پرسنل گروتھ بہت ضروری ہے


گزشتہ دنوں سکول کی ایک دوست سے بہت عرصے بعد بات ہوئی۔ تقریبا پندرہ سال کے عرصے بعد۔ وہ میری بہت ہی قریبی دوست تھی، مگر پھر ہم ایک شہر میں نہ رہے تو رابطہ بھی ختم ہو گیا۔ میری جب اتنے عرصے بعد اس سے بات ہوئی تو ایک بات میں نے شدت سے محسوس کی کہ اس کی شخصیت میں بڑھوتری اور بدلاو اس طور سے نہیں آیا اور اس کی گروتھ اس لحاظ سے نہیں ہوئی جس لحاظ سے میری توقع تھی۔ وہ وقت میں رک سی گئی اور نئی جدت، دنیا کے قریب آجانے اور ٹیکنالوجی نے اسے اس طرح سے نہیں چھیڑا جس طرح کہ تبدیلی تقریبا ہر شخص میں آئی ہے۔ وہ خود بھی پڑھی لکھی تھی اور شادی بھی اس کی ایک قابل ڈاکٹر سے ہوئی مگر اس کی باتوں میں مجھے ایک شدید ذہنی گھٹن محسوس ہوئی اور وہ میری ذاتی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ کرید کر رہی تھی ایسی کرید جو بعض اوقات بے معنی اور بے مقصد بھی محسوس ہوئی ۔ اس سے مزید بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کی شادی پڑھائی ختم کرنے کے فورا بعد ہوگئی تھی اور شادی کے بعد اس کی ساس نے اس کو اپنے بہت کنٹرول میں رکھا۔ وہ اسے ہانڈی پکانے کا کہہ کر کچن میں ایک کرسی رکھ کر بیٹھ جاتی تھیں اور اگر وہ ٹماٹر ڈالنے سے پہلے ہی مرغ بھی ہانڈی میں ڈال دیتی تو انہیں اس بات پر اعتراض ہو جاتا تھا کہ ہانڈی ان کی بتائی گئی ترکیب سے کیوں نہیں پک رہی۔ اس کو گھر سے باہر نکلنے کے کوئی مواقع میسر نہیں تھے اور اس کو نئے دوست بنانے یا پرانے دوستوں سے میل جول رکھنے کا موقع بھی نہیں ملا ، نہ تو وہ کوئی کتاب پڑھ سکتی تھی اور نہ ہی اس کتاب سے سیکھے گئے اسباق کو ذاتی زندگی میں آزما سکتی تھی۔ اس کے اپنے یہ پردے اٹھانے سے مجھے اس کے رویے کا راز مل گیا۔

ڈاکٹر لبنی مرزا کا گزشتہ کالم آپ کہاں ختم ہوئے اور میں‌ کہاں‌ سے شروع ہوئی؟ میرے دل کو چھو گیا۔ مجھے ذاتی طور پر لوگوں کو یہ بتانا نہیں آتا کہ میں آپ سے یہ بات شئیر نہیں کرنا چاہتی اور میں لوگوں کے اپنی حدود میں داخلے پر ہر وقت پریشان رہتی ہوں، میں اب لوگوں سے یہ جملے کہنا سیکھنا چاہتی ہوں اور سیکھنا شروع کر رہی ہوں۔ جب میں نے لوگوں کے رویوں پر اس حوالے سے مزید سوچا تو مجھے یوں لگا کہِ یہ بات سمجھنا کہ ہم دوسرے کی زندگی میں دخیل تو نہیں ہو رہے، اور اپنی حدود پر قائم رہنا ایک ذاتی گروتھ، نمود یا ذہنی اور جذباتی نشوونما اور نفاست کے ایک اعلی درجے کا متقاضی ہے۔ جب تک ایک انسان اپنی ذات کے حوالے سے مطمئن نہیں ہو گا، اس کے پاس ایکسپوژر نہیں ہو گا اور وہ اپنی ذات کے حوالے سے کمی یا گھٹن کا شکار ہو گا تو وہ دوسروں کے حوالے سے حساس نہیں ہو سکے گا۔

پرسنل گروتھ یا ذاتی اور ذہنی ارتقا کے لئے چند بنیادی باتیں ضروری ہیں۔ مثلا ایک انسان اپنی کمزوریوں اور قوتوں سے واقف ہو، جبھی وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو کام میں لا کر اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکے گا۔ وہ اپنی زندگی میں ایک مقصد رکھے ، وہ ایک منصوبہ سازی کرےاور پھر ہر روز اپنی صلاحیتوں کو ابھارنے پر توجہ دے سکے وہ تبدیلی سے نہ ڈرے اور نئے خیالات جاننے کا شوق رکھے اور نئی سے نئی باتیں اپنے اندر جذب کر سکے۔ پھر اس کے اندر ایک تجزیاتی صلاحیت پیدا ہو سکے گی اور وہ اپنے علاوہ دوسروں کا بھی سوچ سکے گا ۔

