چچا چھکن نے عدالت لگائی


خان صاحب دادسے بہت مسرور ہوئے۔ ”خدا حضور کا بھلا کرے۔ میں نے سوچا نئے آدمی ہیں۔ کیوں نہ پہلے ہی سے خبر دار کر دوں۔ سو صاحب انہوں نے بھی مجھے یقین دلایا کہ کھڑکی میں تالا ڈال دیا گیا ہے۔ اور میں بے فکر ہو گیا۔ اب جناب آج صبح کو کیا ہوا۔ کہ۔ ‘‘

”یہ لیجیے۔ ٹھنڈا پانی پیجئے۔ آپ بھی لیجیے مولوی صاحب۔ پانی دے بے میر صاحب کو۔ جی تو آج صبح۔ ابے رکھ دے میز پر خاصدان، سرپر کیوں سوار ہو گیا ہے۔ اور وہ امامی کہاں مر رہا ہے؟ ابھی تک حقہ نہیں بھرا گیا؟ جی صاحب آپ کہے جائیے۔ میں سن رہا ہوں۔ ہاں اور وہ اگالدان؟ کہہ بھی دیا تھا، پھر بھی یاد نہیں رہا۔ بڑے نالائق ہو تم لوگ۔ آپ فرمائیے نا خان صاحب؟ ‘‘

خان صاحب نے کچھ دیر سکوت کا انتظار کیا، آخر بولے۔ ”جی تو آج صبح میں ادھر دکان پر روانہ ہوا، ادھر اوپر کی منزل میں ایک بچے نے کھڑکی کھول دی۔ عورتیں صحن میں بیٹھی تھیں، انہوں نے کھڑکی بند کرنے کو کہا تو یہ حضرت خود کھڑکی میں آن موجود ہوئے اور بدیں ریش و فش عورتوں کو دیکھنے لگے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ یہ شریفوں اور مولویوں کی سی باتیں ہیںیالچوں اور شہدوں کی سی حرکتیں؟ ‘‘

چچا نے عالم استعجاب میں آنکھیں کھولیں، گردن جھکا لی۔ اور پھر ایک حاکمانہ انداز میں سر پھیر کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا، بولے۔ ”مولوی صاحب یہ تو آپ نے ایسی نا مناسب اور خلاف شرع حرکت کی جس پر آپ کو جس قدر الزام دیا جائے بجا ہے۔ ‘‘

مولوی صاحب دیر سے خاموش بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ چچا ہمدردانہ انداز سے خان صاحب کی گفتگو سن رہے ہیں۔ اب چچا نے انہیں مخاطب کیا تو وہ بھڑک اٹھے۔ ”سبحان اللہ!آپ بھی عجب سادہ لوح شخص ہیں۔ جو کچھ کسی نے افترا باندھا، جھٹ اس پر ایمان لے آئے۔ واہ صاحب واہ!‘‘

چچا کویہ انداز کلام کسی قدر ناگوار گزرا۔ ”تو آپ کو یہ خیال ہے کہ میں خان صاحب کی ناجائز حمایت کر رہا ہوں؟ ‘‘

مولوی صاحب بولے۔ ”ناجائز حمایت تو ہے ہی۔ آپ پہلے میری عرض بھی تو سنیے کہ میں کیا کہتا ہوں۔ ‘‘

چچا بے ضابطگی کا الزام سن کر چڑ گیے۔ بولے۔ ”تو بیان کیجیے کہ آپ کیا عرض کرنا چاہتے ہیں۔ مگر عرض ہو، طول نہ ہو، مجھے اختصار بہت مرغوب ہے۔ ‘‘

مولوی صاحب بولے۔ ”جی میں بہت مختصر طور پر سب کچھ عرض کیے دیتا ہوں۔ ہم نے مکان میں آتے ہی کھڑکی میں تالا ڈال دیاتھا۔ چنانچہ آج تک کبھی کوئی وجۂ شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ آج اتفاقیہ بچے کے ہاتھ چابی لگ گئی اور اس نے کھڑکی کھول دی۔ اور کھڑکی میں کھڑا ہو کر ان کے بچوں کو آوازیں دینے لگا۔ میں نے جب۔ ‘‘

لیکن بیان ختم ہونے سے پہلے ہی چچا نے جرح شروع کر دی۔ ”تو آپ کا بیان یہ ہے کہ آوازیں دینے کے لیے کھڑکی کا تالا کھولا تھا محض آوازیں دینے کی لیے محض؟ خوب۔ اس کے لیے بھلا کھڑکی کھولنے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘

مولوی صاحب بولے۔ ”آخر بچہ ہی تو تھا۔ اسے بھلا نیک و بد کی کیا تمیز۔ اسے تھوڑا ہی معلوم تھا کہ صاحب یہ تالا نہ کھولنا چاہیے اوروہ کھڑکی بند رہنی چاہیے۔ چابی مل گئی تھی، تالے پر نظر پڑی، کھول ڈالا۔ ‘‘

چچا ہونٹ سکوڑ سکوڑ کر اور آنکھ میچ کر منہ سر ہلاتے رہے گویا مولوی صاحب کے اس جواب میں بھی انہیں ایسے ایسے معانی نظر آرہے ہیں جودوسروں کے فہم سے بالا تر ہیں۔

مولوی صاحب نے اپنا بیان جاری رکھا۔ ”میں نے کھڑکی جو کھلی دیکھی تو فوراً بند کرنے کو لپکا اور کواڑ بند کرکے اسی وقت تالا لگا دیا۔ ‘‘

چچا نے پھر ٹوکا۔ ”کیوں حضرت یہ آپ کے گھر میں تالا کھولنا تو بچوں کو بھی آتا ہے مگر بندکرنا آپ کے سوا کسی کو نہیں آتا؟ خوب!‘‘

میر باقر علی صاحب بولے۔ ”حضرت یہ ایک اضطراری حرکت تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس کھڑکی کے بند رکھنے کا ہر وقت خیال رہتا تھا کھلی دیکھی تو یکلخت بند کرنے کو لپکے۔ ‘‘

مولوی صاحب نے مزید صفائی کے خیال سے کہا۔ ”خدا شاہد ہے جومجھے یہ گمان بھی گزرا ہو کہ صحن میں مستورات موجود ہوں گی، یا میں نے اس طرف نظر بھی ڈالی ہو۔ یہ سراسر بہتان ہے کہ میں کھڑا رہا بلکہ میں نے تو بعد میں نیچے کہلا بھی بھیجا کہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ بچے نے کھڑکی کھول دی تھی۔ ‘‘

میر صاحب نے مولوی صاحب کے چال چلن کے متعلق شہادت دی۔ ”مولوی صاحب جب سے یہاں آئے ہیں میں انہیں جانتا ہوں۔ میرے بچوں کو پڑھاتے ہیں، روز کا آناجانا ہے اور میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ اس قسم کے آدمی نہیں، چنانچہ میں نے خان صاحب سے بھی یہی کہا تھا کہ مستورات کو غلط فہمی ہو گئی ہوگی ورنہ مولوی صاحب سے کسی برے خیا ل کی توقع نہیں ہو سکتی۔ ‘‘

لیکن چچا بھلا کسی دوسرے کی رائے کو کب خاطر میں لاتے ہیں۔ بولے”دلوں کا حال خدا وند عالم بہتر جانتا ہے اور اس کے متعلق کچھ کہنے کی جرأت کرنا میری رائے میں کفر ہے۔ بہر حال ابھی سب کچھ کھلا جاتا ہے۔ تو جناب اتوار کے روز آپ گھر ہی میں رہتے ہیں؟ بجا۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر کھڑکی کھلنی تھی تو اتوار ہی کے روز کیوں کھلی جب آپ گھر میں موجود تھے؟ کسی اور دن کیوں نہ کھلی؟ ‘‘

یہ کہہ کر چچا نے نتھنے پھلا کر فاتحانہ انداز سے باری باری سب پر یوں نظر ڈالی گویا کوئی بڑا اہم نکتہ نکال کر مولوی صاحب کو لا جواب کر دیا ہے۔

