اسلامی فوج کے برما پر حملے کا جنگی منصوبہ


امت کا درد رکھنے والا ہر ذی شعور شخص یہ سوال کر رہا ہے کہ آخر یہ چونتیس ملکی اسلامی فوج کیوں خاموش بیٹھی ہے اور اس نے ابھی تک روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لئے برما پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ معتبر تحقیقی ماخذ وکی پیڈیا کے مطابق پاکستان کی حاضر سروس اور ریزرو فوج کی تعداد گیارہ لاکھ ہے۔ ضرورت پڑے تو کل چوبیس کروڑ آبادی میں سے بارہ چودہ کروڑ تو لڑنے کے لئے تیار ملیں گے۔ سعودی عرب کی فوج کل ملا کر سات لاکھ کے قریب ہے اور اس کے پاس نہایت جدید ہتھیار ہیں کیونکہ سعودی عرب سال کا تقریباً 88 ارب ڈالر فوج پر خرچ کرتا ہے۔ ترکی میں ہر شہری کو فوجی تربیت لینا پڑتی ہے اس لئے فوج کی تعداد چاہے دس لاکھ ہو، لیکن اس کے لشکر میں تقریباً ساڑھے دو کروڑ اہل افراد موجود ہیں۔ امارات کی فوج کی تعداد تو تقریباً ایک لاکھ ہے مگر فوجی خدمات سرانجام دینے کے قابل افراد کی تعداد تیس لاکھ سے اوپر ہے۔ بنگلہ دیش کی فوج تقریباً تین لاکھ افراد پر مشتمل ہے مگر فوج میں بھرتی کے قابل افراد کی تعداد تین کروڑ ہے۔

اب صرف چھے اسلامی ممالک کے پاس ہی یہ کروڑوں کی فوج موجود ہے۔ بقیہ 28 ممالک کی فوج ملا کر تو نہ جانے کیا حساب بنے گا۔ ایسے میں جو افراد یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ برما پر اسلامی فوج حملہ کر دے، وہ ایک نہایت منطقی بات کر رہے ہیں۔ خاص طور پر جب اسلامی فوج کی کمان بھی عظیم مجاہد جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں ہے تو برما پر حملہ کر کے اسے فتح کرنا بچوں کا کھیل ہے۔ ابھی تک اسلامی فوج کے منصوبوں کے بارے میں خبر نہیں آئی ہے تو اس کی ایک وجہ تو سیکریسی ہے۔ فوجی نقل و حرکت میں سرپرائز کا فیکٹر نہایت اہم ہوتا ہے۔ دوسری وجہ شاید یہ ہے کہ منصوبہ ساز یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ برما تک کیسے پہنچا جائے۔ ایک راستہ ہزاروں میل لمبے سمندر کو عبور کر کے جاتا ہے جس سے فوج لے جانے کے لئے مطلوبہ تعداد میں بحری جہاز موجود نہیں ہیں۔ خشکی کے راستے میں عراق، ایران، افغانستان، پاکستان، انڈیا، چین اور بنگلہ دیش وغیرہ آتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایران اور عراق اس اسلامی فوج کا حصہ نہیں ہیں اور بعض بدخواہ تو یہ خلاف واقعہ بات کہتے ہیں کہ یہ اسلامی فوج ان ہی دو ممالک کے خلاف کھڑی کی گئی ہے۔

بہرحال ہم نے برما پر حملے کے لئے چار لشکر تجویز کیے ہیں۔ مندرجہ ذیل نقشے پر غور کریں اس کے بعد بات آگے بڑھاتے ہیں۔

