میرا خودکشی سے زندگی تک کا سفر
یہ تب کا قصہ ہے، جب میں خود کشی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ایک منزل متعین کی، چند قدم منزل کی طرف بڑھے تھے، کہ میرا قدم غلط سمت اٹھ گیا؛ پھر ایسا بھٹکا کہ منزل ہی بھلا دی گئی۔ بھول بھلیوں میں زاد راہ ختم ہو گیا۔ زاد راہ ختم ہو جائے تو بقا کی جنگ شروع ہو جاتی ہے؛ دو بوند کی تلاش مقصد بن کر رہ جاتا ہے، ایسے میں راہ کھوٹی کر دینے والا سرابوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کام یابی کا یہ احوال ہے کہ یہ مجرد نہیں ہوتی؛ ہر ایک حصے دار بنتا ہے؛ کسی ایک کی کام یابی میں ہر کوئی اپنا کردار دیکھ لیتا ہے۔ ناکام یابی وہ غم گین نغمہ ہے، جسے تن تنہا گایا جاتا ہے۔ ناکام یابی کا ذمہ دار صرف ناکام یاب شخص قرار پاتا ہے۔ کسی دوسرے کی ناکامی کا تجزیہ ضروری بھی نہیں، یہ مہمل کار ہے؛ لیکن کسی شخص کے لیے اپنی ناکام یابی کی وجوہ کو سمجھنا اہم ہوتا ہے، تا کہ وہ آیندہ پہلی سی غلطیاں نہ دہرائے۔
میرا بال بال قرض میں جکڑا تھا، مایوسی نے بری طرح گھیر لیا، تو میں نے خودکشی کے طریقوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ یہ کہ زہر پھانک کر مرنا آسان ہے، یا ریل تلے آ کے کٹ جانا؛ پانی میں ڈوب مرنا چاہیے، یا پہاڑ سے کود جانا چاہیے۔ مایوسی کا مطلب کفر ہوتا ہے؛ چہار سو تاریکی تھی؛ تصور ہی تصور میں اپنی کنپٹی پر پستول رکھا، تو گھٹا ٹوپ میں روشنی کی ایک لکیر ابھری۔ خیال آیا کیوں نہ وہ پستول جو کنپٹی پہ رکھنا ہے، اس کو سامنے کی طرف تان لیا جائے! کچھ نہیں تو اس پستول کی مدد سے ڈاکا تو ڈالا جا سکتا ہے۔ خیال کے پردے سے خیال نکلا، کہ ڈاکے کے لیے بھی ایک طرح کی جرات کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن حقیقی جرات وہ ہے جس کا امتحان بھلائی کی راہ میں ہوتا ہے، بدی کے راستوں ہی نے تو تاریکی میں لا پھینکا ہے؛ سو برائی کا راستہ پھر کسی تاریک غار میں لے جائے گا۔ خود سے سوال کرتا رہا؛ سوال سے سوال اور سوالوں سے جواب ملتے رہے۔ امید کی کرن چاہے جتنی مدھم ہو، آخر میں بڑی توانا ہو کے اجالا کرتی ہے۔
میں نے یہ قصد کیا کہ اب اس صحرا میں نہیں جانا، جہاں ہیرے موتی ریگ کر آیا ہوں؛ دیکھا جائے تو ہیرے موتی وقت ہوتا ہے۔ وقت ہی ہے جسے ضائع کیا جاتا ہے۔ مال و دولت ہاتھ کی میل سے بڑھ کے نہیں ہوتی؛ پہلے کمایا ہے تو پھر کمایا جا سکتا ہے۔ خود سے عہد کیا کہ کوئی بھی مزدوری کروں گا، لیکن بھیک نہیں مانگوں گا؛ کسی ڈھابے پہ بیرا گیری کرلوں گا، لیکن ٹِپ نہیں لوں گا۔ سگریٹ اپنے جیب خرچ سے پیتا آیا، اپنی کمائی سے پیوں گا، چاہے گھٹیا تمباکو پینا پڑے؛ اور اگر سگریٹ مانگنے کی نوبت آئی تو تمباکو نوشی چھوڑ دوں گا۔ جس جس کو اپنا خیر خواہ سمجھا اس اس کو اطلاع دے دی کہ میں ریگستان سے لوٹ آیا ہوں، اور کوئی بھی کاج کرنے کو تیار ہوں۔ میرے پاس ایک صفر تھا، جو میری بے وقعتی کا احساس دلاتا تھا، میں نے اس صفر سے آغاز کیا۔ وزیر آغا کی نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو۔
