکالے جنہیں بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔ غرض یہ کہ محلے کے جھگڑے کی آواز گھر میں آ رہی تھی اور گھر کے جھگڑے کی آواز محلے میں پہنچ رہی تھی۔ ما بخیرشما بسلامت۔