پہلا لشکر جدہ سے ایران پر حملہ کرے۔ دوسرا ترکی سے عراق پر۔ یہ دونوں لشکر ایران اور عراق کو چند گھنٹوں میں فتح کرنے کے بعد پاکستان میں سبی کے قریب اکٹھے ہوں۔ وہاں پاکستانی فوج بھی ان میں شامل ہو جائے گی۔ اس کے بعد پاکستانی اور سعودی لشکر تو ہندوستان کو فتح کر کے سیدھا بنگلہ دیش پہنچ جائے گا، جب کہ ترک لشکر ادھر شاہراہ قراقرم کا رخ کرے۔ ویسے تو امید ہے کہ چین اسے راستہ دے دے گا، مگر برما سے محبت کی وجہ سے اس نے اسلامی فوج کو روکنے کی کوشش کی تو ترکوں کے لئے اسے فتح کرنا مشکل نہیں ہے۔ ادھر سنکیانگ وغیرہ کا تو نام ہی مشرقی ترکستان ہوتا تھا۔ ترکوں کے لئے تو یہ گھر کی بات ہے۔ ویسے ہمیں تو یہی امید ہے کہ چین مزاحمت کرنے کی بجائے اسلامی عساکر کا استقبال کرے گا۔ معاملے کو مزید پکا کرنے کی خاطر اسلامی لشکر بھیجنے سے پہلے بیجنگ کو اسلام آباد سے فون بھی کیا جا سکتا ہے۔ چین ہماری بات نہیں ٹالے گا۔

تیسرا لشکر جدہ سے بحری جہازوں میں سوار ہو، اور ادھر انڈیا اور سری لنکا کے اوپر سے چکر کاٹ کر سیدھا برما پر حملہ آور ہو جائے۔ اس کی مدد ملائشیا سے آنے والا چوتھا لشکر کرے گا اور اس کی آمد سے پہلے پہلے برما کی بحریہ کا صفایا کر ڈالے گا۔

یوں جدید ہتھیاروں سے لیس ایک کروڑ سے پانچ کروڑ تک کا اسلامی لشکر جدہ اور قسطنطنیہ سے دھاوے مارتا ہوا برما تک پہنچے گا اور متشدد بدھ بھکشووں کو قرار واقعی سزا دے گا۔ چند افراد یہ اعتراض اٹھائیں گے کہ ہندوستان اور چین بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں، وہ ہار کو سامنے دیکھ کر ایٹمی حملہ کر سکتی ہیں۔ جان لیجیے کہ یہ متوقع ایٹمی حملہ ناکام ہو گا۔ جیسا کہ 1965 کی جنگ میں سبز پوش بزرگوں نے ہندوستان کے بم کیچ کر کر کے ناکارہ بنا دیے تھے، وہی کام اس مرتبہ بھی ہو گا۔ ترک فوج مولانا روم کے شہر قونیہ سے درویشوں کا دستہ لے کر آئے گی۔ ادھر پاکستان میں شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ملتان سے صوفیا کے دستے نمودار ہوں گے۔ سب بھارتی بم مٹی بن کر رہ جائیں گے۔

اس حملے کے بعد ہندوستان کو پاکستان میں ضم کر دیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کو مغربی بنگال دے دیا جائے گا۔ برما کو ملائشیا کے حوالے کر دیا جائے گا۔ عراق ترکی کے حصے میں آئے گا اور ایران سعودی عرب کا ایک صوبہ بن جائے گا۔ اس کے بعد خلافت عثمانیہ سے کہیں بڑھ کر طاقتور اسلامی سلطنت وجود میں آئے گی جس سے مغربی صلیبی تھر تھر کانپیں گے۔ ممتاز امریکی مورخ سیموئل ہنٹنگٹن اسی منظر نامے کو دیکھ دیکھ کر تو تہذیبوں کے تصادم اور اسلامی دنیا سے صلیبی دنیا کی شکست کی پیش گوئیاں کر رہا ہے۔ صوفیا کی پیش گوئیاں بھی یہی کہتی ہیں۔

حملے کا منصوبہ واضح ہے اور اس پر عمل نہایت آسان۔ انشا اللہ آج کل میں ہی خبر آ جائے گی۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar