اب ٹرمپ کارڈ نوازشریف کے ہاتھ میں ہے


نوازشریف کو نااہل کرانے کے بعد کپتان پہاڑوں پر چلا گیا۔ اپنے بڑے حریف کو گرانے کے بعد مستقبل کے منصوبوں کے لیے سوچ بچار ضروری تھی۔ وہ بھی ایسے میں کہ کامیابی سامنے دکھائی دینے کے باوجود غیر متوقع طور پر ہی ملی تھی۔ کپتان کی خاموشی کا وقفہ شاید طویل ہی رہتا کہ ٹرمپ نے ہمارے خطے کے لیے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کی پرانی سیاسی قیادت زیادہ تر خاموش رہی۔ اس خاموشی کی وجہ معلوم ہے کہ یہ سب چاہتے ہیں کہ جنہوں نے افغان پالیسی بنائی تھی وہ جانیں اور ان کا کام جانے۔ ایسے میں دفاع پاکستان کی پارٹیوں کے علاوہ اگر کوئی گرج کے برسا ہے تو وہ کپتان تھا۔ اس نے عوامی امنگوں کے مطابق بات کی۔ غیر ملکی ٹی وی چینلوں کو جو انٹرویو دیے اس میں پاکستانی موقف کی بھرپور ترجمانی کی۔ کپتان کو اپنے اس موقف کا ایک یقینی فائدہ ہو گا۔ یہ سب کرنے کے علاوہ سکھر جا کر زرداری صاحب کے خلاف مہم شروع کرنے سے بھی سیاسی فائدہ ہی ہو گا۔

آصف زرداری نے کبھی کپتان کے جلسے گرمانے کے لیے جیالوں کی نفری فراہم کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ کپتان نوازشریف کا ووٹ تقسیم کرے گا جس کا وہ فائدہ اٹھائیں گے۔ جیالے ایسے گئے کہ پی پی کا پنجاب سے صفایا ہو گیا۔ اب اک دکا جیالا دور دور دکھائی دیتا ہے وہ بھی بے آسرا اور بے سمت۔ زرداری صاحب آج کل لاہور بیٹھ کر میاں صاحب کو جلی کٹی سنا رہے ہیں۔ ان کے تازہ زخموں پر نمک مرچ چھڑک کر لیموں نچوڑ رہے ہیں۔ ویسے ایک مسلم لیگی پہلوان کا پہلے دن سے دعوی ہے کہ پی پی ہمارے ساتھ ہے۔ قوم پرست بھی ساتھ ہیں۔ متحدہ بھی کہیں نہیں گئی۔ آئینی ترمیم جب ہمارا دل ہوا، ہم کر لیں گے۔ بلکہ یہ سب بھاگے آئیں گے اور سب سے آگے زرداری صاحب ہونگے کہ فوری کچھ کریں۔

اک پاکستانی گورے کا کہنا ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ نوازشریف پرسکون کیسے ہیں۔ یہ گورا گوروں صحافیوں کے ساتھ دوڑ لگا لگا کر گورا ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے نوازشریف نکالے گئے ہیں انہوں نے اپنا ووٹ بنک تو چلو اپنے ساتھ کھڑا دکھا دیا ہے۔ ان کی پارٹی بھی تقسیم نہیں ہوئی یہ دونوں باتیں ان کے لیے قابل اطمینان تو ہیں لیکن ان کا سکون ذرا زیادہ ہے۔ پرسکون رہنے کے حوالے سے اپنے اس دوست کو سرداروں کے ایک دو لطیفے بھی سنائے لیکن اس کو چین نہ آیا۔

جب سے شاھد خاقان عباسی آئے ہیں سکون سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ جتنے آئینی قانونی ادارے ہیں ان کے اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ فیصلے کر رہے ہیں بھاگے پھر رہے ہیں۔ ان کی طرف سے اپنے لیڈر اور جاری سیاست کے ساتھ ایک لاتعلقی کا اظہار ہوتا ہے۔ اب مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر اس میں مردم شماری کے ابتدائی نتائج کی منظوری لی گئی ہے۔ ہم وطنوں کو مبارک ہو اب ہم آبادی کے حساب سے دنیا میں پانچویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ برازیل کو ہمارے بزرگوں جوانوں کی محنت نے چھٹے نمبر پر دھکیل دیا ہے۔

مردم شماری کے جو نتائج آئے ہیں اس کے مطابق فاٹا کی آبادی کم ہو گئی ہے اندازوں سے۔ کے پی کی بڑھ گئی پنجاب کا آبادی کا تناسب اب بھی پچاس فیصد سے زیادہ ہے لیکن تھوڑا کم ہو گیا ہے۔ کے پی کی آبادی بڑھ گئی ہے بلوچستان کی بھی بڑھ گئی ہے۔ سندھ میں کراچی کی آبادی اکیانوے لاکھ سے بڑھ کر تقریبا دو کروڑ کے نزدیک جا پہنچی ہے۔ وہ مبارک ساعت آ پہنچی ہے جب بڑا کچھ بدلنے جا رہا ہے۔

قانونی پوزیشن یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہر صورت مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ایک چٹا جواب دے دیا ہے کہ وہ اگلے الیکشن سے پہلے ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کی تکنیکی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی نتائج پر وہ حتمی حلقہ بندیاں نہیں بدل سکتا اس کے لیے حتمی مردم شماری کے حتمی نتائج درکار ہے۔ یہ نتائج بھی آئیندہ الیکشن سے چھ مہینے پہلے ملنے چاہئیں۔ اس بور صورتحال کو نظر انداز کریں اصل بات کی طرف آئیں۔

الیکشن کمیشن اگر نئی حلقہ بندیاں کرتا ہے تو فاٹا کی قومی اسمبلی سیٹیں کم ہوں گی۔ پنجاب کی بھی لازمی طور پر کم ہوں گی۔ کے پی کی سیٹیں بڑھانی ہوں گی شاید ایک آدھ بلوچستان کی بھی بڑھانی پڑے۔ یہ سب بہت آسان ہے کوئی ٹینشن والی بات نہیں۔ فاٹا والی سیٹ کم کرنے پر الیکشن کمیشن کے ملازمین کو بس سر وغیرہ پھڑوانے ہوں گے۔ قومی مفاد میں یہ معمولی بات ہے۔

جو اصل معرکہ ہونا ہے وہ سندھ میں ہونا ہے۔ جہاں شہری دیہی آبادی کا تناسب بدلا ہے۔ کراچی کی سیٹیں نئی مردم شماری کے مطابق کریں تو بڑھ جائیں گی۔ کتنی بڑھیں گی یہ فسادی بات کرنے سے ہمارا صاف جواب ہے۔ موجودہ شماریات کو دیکھتے ہوئے اگر حلقہ بندیاں بدلتی ہیں تو سندھ میں پی پی اب اکثریتی پارٹی نہیں رہے گی۔ یہ ایسی صورتحال ہے کہ اب آئینی ترمیم کر کے اسمبلیوں کی سیٹیں آبادی کے مطابق بڑھانی ہوں گی۔ تقریبا ایک تہائی سیٹوں کا اضافہ کرنا ہو گا۔ سیٹوں کا یہ اضافہ کروانا اب پی پی کی مجبوری ہے۔ جلد ہی ہمیں الطاف بھائی کے نئے آئٹم سانگ کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔ حکومت اب الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنے کو کہے گی۔ پی پی کو سندھ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ایک آئینی ترمیم کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں ٹرمپ کارڈ نوازشریف کے ہاتھ میں دکھائی دے گا۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi