پسنی فش ہاربر کی بحالی
پسنی ماہی گیروں کی ایک قدیم بستی ہے جو ماضی میں مکران کا تجارتی گیٹ وے تھا جہاں بحری جہازوں کے ذریعے سے ایکسپورٹ اور ایمپورٹ کاروبار ہوا کرتا تھا۔ ساحل کنارے آباد یہ بستی اب ایک شہر بن چکی ہے۔ پسنی میں 90 فیصد افراد کا روزگار سمندر سے منسلک ہے۔
ماہی گیروں کی سہولت کے لئے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں فش ہاربر بنایا گیا تھا۔ 56 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے پسنی فش ہاربر کا افتتاح اس وقت کی وزیر اعظم شہید بے نظیر بھٹو نے 4 اپریل 1989 کو کیا تھا۔ اور یہ فش ہاربر مقامی لوگوں کی روزگار کی تحفظ کی ضمانت کے لئے بنایا گیا ہے۔ پسنی فش ہاربر کی تعمیر کا کام ایک جرمن کمپنی نے کیا تھا۔ اور پسنی فش ہاربر کے انتظامی اور مالی اختیار پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی کے نام پر ایک صوبائی اتھارٹی بنا کر ان کے سپرد کردئے گئے۔ پسنی فش ہاربر ماضی میں ایک منافع بخش ادارہ تھا جہاں پسنی فش ہاربر ریونیو اور ٹیکس کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپیے کماتا تھا۔ کیونکہ مچھیلوں کو اتارنے کے بعد مول میں مچھلیوں کی نیلامی ہوتی تھی جہاں دو فیصد ٹیکس ہاربر اتھادٹی کو ملتا تھا۔ پسنی فش ہاربر کی بندش سے یہاں مچھلیوں کی لینڈنگ نہ ہونے سے ماہانہ ہاربر اتھارٹی کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پسنی فش ہاربر کی تعمیر کے بعد یہاں فش ہاربر کے ایریا میں آئس فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ فش کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوگئے اور مکران اور اندرون سندھ سے سینکڑوں افراد حصول روزگار کی خاطر پسنی آ گئے اور پسنی مکران کا معاشی مرکز بن گیا۔ خوشحالی اور ترقی کا یہ سلسلہ اس وقت ماند پڑ گئی جب 2006 میں پسنی فش ہاربر عدم ڈریجنگ کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہوتا گیا ہے۔ اور یہاں سے ماہی گیروں کے مشکلات کا آغاز شروع ہوا ہے۔ پسنی فش ہاربر کی بحالی کے حوالے سے مختلف ادوار کے حکمرانوں نے دعوے تو بہت کیے مگر ہاربر کی مکمل بحالی اب تک سوالیہ نشان بن گئی۔ مختلف ادوار میں پسنی فش ہاربر کی بحالی کے لئے کروڑوں روپیے خرچ تو ہوگئے مگر اس کے ثمرات یہاں کے ماہی گیروں اور سرمایہ کاروں تک نہ پہنچ سکے۔ اور حالیہ حکومت کے دور میں پسنی فش ہاربر کی بحالی پر کافی کام تو ہوگیا اور ماہی گیروں کے مطابق صرف چند ماہ کے لئے پسنی فش ہاربر بڑی کشتیوں کے لئے بحال ہوگیا تھا۔ مگر کام کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچانے کی وجہ سے اب پھر بڑی کشتیوں کا پسنی فش ہاربر میں لنگرانداز ہونا ناممکن ہوگیا ہے۔ جبکہ بریک واٹر کا کام بھی تاخیرکا شکار ہوکر اب تک شروع نہ ہو سکا ہے۔
