جنگ ستمبر کی یاد میں

میں سنہ 1965 میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور وہ گاؤں میں ہی گزر رہی تھیں۔ اگست کا مہینہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ کشمیر میں جنگ آزادی شروع ہو گئی ہے۔مجاہدین کے ترجمان ایک ریڈیو سٹیشن صدائے کشمیر کی رات کے وقت نشریات کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔ یہ خبریں سن کر ہمارا خون جوش مارنے لگا اور جذبہ حب الوطنی نئی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اگرچہ ایوب خان سے نفرت عروج پر تھی کیونکہ اس نے صدارتی الیکشن مادر ملت کے خلاف دھاندلی کر کے جیتا تھا لیکن ایوب سے نفرت کے باوجود افواج پاکستان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔

پھر یکم ستمبر کو جب یہ خبر آئی کہ پاکستان کی افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئی ہیں تو ایسے لگتا تھا کہ اب کچھ ہی دنوں میں کشمیر آزاد ہو چکا ہو گا۔ کچھ ماہ پیشتر رن کچھ میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہمیں یقین ہو چکا تھا کہ جنگ کرنا ہندو بنئے کا کام نہیں۔ دو تین بعد حوصلوں کو مزید انگیخت کرنے والی یہ خبر ملی کہ پاک فضائیہ نے چھمب جوڑیاں محاذ پر ہندوستان کے تین طیاروں کو مار گرایا ہے۔ اخبار پڑھنے سے پتہ چلتا تھا کہ پاکستان افواج اکھنور کے بالکل قریب پہنچ چکی ہیں اور بہت جلد ہندوستان کو کشمیر سے ملانے والی شاہراہ کو کاٹ دیا جائے گا۔ اس کے بعد ہندوستان کی مقبوضہ کشمیر میں موجود فوج گھیرے میں آ جائے گی، اس کی سپلائی لائن منقطع ہو چکی ہو گی اور ہندوستان کے لیے شکست تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

بعض اوقات تقدیر کو ہمارے ارادے پسند نہیں آتے۔ پہلی بری خبر یہ ملی کہ کشمیر کے محاذ پر عظیم جرنیل میجر جنرل اختر ملک کی جگہ کمان میجر جنرل یحییٰ خان کے سپرد کر دی گئی ہے۔ کمان کی تبدیلی کے عمل میں چونکہ کئی گھنٹے لگ گئے تھے اس لیے اکھنور پر تو قبضہ نہ ہو سکا لیکن اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان نے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلوں کی طرح لاہور پر حملہ کر دیا۔

چھ ستمبر کو پیر کا دن تھا، مجھے یہ یاد نہیں کہ میں اس دن سکول کیوں نہیں گیا تھا۔ بہرحال صبح ریڈیو پر خبریں سن کر پتہ چل گیا کہ بھارت نے لاہور پر حملہ کر دیا ہے اور بی بی سی نے بھارت کے لاہور پر قبضے کی جھوٹی خبر نشر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریڈیو پر فلمی گانے بند ہو گئے اور ملی ترانے نشر ہونا شروع ہو گئے۔ ملی ترانے اس وقت صرف چند فلمی گانوں پر مشتمل تھے۔تھوڑی دیر بعد یہ اعلان شروع ہو گیا کہ گیارہ بجے صدر ایوب خان قوم سے خطاب کریں گے۔ ایوب خان سے تمام تر نفرت کے باوجود اس وقت اس کی تقریر اچھی لگی۔

گاؤں میں اس زمانے میں بجلی نہیں تھی، اس لیے رات کو بلیک آؤٹ کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اگست کے مہینے میں ہم نے سکھوں کے زمانے کے بنے ہوئے کچے مکان کو گرا کر نیا مکان بنانا شروع کیا تھا۔ ابھی بنیادیں ہی بھری گئی تھیں جب جنگ چھڑ گئی۔ اب گاؤں کے لوگ ابا جان سے آ کر کہتے کہ چودھری صاحب جنگ لگ گئی ہے اور آپ نے مکان بنانا شروع کر دیا ہے۔ ابا جان کا جواب ہوتا تھا کہ وہاں سے تو یہاں آ گئے تھے، اب یہاں سے کہاں جانا ہے۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اس جنگ کی بہرحال خاص بات یہ تھی کہ معمولات زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ لوگوں میں کسی قسم کا خوف یا بے چینی نہیں تھی۔

