ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل

ہمارے معاشرے میں تو ملازمت پیشہ خواتین چاہے جتنی اچھی ملازمت ہی کیوں نہ کر رہی ہوں اور مالی طور سے معاون ہوں، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کھانا بھی بہترین پکائیں، وقت پڑنے پر مہمانداری بھی کر لیں، کپڑوں کی دھلائی اور استری بھی درست رکھیں اور خود بھی تازہ دم اور چاق و چوبند رہیں اور چاہے وہ مرد کے برابر یا اس سے زیادہ پیسے بھی کما رہی ہوں ان کو اپنے مخصوص رول کو بہر حال ادا کرنا ہوتا ہے۔
اچھی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول کے بعد شادی شدہ خواتین کو عموما مسلسل ایک طرح کے احساس جرم کا شکار رہنا پڑتا ہے۔ اگر وہ ملازمت پیشہ ہوں تو بہت سی باتوں پر انہیں احساس ندامت کا شکار ہونا پڑتا ہے، مثلا کہ وہ اپنے گھر، صفائی، گھر کے کاموں یا اپنے بچوں کو اس طور سے وقت نہیں دے پا رہی ہوتیں جس طرح سے ایک اچھی خاتون خانہ کو دینا چاہیے، اور اگر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ جائیں تو پھر انہیں ایک اتنی اچھی ڈگری ضائع کر دینے، اور اپنی صلاحیتوں اور ٹیلنٹ سے مکمل طور پر استفادہ نہ کرنےپر نادم ہونا پڑتا ہے۔
آج کل کے زمانے میں خواتین کا ملازمت کرنا کئی لحاظ سے ضروری ہوتا جا رہا ہے، سب سے بڑی وجہ تو خاندان کے لئے پیسہ کمانا ہے کیونکہ ایک شخص کی آمدن میں اب گزارا ممکن نہیں، اس کے علاوہ کچھ کر دکھانے کی خواہش، اعلی تعلیم کا استعمال، ذاتی اطمینان اور معاشرے میں ایک مقام بنانا بھی شادی شدہ خواتین کے ملازمت کرنے کی وجوہات میں سے ہیں۔ مگر اس تمام تر کوشش کے بوجود ان کو آخر میں ایک فئیر ڈیل نہیں ملتی کیونکہ ہمارے معاشرے میں شادی شدہ ملازمت پیشہ خاتون سے چوبیس گھنٹے کام کی توقع کی جاتی ہے اور گھریلو امور اور بچوں کی پرورش کے بارے میں بس ایک حتمی رائے دے دی جاتی ہے کہ یہ کام خواتین ہی بہتر طور سے انجام دے سکتی ہیں۔ گو کہ ہمارے معاشرے میں گھریلو مددگاروں سے مدد لینے کا بھی رواج ہے مگر ایسے مددگار ملنا آسان نہیں جو قابل اعتماد بھی ہوں اور کام بھی خوش اسلوبی سے انجام دیں سکیں، بیشتر گھریلو کام خاتون خانہ پر ہی آن پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ملازمین کے لئے تنخواہ میں سے گنجائش نکالنا بھی بہت سی خواتین کے لئے آسان نہیں۔
ان سب عوامل کے باجود بہت ہی کم لوگ ہیں جو گھریلو امور میں خاتون کی مدد کرتے نظر آتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر مرد عموما اپنی بیویوں کے بارے میں ایک عجیب نظریہ رکھتے ہیں، وہ ان کو ترقی کرتا دیکھنا بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی میں ان کو خود سے کمتر بھی دیکھنا چاہتے ہیں، وہ انہیں مالی طور پر تعاون کرنے کے قابل بھی بنانا چاہتے ہیں مگر ساتھ ہی وہ ان کی آزادی اور خود مختاری کو قبول نہیں کر پاتے۔ چاہے خواتین ذہنی یا معاشی لحاظ سے جس درجے پر بھی ہوں، اپنی مردانگی کی مسند کو چھوڑنا اور خواتین کی اہمیت کو قبول کرنا اور ان کی گھریلو امور میں مدد کرنا اکثریت کے لئے ابھی بھی آسان نہیں۔
اس کے علاوہ یہ بات سمجھنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا ذاتی اور دفتری زندگی دونوں کو بیک وقت بہترین طریقے سے لے کر چلنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ اگر ایک خاتون صبح سے لے کر رات گئے تک کام کریں گی تو وہ غلطیاں بھی کریں گی، وہ غصے میں بھی آئیں گی اور وہ پریشان بھی ہوں گی۔
ملازمت میں بھی جتنی سہولیات قانون ہمیں دیتا ہے، ان کا یا تو بیشتر خواتین کو ادراک نہیں اور علم ہوتے ہوئے بھی ان حقوق کا حصول آسان نہیں۔ کل ایک دوست سے بات ہو رہی تھی جو ایک نجی سکول میں استانی ہیں۔ کہنے لگیں کہ بچہ کی پیدائش کے بعد چالیس دن کی چھٹی سکول بمع تنخواہ کے دیتا ہے اور پیدایش سے پہلےنہ تو چھٹی آرام سے ملتی ہے اور اگر ملے بھی تو بنا تنخواہ کے۔ میں نے اسے بتایا کہ قانون کے تحت تو تمہارا ادارہ زچگی کی صورت میں تمہیں بارہ ہفتے کی بمع تنخواہ چھٹی دینے کا مجاز ہے تو پوچھنے لگی کہ کیا اب میں اس حالت میں ان حقوق کے لئے عدالت میں بھی جاؤں؟ ہم بنیادی انسانی حقوق سے بھی واقف نہیں، بطور شہری اپنے حقوق سے بھی واقف نہیں اور اگر ہوں بھی تو ان حقوق کا حصول بہت مشکل ہے۔
اگر ایک مرد تمام دن کام کر کے تھکا ہارا گھر آئے تو اس کے آرام کا خیال رکھنا بیوی کا فرض ہے۔ یہ بات ہمیں اکثر سننے کو ملتی ہے مگر ایک بیوی تھکی ہاری آئے تو کیا رویہ ہو؟ اس پر سب خاموش ہیں۔
جیسا کہ بدلتی ضرورتوں کے ساتھ ہمیں اپنی بہت سی اقدار اور رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہےان میں سے ایک نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق متوازن طریقے سے مرد اور عورت کے مابین امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم بھی ہے۔

