انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی (3)


لگے ہاتھوں کچھ ذکر ریوتی کی ڈراما نگاری کا ہوجائے۔ ریوتی نے فکشن سے لکھنے کا آغاز کیا۔ افسانے لکھے۔ ناول لکھا لیکن بعد ازاں انھوں نے اپنی توجہ ڈراما نویسی پر مرکوز کر لی۔ ریڈیو کے لیے متعدد ڈرامے لکھے اور اب تو لوگوں کو شاید عجب لگے مگر ایک زمانے میں برصغیر میں ریڈیو ڈرامے بڑے شوق سے سنے جاتے تھے۔ قومی نشریاتی رابطے پر چلنے والے ان کے نو ڈرامے بعد ازاں مختلف علاقائی زبانوں میں ترجمہ ہو کر براڈ کاسٹ ہوئے۔ ان میں سب سے بڑھ کرانھیں ”لاﺅ زہر پلا دو “پسند تھا۔ وہ زیادہ ترسماجی ناانصافیوں پر قلم اٹھاتے۔ سٹیج اورٹی وی کے لیے بھی انہوں نے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ان کی ڈراما سیریل ”اور بھی غم ہیں زمانے میں“ نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔ زبیر رضوی کے بقول ” وہ عوامی ترسیل کے ہر میڈیم سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور ایک مستند حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندی تھیٹر کے لیے ان کی خدمات پر 2007 میں انھیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا۔

ہندوستان میں دونوں دوست ملتے تو آپس میں خوب گپ بازی اور لفظی چھیڑ چھاڑ ہوتی۔ ایک دفعہ انتظارحسین نے ان سے کہا کہ ’رتھ یاترا کو تو تمھارے نیتاﺅں نے رسوا کر دیا، اب میرا بیل گاڑی یاترا کرنے کو جی چاہتا ہے۔

ایک بار پرانی دلی میں اپنے سکول کے استاد وجیندر جی سے ملنے گئے جو اب سنسکرت کے بہت بڑے عالم تھے اور دلی میں سنسکرت کے شعبہ کے سربراہ بھی رہے۔ استاد کے ملازم کو جب بتایا گیا کہ مہمان پاکستان سے آیا ہے تو اس نے ترنت سے پوچھ لیا کہ شاستری جی سے آپ کا سمبندھ کیا ہے؟ اس پرانتظار حسین نے جب یہ کہا کہ ان کا شش ہوں تو وہ حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ گرو، ہندوستان میں، شش، پاکستان میں۔ اس کی حیرت یہ جان کر دور ہوئی کہ یہ پرانے وقتوں کا قصہ ہے، جب برصغیر ایک تھا اور پاکستان سے آیا مہمان سکول میں پڑھا کرتا تھا۔ خوب یادیں تازہ کی گئیں۔ استاد کی ایک بات سن کرانتظار حسین حق دق رہ گئے۔ وجیندر جی نے کہا: اب یہ بابری مسجد اور رام مندر کا جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رکے۔ پھر آہستہ سے بولے۔ ”رام مندر الگ رہا۔ پتہ نہیں رام جی پیدا بھی ہوئے تھے یا نہیں ہوئے تھا۔ “

اس کہے پر انتظار حسین کا ردعمل یوں سامنے آیا:

” میں اس بیان پر چکرایا مگر میں نے اس پر کوئی سوال نہیں کیا۔ باہر آکر ریوتی سے پوچھا ”وجیندر جی یہ کیا کہہ رہے تھے کہ رام جی پیدا بھی ہوئے تھے یا نہیں۔ “