جذبہ حب الوطنی کے تحت میں نے خود کو ریڈیو پاکستان تک محدود کر لیا، انڈیا کے فلمی گانے سننے بھی بند کر دیے۔ بس ترانوں اور ملی نغموں کو سن کر اپنا خون گرماتے تھے۔ ریڈیو پاکستان پر نشر ہونے والے پاک افواج کے کارناموں پر دل باغ باغ ہو جاتا تھا۔ایسی خبریں بھی سننے میں آ رہی تھیں کہ کچھ سبز پوش ہیں جو لاہور کے محاذ پر بھارت کی طرف سے آنے والے توپ کے گولوں کو پکڑ کر واپس بھارت میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آتا تھا کہ داتا صاحب بذات خود لاہور کے دفاع میں شریک ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد چونڈہ کے محاذ پر لڑی جانے والی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ میں فتح کی خبروں پر دل بلیوں اچھلتا تھا۔ تاج ملتانی کی آواز میں اس گیت پر جھوم جھوم جاتے تھے: مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے، جنگ کھیڈ نئیں ہندی زنانیاں دی۔ ملکہ ترنم کے گائے ہوئے ترانوں نے سماں باندھ دیا تھا۔ رات آٹھ بجے ریڈیو پر شکیل احمد کی گرج دار آواز میں خبروں کا انداز ہی کچھ اور ہی ہوتا تھا۔ وہ بتاتے تھے کہ پاکستان کے شاہینوں نے پٹھان کوٹ، ہلواڑہ اور دیگر بھارتی اڈوں پر حملے کیے اور ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔

ایران، ترکی اور انڈونیشیا نے کھلم کھلا پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ ان دنوں سوئکارنو سے پاکستانیوں کی محبت عروج پر تھی۔ ملائشیا کے تنکو عبد الرحمان کو خوب برا بھلا کہا جا رہا تھا جو ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھارت کی حمایت کر رہا تھا۔ پھر اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے اجلاس کی خبریں آنا شروع ہو گئی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت جناب ایس ایم ظفر کر رہے تھے جو اس وقت ایوب خان کی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر تھے۔ ان کی تقریروں سے کچھ خاص سماں نہیں بندھ رہا تھا کہ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو امریکہ روانہ کیا گیا۔ بھٹوصاحب نے سلامتی کونسل میں اپنی مشہور زمانہ تقریر کی جس میں ہزار سال جنگ لڑنے کا اعلان تھا۔ تقریر کا انٹی کلائمکس یہ اعلان تھا کہ ہمیں جنگ بندی کا فیصلہ قبول ہے۔

اس کے بعد وہی سیاپا شروع ہو گیا کہ ہم جنگ جیت چکے تھے، اگر ایوب خان بزدلی نہ دکھاتا تو چند روز میں کشمیر آزاد ہونے والا تھا۔ اسی زمانے میں دفاعی چندہ بھی اکٹھا کرنا شروع کیا گیا۔ کسی زرخیز دماغ نے یہ نعرہ دیا کہ اگر ہر پاکستانی روز کا ایک پیسہ چندہ میں دے تو اس سے ایک ٹینک خریدا جا سکتا ہے۔ ہم نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔ یہ سوال پوچھنے کا ابھی شعور پیدا نہیں ہوا تھا کہ جب پیسے جمع ہو جائیں گے تو ٹینک کس ملک کے شاپنگ مال یا ڈیپارٹمنٹ سٹور سے خریدے جائیں گے۔ یہ تو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ پتر ہی نہیں ٹینک بھی اس طرح ہٹیوں پر فروخت نہیں ہوتے۔

