سراج الحق صاحب کی جماعت اسلامی کے بارے میں مزاحیہ باتیں


سراج الحق صاحب کی جماعت اسلامی پر ایک مزاحیہ تحریر ہم سب پر پڑھی جسے پڑھ کر بڑا مزا آیا ہے۔ انہوں نے مرد مومن مرد حق کی ایک اتحادی جماعت، جماعت اسلامی پاکستان، کا سلسلہ نسب ریاست مدینہ اور خلفائے راشدین سے جوڑنے کے لیے اپنے تخیل کا گھوڑا بحر ظلمات میں اس بے دردی سے دوڑایا ہے کہ علامہ اقبال کا مومن اور شاہین بھی شرماتا ہوا نظر آتا ہے۔

سراج صاحب نے صاف صاف کہہ دیا کہ جماعت اسلامی ایکinclusive سیاسی جماعت ہے۔ اس کا کسی فرقے یا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یقینا وہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے اسی لیے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی ہندو، سکھ، مسیحی، بریلوی، شیعہ اور بے دین لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ جماعت اسلامی کی ممبرشپ لیتے ہوئے آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا کہ آپ کس مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بس آپ کا ایک انسان اور پاکستانی ہونا ہی کافی ہے۔

جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ تمام پاکستانی برابر ہیں اور آئین و قانون کو ہر ایک سے برابری کا سلوک کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی چاہتی کہ پاکستانیوں کو اپنی شہریت کے کاغذات (دستاویزات) صرف بحیثت شہری ملنے ضروری ہیں۔ جماعت اسلامی نے کئی دفعہ مطالبہ کیا ہے کہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ بنانے کے لیے ریاستی اداروں کو کسی شہری کا مذہب نہیں پوچھنا چاہیے۔ اس سے غیر مسلم شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ لہذا جماعت اسلامی جب اپنے ممبران سے ان کا مذہب نہیں پوچھتی تو بھلا باقیوں کو اس بات کی اجازت کیوں کر دے سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کی انہی خوبیوں کی وجہ سے پاکستان کے غیر مسلم شہری جماعت ہی کو ووٹ ڈالتے ہیں۔

سراج صاحب نے جماعت اسلامی کو تو ایک غیر فرقہ وارانہ سیاسی جماعت بنا لیا ہے لیکن وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کہیں فرقہ واریت سے پاک نہ ہو جائے۔ اس کے لیے ان کی پالیسیاں کافی کارگر ہیں۔

سراج صاحب نے قرار داد مقاصد، تحریک نظام مصطفی، تحریک ختم نبوت اور بنگلہ دیش نا منظور جیسی تحریکوں کو جماعت اسلامی کے کارناموں کی فہرست میں ڈالا ہے۔ یہ بھی انہی کا کمال ہے کہ وہ ان سارے کارناموں پر اب بھی فخر کر رہے ہیں۔ حالانکہ کچھ کم فہم لوگوں نے ان تحریکوں کو ملک اور قوم کے لیے غلط فیصلے قرار دے دیا ہے۔ ان سارے کارناموں کو گنواتے ہوئے ہوئے وہ مرد مومن مرد حق کے ساتھ اپنے اتحاد کا ذکر نہیں کر سکے جس کے تحت وہ سب سے لمبے عرصے تک حکومت میں رہے اور اس ملک کو چودہ سو سال پہلے کی مدینے کی ریاست تو نہ بنا سکے لیکن آج کل کے مدینے کی ریاست بنانے کی کوشش ضرور کرتے رہے اور تقریبا بنا ہی ڈالا ہے۔ کیونکہ سعودی شاہی خاندان سے بھی جماعت اسلامی کا لوو افئیر کافی مشہور تھا۔ یہ تو ابھی سعودی شاہی خاندان نے مودودی صاحب کی کتابوں کو پہچانا ہے اور ان پر پابندی لگائی ہے۔

یہ ہم مانتے ہیں کہ جماعت اسلامی اپنی تحریک کی دعوت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو بھی اپنی تحریک کے پرفیکٹ ہونے کا پورا یقین ہے۔ اس کی ایک گواہی یہ ہے کہ جو کوئی بھی جماعت یا جمعیت کی مخالفت کرتا ہے اسے وہ اسلام کا مخالف قرار دیتے ہیں اور اس کی سزا بھی وہی مقرر کر دیتے ہیں۔ اگر بس چلے تو اس پر عمل بھی کر ڈالتے ہیں۔

سراج صاحب نے کشمیر کی جنگ آزادی کو اپنا کارنامہ قرار دیا ہے البتہ وہ افغانستان کی بربادی کے کارنامے کا ذکر کرنا بھول گئے۔ وہ جو ان کی جماعت نے ہزاروں بچوں کو اس جنگ کی آگ کے ذریعے جنت کا ٹکٹ دیا جب کہ ان بچوں کے والدین ان کی راہ تک رہے تھے اس بات ذکر کرنا بھول گئے۔ یہ شاید وہ اس لیے نہیں بتا سکے کہ اس طرح کچھ لوگ پوچھ بیٹھیں گے کہ جماعت اسلامی کے لیڈران کے کتنے بچوں نے خود کش جیکٹیں پہن کر جنت حاصل کی ہے۔ کیونکہ لیڈران کے بچے اکثر اوقات جنگ کے شعلوں سے بہت دور کسی بڑی امریکی یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہوتے تھے۔ وہ مشہور ڈاکٹر یا چارٹرڈ بنے اور جنت جانے کے شارٹ کٹ استعمال کرنے کی بجائے اسی عارضی دنیاوی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے تمام نمائندوں کی زندگیاں گناہوں سے پاک ہوتی ہیں اور وہ دوسروں کے لیے مشعل راہ کا کام کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمعیت کو جھوٹ سے نفرت ہے سوائے اس کے جب بچوں کی کورس کی کتابوں میں لکھا ہوا ہو۔ اس جھوٹ کی حفاظت کے لیے وہ جان بھی دینے کو تیار رہتے ہیں۔ نہ صرف پرانے سارے جھوٹوں کو کتابوں کا حصہ رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اور جھوٹ بھی نصابی کتابوں میں شامل کرانے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کے پی میں اپنی موجودہ حکومت سے کافی فائدہ اٹھایا ہے۔ سراج الحق صاحب کا جماعت اسلامی کے بارے میں ”ہم سب“ پر شائع شدہ مزاحیہ مضمون پڑہ کر آپ کو بھی اچھا لگے اور آپ جماعت اسلامی اس دعوے کے قائل بھی ہو جائیں گے کہ صرف وہی سیدھی راہ پر ہیں اور کیوں ان کی مخالفت کرنا دراصل اسلام کی مخالفت کے برابر ہے۔


جماعت اسلامی کا یوم تاسیس اور تجدید عہد

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik