پاکستان امریکا معاملات: جوش کی بجائے ہوش کی ضرورت
گزشتہ ہفتہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان الزام تراشی اور ان کی تردید کا مقابلہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے تند و تیز الفاظ کے استعمال کے بعد وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کو فوجی امداد بند کرنے اور نان نیٹو حلیف کی حیثیت ختم کرنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ افغان طالبان کے رہنما پشاور اور کوئٹہ میں موجود ہیں اور وہ وہاں سے افغانستان میں جنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ جب افغانستان کا 40 فیصد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے تو اس کے لیڈروں کو پاکستان میں پناہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ اگر مشرقی افغانستان میں موجود پاکستان دشمن دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے تو وہ کس منہ سے پاکستان کو افغان طالبان کے خلاف مزید اقدامات کرنے کے لئے کہہ سکتا ہے۔ اسی دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دو واضح پیغام دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ 16 بر س کی جنگ میں امریکہ کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں سیاسی ڈائیلاگ سے حل ہو سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کسی صوررت افغان جنگ کو پاکستان میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ حتی الامکان تعاون کرنا چاہتا ہے لیکن امریکہ کو بھی الزام تراشی کی بجائے عملی تعاون پر بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدرٹرمپ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ان کی افغان پالیسی بھی ان کے پیشروﺅں کی طرح ناکام ہوگی۔ امریکی گھن گرج کے بعد پاکستان کی طرف سے اپنی حکمت عملی پر اصرار سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دونوں ملکوں کو نقطہ نظر کے اختلاف کے باوجود مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی افغانستان میں پائیدار امن کے لئے کوئی حل تلاش کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر امریکہ مختلف ہتھکنڈوں سے پاکستان کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کرے گا اور اسے افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ کا ہوّا دکھا کر اپنی مرضی کی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کرے گا تو یہ پالیسی بارآور نہیں ہوگی۔ بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے اور اس طرح پاکستان کو دباﺅ میں لانے کا خواہشمند ضرور ہے لیکن وہ بھی مزید اور وسیع سرمایہ کاری کے لئے امریکی صدر کی خواہش پوری کرنے کے قابل نہیں ہے۔ گزشتہ دس برس میں بھارت نے افغانستان میں 2 ارب ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ کاری کی ہے۔ اب صدر ٹرمپ نے بھارت کو افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں پر مزید سرمایہ لگانے کی دعوت دیتے ہوئے یہ بھی جتایا ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر منافع کماتا ہے۔ اس لئے اسے اس میں سے کچھ سرمایہ امریکہ کی مدد کرنے کے لئے افغانستان میں لگانا چاہئے۔
گویا امریکی صدر دھونس کے ذریعے اپنے ایک متوقع قریب ترین حلیف کو افغانستان میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئی دہلی کے لئے داخلی معاشی مسائل اور مشکلات کے سبب کثیر سرمایہ فراہم کرنا آسان نہیں لیکن جب امریکہ کی طرف سے اس سے یہ کہا جائے گا، چونکہ وہ تجارتی توازن میں امریکہ سے زیادہ حصہ وصول کرتا ہے، اس لئے اسے مدد کرنا ہوگی تو بھارتی سیاستدانوں کے لئے یہ خواہش پوری کرنا آسان نہیں رہے گا۔ بظاہر بھارت کی طرف سے ٹرمپ کی افغان پالیسی پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل دینے کی بجائے پاکستان کو دھمکانے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کے لئے ہر وہ امریکی قدم خوش آئند ہے جو پاکستان پر دباﺅ میں اضافہ کرے لیکن امریکی قیادت کو یہ غور کرنا ہوگا کہ وہ جو زبانی دعوے اور اعلان کر رہے ہیں کیا وہ ان پر عمل کرنے کا حوصلہ اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی دھمکیوں کے باوجود ابھی تک امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے۔ اس سے واشنگٹن کی اس مشکل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جو اسے افغانستان کے حوالے سے پاکستان سے نمٹنے کے لئے درپیش ہے۔ امریکہ افغانستان میں امن یا جنگ دونوں صورتوں میں پاکستان کی مدد کا محتاج ہے۔ یہ مدد دباﺅ کے ہتھکنڈوں سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ نہ ہی بھارت کو افغانستان میں زیادہ طاقتور بنا کر اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ اور پاکستان کے خلاف بھارتی تخریب کاری کے ہتھکنڈوں کو نظرانداز کرنے سے پاکستانی قیادت کو ہر شرط ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کئی لحاظ سے ناقص اور نامکمل ہے۔ یوں لگتا ہے کہ امریکی حکومت خود بھی یہ نہیں جانتی کہ اس نے کون سے اہداف کس طرح حاصل کرنے ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ بھارت کو افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف اسی تقریر میں یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اب امریکہ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ ہماری پالیسی زیادہ سے زیادہ دہشت گردوں کو مارنا ہے۔ اگر امریکہ خود افغانستان کی ترقی میں دلچسپی نہیں رکھتا تو بھارت یا دوسرے ممالک کیوں کر اس ملک میں اپنا سرمایہ صرف کریں گے جس کی تباہی میں امریکی جارحیت کو ہی عمل دخل رہا ہے۔ امریکہ چند ہزار مزید فوجی بھیج کر افغانستان میں جنگ کا پانسہ پلٹنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے امید ہے کہ نیٹو کے ممالک اس جنگ کا عملی اور معاشی بوجھ برداشت کرنے میں امریکہ کا ہاتھ بٹائیں گے۔ نیٹو نے اگرچہ ایک ہزار مزید فوجی بھیجنے کا اور فوجی اخراجات کا حصہ ادا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یورپ کی رائے عامہ افغانستان میں جنگ کے خلاف ہے۔ ٹرمپ یورپ سے افغانستان میں طویل المدت جنگ کے لئے تعاون کی امید نہیں کر سکتے۔ امریکہ تن تنہا بھی غیر معینہ عرصہ تک افغانستان میں عملی جنگی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس صورت میں اسے کثیر وسائل فراہم کرنے کے علاوہ مزید امریکی فوجیوں کی لاشیں اٹھانا پڑیں گی۔ صدر ٹرمپ جوشیلی تقریروں سے اپنے حامیوں کو مطمئن کر سکتے ہیں لیکن جب کانگریس سے وسائل حاصل کرنے کی نوبت آئے گی تو یہ معاملہ طے کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پاکستان میں اس اندیشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان پر سرحدی حملے یا ایبٹ آباد طرز کی سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے۔ ایسا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے امریکہ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کرکے اسے باقاعدہ دشمن قرار دینا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی جولانی طبع کے باوجود شاید اس طرح کا کوئی ڈرامائی قدم اٹھانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ چین اور روس کی طرف سے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت اور افغانستان میں ان دونوں ملکوں کے مفادات کی روشنی میں امریکہ افغان جنگ کو نہ تو وسیع کرے گا اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنا اس کے مفاد میں ہوگا۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں موجود افواج کو ہر طرح کی کارروائی کا مکمل اختیار دینے کے بعد اس امکان کو مسترد کرنا مشکل ہوگا کہ کسی مرحلہ پر کوئی امریکی کمانڈر افغان طالبان کو تلاش کرنے کا بہانہ کرکے پاکستانی سرحد میں طبع آزمائی کی کوشش کرے۔ ایسا کوئی قدم پاک امریکہ تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے اثرات افغان جنگ میں امریکی مشکلات سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے خبروں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستانی ایجنسیوں نے ہمیشہ یہ تعلقات بحال رکھے ہیں تاکہ کسی مناسب وقت میں انہیں استعمال کیا جا سکے لیکن افغان طالبان پر پاکستانی اثر و رسوخ کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ اسی لئے یہ قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے کہ پاکستان ایسے عسکری گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے جو افغانستان میں دہشت گردی کرکے واپس پاکستان کی پناہ میں آ جاتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے پہلے امریکہ کا دعویٰ تھا کہ پاکستان اس علاقے میں کارروائی کرے تو اسے افغان جنگ میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ اب اس آپریشن کے بعد کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر الزامات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ کسی سطح پر پاکستان افغان طالبان کی حمایت کر رہا ہے تو بھی امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف پاکستان کی مدد سے افغان طالبان ایسی عسکری قوت نہیں بن سکتے تھے جو نصف ملک پر قابض ہوجاتے اور بدستور ہر قسم کی جنگ کے لئے تیار ہیں۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لئے امریکہ کو اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے کے علاوہ افغانستان کی قبائلی ثقافت اور مزاج کو بھی سمجھنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد امریکہ کو افغان جنگ میں حاصل اخلاقی بالادستی بھی ختم ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں اصلاح احوال، جمہوریت و انسانی حقوق کی بحالی یا قومی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ صرف دہشت گردوں کو مارنا چاہتا ہے۔ اب نہیں تو کچھ عرصہ بعد امریکہ کے لوگوں کی طرف سے ہی یہ سوال سامنے آ جائے گا کہ دہشت گردوں کو مارنے کے لئے افغانستان جانے کی کیا ضرورت ہے۔ افغان طالبان تو امریکہ میں حملے نہیں کرواتے اور نہ بین الاقوامی دہشت گردی میں شریک ہیں۔ پھر تو امریکہ کو یہ جنگ داعش اور دیگر گروہوں کے خلاف لڑنی چاہئے جو مغرب کو اپنا دشمن قرار دے کر ان پر حملوں کا اعلان کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور امریکی حکومت کو باور کرنا ہوگا کہ الزام تراشی کی بنیاد پر کسی ملک کو تنہا کرنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ اس مقصد کے لئے وسیع تر تعاون اور حکمت عملی سے اختلافات پر بات چیت کی ضرورت ہے۔