خیر ریڈیو پر ترانے جاری تھے، وقتاً فوقتاً دھمکی آمیز بیانات بھی نشر ہوتے تھے۔ پھر خبر آئی کہ تاشقند میں روسی وزیر اعظم نے صدر پاکستان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو مذاکرات کے لیے دعوت دی ہے۔ تین جنوری کو شروع ہونے والے مذاکرا ت سات دن تک جاری رہے۔ نو جنوری تک یہ خبر تھی کہ پاکستان اور بھارت میں کوئی اتفاق نہیں ہوا اس لیے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو گا۔ پاکستانی ترجمان کا کہنا تھا کہ مشترکہ اعلامیہ کوئی ریٹرن ٹکٹ نہیں جس کے بغیر ہماری واپسی ممکن نہ ہو۔ لیکن اگلے دن رات کے وقت یہ خبر آئی کہ دونوں ملکوں میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدہ طے پانے کی خبر کے ساتھ ہی ہمارا تاریخی ماتم شروع ہو گیا کہ جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دی گئی۔ نجانے ہم یہ بات کب سمجھ پائیں گے کہ جو جنگ میدان میں جیتی جا چکی ہو، اسے مذاکرت کی میز پر ہارنا ممکن نہیں ہوتا۔

جو لوگ چند ماہ قبل بیان کی جانے والی فتح کی خوشیاں منا رہے تھے، ترانے لکھ رہے تھے، وہ اعلان تاشقند کا ماتم کرنا شروع ہو گئے۔ آغا شورش کاشمیری کا ایک ترانہ ریڈیو پاکستان سے بہت نشر ہوتا تھا: مشرقی بنگال کے آتش بجانوں کو سلام۔ اعلان تاشقند پر مایوسی کے عالم میں آغا صاحب نے واپسی کے عنوان سے ایک نظم لکھی تھی، جس کی پاداش میں وہ ایک بار پھر غیر محب وطن قرار پائے اور پس دیوار زنداں بھیج دیے گیے۔ اس نظم کے دو شعر آج بھی یاد ہیں:

مسندوں پر جادہ شب کے مسافر خوش رہیں

سرفروشوں کی مگر خونیں قبا واپس کریں

آستیں کے خنجروں کی تیز دھاروں سے کہو

ماؤں کے بیٹوں کا خون ناروا واپس کریں۔

اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف تقریباً دودہائیوں بعد ہوا کہ جس جنگ کو ہم فتح و کامرانی کا عظیم واقعہ سمجھتے رہے ہیں وہ تہہ در تہہ حماقتوں کی ایک دل خراش داستان ہے۔ احمق شخص کی ایک عام فہم تعریف یہ ہے کہ وہ ایک کام کو بار بار کرتا ہے اور ہر دفع یہ سوچتا ہے کہ اب کی بار نتیجہ مختلف ہو گا۔ اس تعریف کی روشنی میں ہم گزشتہ باون برس کی اپنی مہمات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ لیکن تجزیہ کرنے کے بجائے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان حماقتوں کوعقل و دانش کے کار ہائے گراں مایہ سمجھا جائے اور تعریف و توصیف کے پھول نچھاور کئے جائیں۔ قصیدہ نگار تو حسب خواہش اور منشا مل ہی جاتے ہیں لیکن قصائد میں الفاظ کے طوطا مینا حقائق کو بدلنے سے قاصر ہوتے ہیں۔کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ عبرت کے لیے بہادر شاہ ظفر کے لیے لکھے گئے قصائد ہمارے اداروں کے تدریسی نصاب میں شامل کر دیے جائیں۔ تاریخ کے متعلق مجھے کوئی خوش فہمی نہیں لیکن تاریخ کا مطالعہ صرف اسی طور مفید ہو سکتا ہے اگر اسے پچھلی نسلوں کی حماقتیں جاننے کے لئے استعمال کیا جائے۔ کیا ہم اس کام کے لیے تیار ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words