چنا ہم نے پہاڑی راستہ
اور سمت کی بھاری سلاسل توڑ کر
سمتوں کی نیرنگی سے ہم واقف ہوئے
ابھری چٹانوں سے لڑھکتے
گھاٹیوں سے کروٹیں لینے کی
اک بگڑی روش
ہم نے بھی اپنائی
کھڈوں کی تہہ میں بہتے پانیوں سے
ہم نے چلنے کا چلن سیکھا
میں خوش قسمت ہوں، کہ مجھ پر خدا ہمیشہ سے مہربان رہا ہے؛ میں نے جو گنجل خود ڈالے تھے، وہ ایک دن میں نہیں سلجھے؛ لیکن ایک دن سلجھ گئے۔ جو شخص معمولی آمدن والے کاموں کے لیے تیار تھا، اس کو اس کی توقع سے سو گنا بہتر ملازمت مل گئی۔ آپ نے کچھوے اور خرگوش کی کہانی پڑھی ہے، تو سمجھیے اس کہانی کا خرگوش میں ہوں۔ بہت سے کچھوے محض مستقل مزاجی سے چلتے رہنے کی وجہ سے مجھ سے آگے نکل گئے اور میرے باس بن بیٹھے۔ ایسے میں میری انا کا کڑا امتحان تھا۔ دوڑ کے درمیان سو جانے والے کو کچھ سزا تو ملنی چاہیے تھی۔ آپ کسی بھی فن میں طاق ہوں، یہ کافی نہیں ہے۔ مسلسل جست جو کرنا، اپنی منزل پر نظر رکھنا، ان تھک محنت، مستقل مزاجی، صبر جیسے وصف پار لگاتے ہیں۔ کہانیاں جب تک آپ بیتی نہ بن جائیں، ان کے مفہوم سمجھ نہیں آتے۔ دو ڈھائی سال کی ملازمت میں کچھ قرض اتارے کچھ باقی رہے؛ کھویا ہوا اعتماد بحال ہوا تو ملازمت کی بھاری سلاسل توڑ کر، سمتوں کی نیرنگی سے واقف ہونے کی ہڑک اٹھی؛ فری لانس ہو گیا۔ بہت سے خوابوں کی تعبیر پائی، بہت سے خواب ادھورے ہیں، لیکن مایوسی نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے؛ زندگی باقی ہے اور سفر جاری ہے۔ کل کیا ہو یہ کون جانے!
یہ احوال یوں کہا، کہ آپ میں سے کوئی نا امید ہے، تو اس کو یہ پیغام دینا ہے، مایوسی اندھیرے کا نام ہے۔ تاریکی میں راستہ نہیں دکھائی دیتا، مگر راستہ بہرحال کہیں نہ کہیں ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو وقت دیں، یہیں سے کرن پھوٹے گی۔ آپ جس گنجل میں پڑے ہیں، اس گنجل کو آپ ہی نے سلجھانا ہے۔ آپ نے جو منزل متعین کی ہے، اس سے نگہ چوک گئی ہے، تو خود سے ہم کلام ہوں، آپ کا ہم زاد آپ خود ہیں؛ آپ کا ہم زاد ہی آپ کو جانتا ہے۔ ایسا کوئی نہیں ہے جس کی زندگی میں کبھی مشکلیں نہ پڑی ہوں؛ ایسا کوئی نہیں ہے جس نے کوئی غلطی نہ کی ہو۔ ایسا کوئی نہیں ہے جو آیندہ غلطی نہیں کرے گا۔ آپ نے کل جو کیا تھا، وہ کل تھا۔ وہ اچھا تھا، وہ برا تھا؛ اس کل کا ماتم کرنا حماقت ہے۔ آج کی بات کریں؛ آج کا نام زندگی ہے، یہ آپ کی زندگی ہے، اس کا خیال رکھیں۔ اور یہ کہ ہمیشہ صفر سے آغاز کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ جسے صفر سے آغاز کرنے میں عار نہ ہو، وہی کامران ہے۔ منزل پر پہنچ جائیں، یہ ضروری نہیں؛ زادِ راہ امید لیں، منزل مقصود سے نگاہ نہ ہٹائیں، یہی کام یابی ہے اور کام یابی کچھ بھی نہیں ہوتی۔