وہ ہنسا اور بولا ”وجیندر جی اصل میں کرشن بھگت ہیں۔ رام جی کو زیادہ نہیں مانتے۔ “

”بستی“ میں سریندر کے روپ میں ریوتی سرن شرماکو ہی پیش کیا گیا ہے۔ مظفر علی سید نے سریندر کے کردار کو ناول کے ہیرو ذاکر کا ہمزاد یا اس کی ضمیرکی آواز قرار دیا ہے۔ سریندر ہی ریوتی ہے، اس کا اندازہ ناول سے بھی ہو جاتا ہے، جس میں فکشن نگار نے اور بھی دوستوں کے کردار نام بدل کرڈالے ہیں، حقیقی زندگی میں” بستی“ کو پڑھنے کے بعد ریوتی نے انتظار حسین کو جو خط لکھا، اس کے نیچے باقی خطوں کی طرح تمھارا ریوتی کے بجائے تمھارا سریندر لکھا۔ انتظار حسین اور ریوتی کا ملک جب ایک تھا، دونوں میں خوب گپ شپ رہتی، پرلطف مکالمے ہوتے، جن میں سے چند ایک” بستی“ میں فکشن کے روپ میں ذاکر اور سریندرکے درمیان مکالمہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

….تو نے دیکھا؟ سریندر نے پتھر والی گلی سے جلدی جلدی نکلتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں یار !مجھے تو کوئی دکھائی نہیں دیا۔ “

”چوبارے میں جو کھڑی تھی، اسے نہیں دیکھا ؟“

”نہیں، کون کھڑی تھی ؟“

”رم جھم اور کون !“

”رم جھم ؟“

”ہاں، میں اسے رم جھم کہتا ہوں، بس تو اسے دیکھے گا تو سالے ہلاک ہو جائے گا۔ “

”ایک پھیرا، دوسرا پھیرا، تیسرا پھیرا، پھر نظر ہی نہیں آئی۔ “ یار وہ توغائب ہوگئی۔ “

سریندر مایوس نہیں ہوا تھا۔ بندر والے کو دیکھ کر کھل اٹھا۔ ”یار سن !اس کے ساتھ چلتے ہیں۔ “

 بندر والا کھڑی دوپہر میں ڈگڈگی بجاتا ایک گلی سے دوسری گلی میں، دوسری گلی سے تیسری گلی میں۔ آخر کو پتھر والی گلی میں تماشا شروع کیا۔ بندریا نہیں مانی تو بندر نے اسے ڈنڈے سے پیٹا، اتنا کہ روٹھ کر میکے چلی گئی۔

 سریندر کی نظریں چوبارے پر جمی تھیں۔ اسے یقین تھا کہ وہ بندر کا تماشا دیکھنے ضرور آئے گی۔

”ابے سالے دیکھ “

”کہاں “

”چوبارے میں وہ کھڑی ہے۔ “

 اس نے دیکھا۔ سانولی رنگت، دبلا دبلا نرم نرم بدن۔

 ”اری ماں مسلا۔ “ایک دم سے بھڑکی اور غائب۔“

 جنوری 2016 کے آخری دنوں میں ہسپتال داخل ہونے سے قبل جہاں سے ان کی واپسی نہ ہوسکی، انتظارحسین نے ہندوستان جانے کے لیے ٹکٹ بک کرا رکھا تھا، وہاں ان کے پروگرام کا لازمی جزو ریوتی سے ملنا ہوتا مگر یہ ملاپ اب قسمت میں نہ تھا، 2 فروری 2016ء کو دوستی کی لگ بھگ 80 سالہ پارٹنرشپ ٹوٹ گئی اور ڈبائی کی مٹی لاہورمیں آسودہ خاک ہوئی۔ ریوتی نے دوست کی موت کی خبر بڑے بھاری دل سے سنی ہوگی اور سوچا ہوگا کہ دوست پہلے اکیلا چھوڑ کر پاکستان چلا گیا جس پرانھوں نے خط میں لکھا تھا ” ….تم کیا گئے میرا تو غمگسار چھن گیا۔ پاگل سا میں تو اب ہر آدمی کو اپنا غمگسار سمجھ بیٹھتا ہوں۔ تم نے مجھے کسی طرح کا نہ رکھا۔“ دوست کے ملک چھوڑنے پر یہ عالم تھا تو دنیا سے چلے جانے پر غم کا عالم نجانے کیا ہوگا، وہ اس درد کے ساتھ زیادہ عرصہ نہ جیے اور یکم اکتوبر1924 کو ہاپوڑ میں آنکھ کھولنے والے ریوتی نے 23 ستمبر 2016ء کو دلی میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔

 تم کیا گئے میرا تو غمگسار چھن گیا

(ریوتی بنام انتظار)

 ٭ اور کیا حال ہے۔ شادی وادی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں یا قبر میں کنوارے ہی جاﺅ گے۔ ابے کیا کوئی ادیبہ سارے پاکستان میں تمھیں نہیں ملتی ؟یہ مانا کہ تم نکمے ہو….کیا ایسی خدا نے پیدا نہ کی جو تمھارا اغوا کرلے۔ کبھی پھوٹے منہ سے اس موضوع پر کچھ بکا کرو۔ میں ہر خط میں پوچھتا ہوں مگر تم اس ٹاپک کو یوں اڑا جاتے ہو، جیسے شیرا نہ ہوا پانی کا گلاس ہوا۔ غٹ سے پی گئے۔

 ٭….ہم جب اپنے اپنے سماج کے مذہبی تعصبات کی پروا نہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ٹہلنے نکلتے تھے اور پنڈت والے یا دوسرے لوگ ہم پر انگلی اٹھاتے تھے تو کتنا مزہ آتا تھا۔ ہم ایک ساتھ محسوس کرتے تھے کہ ہم اس فرسودہ تعصب زدہ سماج کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں اور ان کٹر ہندوﺅں اور مسلمانوں کی جھلاہٹ گویا ہمارے تمھارے تعلقات کا ”نمک “ تھی۔

٭….تم کیا گئے میرا تو غمگسار چھن گیا۔ پاگل سا میں تو اب ہر آدمی کو اپنا غمگسار سمجھ بیٹھتا ہوں۔ تم نے مجھے کسی طرح کا نہ رکھا۔

 ٭میری شادی 11 مارچ 1950 کی طے ہوئی ہے۔ گھر کا کوئی حصہ نہ لے گا۔ تم آﺅ گے؟ اصرارنہیں کروں گا۔ صرف اتنا کہوں گا کہ اگرتم بھی نہیں آﺅ گے تو مجھے تم سے بھی شکایت نہ ہوگی۔ جہاں باپ بھائیوں پر صبر کیا وہاں تم پر بھی کرلوں گا۔ سرلا کہتی ہے انھیں ضرور بلانا۔ اپنی طرف سے نہیں بلکہ میری طرف سے۔ اب کے کمرے پر آئی تو اس کے ہاتھ سے لکھوا دوں گا۔ ویسے نہ آﺅ گے تو وہ بھی طعنہ نہ دے سکے گی۔ بین الملکی تنازعات ہر آدمی کی سرد مہری اور غیریت کا جواز بن گئے ہیں۔ تم بھی اس کی آڑ لے سکتے ہو۔

 ٭لاہور آنے کا وعدہ ضرور کیا تھا مگر اس وقت یہ نہ سوچا تھا کہ تناتنی جنگ کی صورت اختیار کرلے گی۔ جب لڑائی کا شور اٹھ رہا ہو تو میری ہمت نہیں ہوتی کہ ایک دوسری مملکت میں جاکراپنے لیے اور تمھارے لیے مصیبتیں کھڑی کروں۔ آج تک اس بات کا ڈر ہے کہ میں تمھیں ملنے جاﺅں اور لاہور میں پولیس کے عتاب کا شکار بنوں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ لاہور آتے جاتے ہیں مگر اپنی ہمت نہیں پڑتی، فضا صاف ہو لینے دو، آﺅں گا۔ ضرور آﺅں گا۔

٭ میرٹھ کی ریوڑیاں اور گزک بھیج رہا ہوں تاکہ پرانا ذائقہ تازہ ہوجائے۔ اتنی اچھی تو نہیں ہیں لیکن ناسٹلجیا کے لیے کافی ہے۔ بدلے میں اپنی کتابیں بھیج دینا۔

(ریوتی سرن شرما کے انتظار حسین کے نام غیر مطبوعہ خطوط سے اقتباسات )