برِکس کا اعلامیہ اور میری محدود خوش فہمی
باقی اقوام کا تو اتنا معلوم نہیں، مگر اپنی قوم کا خوب معلوم ہے۔ کہیں، کبھی جو کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو میری قوم اک لمحہ ضائع کیے بغیر اس بحران کے اکثریتی جُزیات کی ماہر بن جاتی ہے۔ بارش زیادہ ہو، اور سیلابی کیفیت ہو تو یار لوگ فورا سے پہلے ہی ڈیمز وغیرہ کے ماہرین بنتے نظر آتے ہیں۔ کوئی سیاسی بحران ہو تو اک دن کے ہی فرق سے آبی ماہرین، سیاسی ماہرین بنے ہوتے ہیں۔ انڈیا یا افغانستان کے ساتھ کوئی جھڑپی معاملہ ہو جائے تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر، سیاسی ماہرین، تزویراتی ماہرین بن جاتے ہیں۔ اور اس ماہریت میں اپنا بہترین ہتھیار طعن تشنیع رکھتے ہیں۔ یہی حال کل شام سے BRICS کے جاری شدہ اعلامیہ پر بھی چل رہا ہے۔
اس بات میں شاید ہی شک کی کوئی گنجائش باقی بچتی ہو کہ پاکستانی افواج نے پاکستان کے سیاسی، علاقائی اور عالمی معاملات پر شروع دن سے گرفت ہی کیے رکھی ہے، اور یہ گرفت روز بروز تقریبا سخت سے سخت تر ہی ہوتی چلی گئی۔ نتائج سب کے سامنے ہیں۔ پاکستان کے آس پاس اور بعد میں آزاد ہونے والے ممالک، جس میں چین اور کوریا بھی شامل ہیں، آج کہاں ہیں، وہ ہم سب کو معلوم ہے۔ ہم جہاں ہیں، وہ مقام یہ ہے کہ ہمارے نوجوان "ڈنکیاں” لگا کر اسلام کے اس عظیم قلعے سے بھاگنے کے چکروں میں رہتے ہیں، اور مارے جاتے ہیں۔ جب تک کہ ڈنکی اس ملک کو اپنی تجرباتی، تجزیاتی اور تزویراتی چراہ گاہ بنائے رکھیں گے، مستقبل قریب میں ان ڈنکیوں کے چلتے رہنے کے ہی چانسز نظر آتے ہیں ۔
مجھے تو BRICS کا اعلامیہ اک نعمت محسوس ہوا، بخدا۔ ملائیت اور ملٹری کے اتحاد نے اس ملک کے معاشرے اور عوام کے ساتھ پچھلے ستر سال کھلواڑ کیے رکھا ہے۔ سیاستدانوں اور جمہوریت کے خلاف اس اتحاد نے ہر وقت کو برا وقت ہی بنایا، اور آج ستر سال کے بعد اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ آپ کو اپنی ریاست، معاشرت اور سماج سے وہ جذباتی شدت والی محبت محسوس ہوتی ہے، جو کوئی بھی محب وطن شخص بصورت دیگر محسوس کر سکتا ہے؟
BRICS کا اعلامیہ نعمت اس لیے ہے کہ پاکستان کے بہترین "دوست” چین، اور ابھرتے ہوئے دوست، روس نے اس گفتگو کو پہلی بار عوامی سطح پر سرکاری حیثیت دی کہ جس کا اظہار وہ سفارتی طور پر شاید قبل مسیح سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان اپنی قومی زندگی میں شاید پہلی مرتبہ اپنے جغرافیے کے حوالے سے سی-پیک کی شکل میں اک عقلی فیصلہ کرنے جا رہا ہے تو یہ بات ناممکن ہے کہ اسے اس دباؤ سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔ فرق پڑے گا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ناممکن ہے کہ اس اعلامیے کے بارے میں ہماری ریاست کو پہلے سے ہی معلوم نہ تھا۔ معلوم نہ ہوتا تو مستقبل میں اپنی چھیڑ چھاڑ کی عادت کو جاری رکھنے کی خاطر، ملی مسلم لیگ بھی وجود میں نہ آتی، اور استاذی مجاہدین، جناب مولانا فضل الرحمٰن خلیل بھی نئی سیاسی جماعت کی جانب پیش قدمی نہ کرنے کا سوچ رہے ہوتے۔ باقی کیا چل رہا ہے، نہ میں جانتا ہوں، نہ آپ۔ پرانی یاری، بالآخر سب پہ بھاری جو ٹھہری!
میرا معاشرہ اور لوگ ملائیت کے تشریحاتی اسلام کے اندھے غلام اور مقلد ہو چکے ہیں۔ اس مذہب کے ماننے والے کہ جس کا پہلا حکم اقراء اور متواتر حکم تفکر ہے، ان دونوں احکامات سے کئی ہزار نوری سال دور ہیں، اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس غلامی اور تقلید کو جس نے جب بھی، جہاں بھی، کہیں بھی اور کبھی بھی چیلنج کیا، اسے جنید کے طرح ملتان میں قید کاٹنا پڑتی ہے، غامدی کے اک مصاحب کی طرح چہرے پر گولی کھانا پڑتی ہے اور یہ ملک چھوڑنا پڑتا ہے یا خاموشی سے اک کونے میں بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہوئے مسکراتے رہنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ یہ سلسلہ بھی پرانے تماشے کی طرح مستقبل قریب میں جاری ہی رہنے کی توقع ہے۔
اب جب کہ "عظیم” مجاہدین کہ جنہوں نے یا تو خود، یا ان سے متاثرہ نوجوانوں نے کشمیر آزاد کروا لیا ہے، افغانستان کو بائیسویں صدی میں داخل کروا لیا ہے، پاکستان کے طول و عرض میں اپنے رنگ رنگ کے اسلام کی برکات کے دریا بہا دیے ہیں اور میرے وطن کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح پوری دنیا کا مضبوط ترین ملک بنا ڈالا ہے، تو خوشی اس بات کی ہے کہ بھلے نمائشی طور پر ہی سہی، BRICS کے اعلامیے کو کسی نہ کسی حد تک سنجیدہ لیتے ہوئے ان مجاہدین کے فیوض و برکات پر انکا تھوڑا بہت شکریہ ادا کرتے ہوئے انکی منت ترلا کرکے انکی خدمات کا احسان مانتے ہوئے ان سے شاید تھوڑی بہت پہلو تہی کی کوشش کی جائے گی۔ ان سے جب پہلو تہی کی جائے گی تو ہی اس ملک اور اس ملک کے عوام کا اصل بیانیہ داخلی اور خارجی محاذوں پر کھل کر اس ریاست کی وکالت کرے گا۔ باقی پاکستان کی بیرون ملک کیا اوقات ہے، کبھی عام شہری کی حیثیت سے بیرون ملک ہرے پاسپورٹ پر سفر کرکے دیکھ لیجیے۔ آپ بھی مجاہدین کا شکریہ ادا کیجیے گا۔
BRICS کے اعلامیے پر اک محدود خوش فہمی مگر ایک پاکستانی کا تجزیہ ہی تو ہے۔ دیکھیے!