 مگر ہمارے ہاں اپنی ذاتی گروتھ پر توجہ دینے کا رواج نہیں ہے۔ مگر اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہم برے رویوں کا سامنا کرتے ہوئے تمام دن سروائیول کی جنگ میں گزارتے ہیں تو وہ سکون ہماری زندگی سے مفقود ہو جاتا ہے جو ذاتی گروتھ کے بارے میں سوچنے اور بڑھنے کہ مہلت دیتا ہے۔ غیر یقینی کیفیت اور خوف کے حالات میں کسی بھی شخص کی کسی بھی قسم کی صلاحیتوں کا نمو پانا بہت مشکل ہے۔

شروع میں اپنی دوست کی مثال بانٹنے کا مقصد بھی یہ تھا کہ ہمارے ہاں خواتین خصوصا اس قدر ذہنی دباو اور گھٹن کا شکار ہوتی ہیں کہ وہ ذہنی بالیدگی کہ اس درجے تک پہنچنے کی توانائی ہی نہیں رکھتیں، انہیں ایک اتنی کنٹرولڈ فضا میں جینا پڑتا ہے کہ وہ ذاتی گروتھ یا اپنے آپ کو بہتر سے بہترین کئے جانے کے تصور اور ضرورت سے بھی واقف نہیں ہوتیں۔ ایک مدافعانہ زندگی گزارتے رہنے کی وجہ سے ان کے اندر شاید بہت سی حسیات بیدار ہی نہیں ہو سکتیں۔ شاید ان کی یہی اپنی گھٹن ہی ردعمل کے طور پر دوسروں کی ذاتی زندگی پر تبصرے کرنے اور دخل دینے کی صورت میں بھی نکلتی ہے۔

پرسنل گروتھ کے لئے بہت اہم چیزیں تبدیلی سے نہ ڈرنا اور تجربات کرنے کی اہلیت رکھنا ہے اور یہ ذاتی اہلیت کے علاوہ ارد گرد کے گھریلو ماحول پر بھی منحصر ہے۔ ہمارے ہاں خواتین زندگی کا ایک بڑا حصہ شادی کے بعد گزارتی ہیں اور ایسے میں وہ اپنی گروتھ پر کتنی توجہ دے سکتی ہیں، اس کا بیشتر انحصار ان کے سسرال اور جیون ساتھی پر ہے کہ آیا کہ وہ خود بھی تبدیلی کو قبول کرتے ہیں اور تجربات سے نہیں ڈرتے اور پھر وہ اپنے سے منسلک خاتون کو بھی ایسا موقع فراہم کرتے ہیں یا کہ نہیں۔

میں نے شادی کے بعد بیسیوں نت نئے کھانے پکانے سیکھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میاں صاحب کے کھانے کے شوقین ہونے کی وجہ سے پہلے ہم کسی ریستوراں میں ایک نئی ڈش کھاتے اور اس کے ذائقے سے واقف ہونے کے بعد میں انٹرنیٹ پر اس کی ترکیب تلاش کر کے اس کے اجزا خریدتی اور پھر اس کو گھر میں بناتی اور اس میں بھی مجھے یہ پوری تسلی رہتی تھی کہ اگر تجربہ ناکام ہو گیا تو مجھے ذاتی طور کسی بھی طرح کے برے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر مجھے یہ ڈر ہوتا کہ مصالحے ضائع ہو جانے پر مجھے تعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے گا جیسا کہ بیشتر خواتین کو بنایا جاتا ہے تو شاید میں ایک تجربہ بھی نہ کر پاتی اور ڈر کر بس اماں حوا کے زمانے کی چار ہانڈیاں ہی پکاتی رہتی۔ اس مثال کا مقصد یہ تھا کہ ہر معاملے میں ہی آگے بڑھنے کے لئے تجربہ کرنا اور تجربہ کرنے کے لئے متعلقہ اجزا اور آزادی کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ لوگ اور ہمارے معاشرے میں خصوصا وہ خواتین بہت خوش قسمت ہیں جنہیں یہ آزادی نصیب ہے کہ وہ اپنے بارے میں سوچ سکیں اور اپنی ذاتی نمو پر توجہ دے سکیں ہاں پھر ان کے لئے یہ راستہ بہت آسان ہے کہ وہ پڑھیں لکھیں، کام کریں کتابیں پڑھیں، سیکھیں، سیاحت کریں، مشغلہ اپنائیں، اپنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں اور بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ایسی خواتین کا تناسب بہت کم ہے۔

Facebook Comments HS

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے maryam@maryamnasim.com

maryam-nasim has 65 posts and counting.See all posts by maryam-nasim