مولوی صاحب اس استدلال سے پریشان سے ہو گئے تھے۔ بولے”حضرت!اس بات کی اہمیت کچھ واضح طورپر میری سمجھ میں نہیں آئی۔ باقی واقعہ یہ ہے کہ کھڑکی کی چابی گچھے میں ہے، گچھا میرے پاس رہتا ہے جب میں گھر پر ہوں گا تبھی گچھا گھر پر ہوگا اور اسی وقت کھڑکی کھلنے کا امکان بھی ہے۔ ‘‘

چچا کو اس جواب کی توقع نہ تھی۔ سر پیچھے کو ڈال کرسی پر لیٹ گئے اور بولے۔ ”اب یہ آپ کی کج بحثی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس با ت کا جواب آپ کے پاس کچھ نہیں۔ ‘‘

مولوی صاحب نے نامعلوم دانستہ یا نادانستہ چچا کو تھوڑا ساروغنِ قاز ملا۔ بولے”صاحب جو اصل واقعہ تھا وہ تو میں نے عرض کر دیا اب آپ اپنی علمیت اور قابلیت سے جو نکتہ چاہیں نکال سکتے ہیں اور مجھ سے جاہل کی کیا بساط کہ بحث میں آپ سے پیش چل سکے۔ ‘‘

چچا خوش ہو گئے۔ مولوی صاحب کے خلاف جو جذبہ اندرہی اندر کام کر رہا تھاٹھنڈا پڑ گیا۔ ایسے انداز میں ہنس پڑے گویا دانستہ محض تفریح کی غرض سے منطق کے شعبدے دکھا رہے تھے۔ مسکرا کر بولے۔ ”معلوم ہوتا ہے آپ کو بھی منطق سے دل چسپی ہے۔ لے آیا بے حقہ؟ رکھ دے ادھر، اچھا اُدھر ہی رکھ دے۔ لیجیے مولوی صاحب!نہ نہ لیجیے نا، ذرا تمباکو ملاحظہ فرمائیے گا، براہِ راست مرادآباد سے منگواتا ہوں ورنہ یہاں کا تمباکو توآپ جانئے نرا گوبر ہوتا ہے۔ مراد آباد میں ایک عزیز ہیں، کلکٹری میں پیش کار ہیں مگر صاحب ان کے رسوخ کا کیا کہنا کبھی کبھار یاد کر لیتے ہیں۔ ‘‘

مولوی صاحب نے حقے کے کش لگانے شروع کیے۔ خان صاحب نے دیکھا کہ چچا تو مولوی صاحب پر ریشہ خطمی ہوئے جا رہے ہیں، غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ بولے۔ ”جس بات کے لیے آپ نے ہمیں بلایا تھا۔ وہ تو۔ ‘‘

چچا نے بات کاٹ کر کہا۔ ”جی ہاں دیکھئے، میں عرض کرتا ہوں۔ تو جناب من باقی رہا اس جھگڑے کا قصہ، توخان صاحب میری ذاتی رائے پوچھئے تو تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجا کرتی۔ دنیا میں آج تک جتنے بھی جھگڑے ہوئے، ہمیشہ ان کا تعلق فریقین سے رہا ہے۔ ‘‘

خان صاحب نے بے اختیار پوچھا۔ ”اس جھگڑے میں میرا کیا قصور تھا؟ ‘‘

چچا نے جواب دیا۔ ”ارے بھائی کچھ نہ کچھ ہوتا ہی ہے نا۔ تمہارا نہ سہی تمہارے گھر والوں کا سہی مثلاً اب بھلا انہیں اس وقت صحن میں بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی؟ کوئی وہاں باغ تو لگا ہوا نہیں۔ آپ کہیں گے کہ وہ آپ کے گھر کا صحن تھا۔ ذرا دیر کو مان لیا کہ تھا مگر پھر اوپر کھڑکی کی طرف دیکھنا کیا ضرور تھا؟ ویسے میرا کوئی برا مقصد نہیں، تاہم دیکھئے نا کہ بات کو بڑھایا جائے تو کچھ کی کچھ ہو جاتی ہے۔ مطلب میر ایہ ہے کہ ایسے معاملوں میں تو جتنا چھانو اتنی ہی کر نکلتی ہے۔ ‘‘