پسنی فش ہاربر سے اس وقت چار سے پانچ لاکھ افراد براہ راست یا بالواسطہ روزی روٹی کمارہے ہیں اور ہاربر کی بندش سے پسنی کے کشتی مالکان عارضی طور پر ”پسنی ہور“ میں لینڈنگ کرتے ہیں جو کہ ایک ماہی گیر فضل کے مطابق لینڈنگ کے لئے کافی غیر محفوظ ایریا ہے اور ”ہور“ میں لینڈنگ سے کئی کشتیاں ٹوٹ کر کشتی مالکان کو لاکھوں کا نقصان پہنچانے کا سبب بن چکی ہیں۔ اب لانچ مالکان پسنی میں لینڈنگ کی بجائے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ مقامی آئس فیکٹری مالک اور سی فوڈ کے بزنس سے منسلک شربت گل نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پسنی فش ہاربر کی عدم بحالی سے علاقے کی معاشی سرگرمیاں ماند پڑچکے ہیں جس سے مقامی سرمایہ کاروں کو سالانہ لاکھوں روپے کے روزگار سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے کشتی مالکان یہاں مچھلیوں کی لینڈنگ کرتے تھے جس سے یہاں کے فش بیوپاریوں کو فائدہ ہوتا تھا اور پھر یہاں سے برف راشن اور تیل اپ لوڈنگ سے مقامی بزنس طبقے کو فائدہ ہوتا تھا اب چونکہ بڑے لانچ اور کشتیاں گوادر اور کراچی میں لینڈنگ اور لوڈنگ کرتے ہیں جس سے پسنی کے برف کارخانوں۔ فش بزنس مینوں اور دکانداروں کو نقصان کا سامنا ہے۔ شربت گل کا کہنا کہ یومیہ اجرت سے کام کرنے والے مزدور بھی ہاربر کی عدم بحالی سے معاشی حوالے سے پریشان ہیں۔ ایک مقامی ماہی گیر رہنما کا کہنا ہے کہ پسنی کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش پسنی فش ہاربر ہے اور پسنی فش ہاربر کی عدم بحالی سے شہر کے ماہی گیر سمیت دیگر مکاتب فکر کے لوگ بھی متاثر ہیں ان کا کہنا کہ ہاربر کی دوبارہ بحالی اشد ضروری ہے۔
بلوچستان کے موجودہ مخلوط صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پسنی فش ہاربر کی مکمل بحالی کے اعلان کے ساتھ ہاربر کے لئے ایک ڈریجر مشین بھی خریدنے کے دعوےکیے تھے مگر ابتک یہ وعدے وفا نہ ہوسکے اور مقامی ماہی گیر گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے صرف عارضی طور پر چند ماہ کے لئے پسنی فش ہاربر (جے ٹی) کو بحال کیا مگر اب دوبارہ پسنی فش ہاربر مٹی میں دھنس جانے کی وجہ سے جے ٹی کے چینلز بڑے کشتیوں اور لانچوں کے لئے پھر بند ہوچکے ہیں۔ مقامی ماہی گیر اسے غلط پلاننگ کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہتا کہ بریک واٹر کی کام کو مکمل کرکے ہاربر کی ڈریجنگ کے لئے مستقل ڈریجر مشین لایا جائے جو کہ وقتا فوقتا ہاربر کی ڈریجنگ کرتا رہے۔
چھوٹی کشتیاں ”پسنی ہور“ میں مچھیلوں کی لینڈنگ کرتی ہیں اور پھر سمندر میں جانے کے لئے برف۔ راشن اور ڈیزل کی لوڈنگ سے ان کو اضافی اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔ کشتی مالک عبدالحکیم کہتا ہے کہ پسنی فش ہاربر کی عدم بحالی کی وجہ سے ہم گوادر بندرگاہ میں مچھلیوں کی لینڈنگ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پسنی ہور چونکہ محفوظ ایریا نہیں جہاں پانی کا دباؤ کم ہونے سے کشتیاں پھنس جاتی ہیں اور یہاں کشتیوں کی لینڈنگ ایک رسک ہے اور پھر اضافی اخراجات الگ ہوتے ہیں۔ مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پسنی فش ہاربر کی بحالی کے کام کو دوبارہ شروع کیا جائے جبکہ پسنی فش ہاربر کے لئے ایک ڈریجر مشین خرید کر اسے ہاربر کی صفائی کے لئے مخصوص کیا جائے جو ہر وقت ہاربر کی صفائی کے عمل کو جاری رکھے۔ تاکہ ماضی کا یہ منافع بخش ادارہ پھر بحال ہو جائے۔