میر صاحب اس کارروائی سے تنگ آچکے تھے۔ بولے۔ ”اجی اب قصور ایک کا تھا یا دونوں کا، اس بحث سے آخر کیا حاصل۔ آپ اس قصے کو کسی ایسی طرح چکائیے کہ آئندہ ان دونوں صاحبوں کا اطمینان ہو جائے۔ میں نے تو یہ تجویز کیا تھا کہ آئندہ کی اطمینان کی غرض سے مولوی صاحب کی کھڑکی میں خان صاحب اپنا تالا ڈال دیں۔ ‘‘

چچا صاحب نے کن اکھیوں سے میر صاحب کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ ”کیا مراد؟ ‘‘

میر صاحب نے کہا”مراد یہ ہے کہ مولوی صاحب کے مکان کی وہ کھڑکی مقفل رہے اور اس کی چابی اطمینان کی غرض سے خان صاحب اپنے پاس رکھیں۔ ‘‘

تجویز چچا کو معقول معلوم ہوئی لیکن چونکہ میر صاحب کی طرف سے پیش ہوئی تھی اس لئے قبول کرنے کو دل نہ چاہا۔ بولے۔ ”نہیں نہیں نہیں نہیں۔ یہ تو کچھ۔ اوہوں۔ کچھ نہیں۔ کچھ نہیں۔ اس طرح تو۔ یعنی خواہ مخواہ خان صاحب اپنا ایک تالا بیکار کر ڈالیں۔ اور اپنے گھر میں کسی دوسرے کا ایسا دخل کسی غیرت مند کو کب گوارا ہو سکتاہے؟ یہ تالا والا کچھ نہیں، کوئی اور تجویز ہونی چاہیے، کوئی معقول تجویزجو طرفین کے لیے فائدہ مند بھی ہو اور اطمینان کا باعث بھی ہو۔ کیوں صاحب!اگر کھڑکی چنوا دی جائے تو کیسا ہے؟ ‘‘

خان صاحب بولے۔ ”اول تو مالک مکان اب یہاں ہے نہیں اور اگر اسے لکھا بھی جائے تو وہ اسے منظور نہ کرے گا۔ میں نے ایک مرتبہ کی تھی یہ تجویز پیش، وہ کہنے لگے کہ اس کھڑکی کے بند ہونے سے کمرہ تاریک ہو جائے گا۔ ‘‘

چچا نے کہا۔ ”یہ دوسری بات ہے ورنہ تجویز خوب تھی۔ اپنا ہمیشہ کے لیے یہ قصہ ختم ہو جاتا۔ مثلاً آپ دونوں کے چلے جانے کے بعد کوئی اور دو کرائے دار آکر آباد ہوتے تو ان میں کسی قسم کی بد مزگی کا امکان نہ رہتا۔ آیا نا خیال شریف میں؟ مگر یہ کمرے میں اندھیرا ہو جانے کا سوال بے شک ٹیڑھا ہے۔ خیر نہ سہی یوں، کسی اور ترکیب سے کام لے لیجیے۔ ترکیبیں بہت، بے حد و شمار، مجھے تو صرف آپ لوگوں کی سہولت کا خیال ہے، ورنہ میں تو تجویزوں کا انبار لگا دوں پریشان کر دوں آپ کو۔ بڑے بڑے قصے چکائے ہیں۔ اس ایک کھڑکی بے چاری کی کیا حقیقت ہے۔ تو یوں کیوں نہ کیجیے، مثلاً آپ دونوں میں سے ایک صاحب مکان خالی کر دیں اور کسی دوسری جگہ جا رہیں۔ کیوں صاحب کیارائے ہے؟ ‘‘

خان صاحب اور مولوی صاحب پہلے کچھ منہ ہی منہ میں بولے، پھر خان صاحب نے کہا۔ ”صاحب میں تو مکان چھوڑ نہیں سکتا، کہاں نیا مکان تلاش کرتا پھروں؟ ‘‘

مولوی صاحب نے بھی معذوری ظاہر کی۔ ”حضرت میرے لیے تویہ فل الحال نا ممکن ہے، اتنے کرائے میں اس قدر گنجائش بھلا اور کہاں ملے گی!‘‘

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4