جمع لگے سرکار کی اور مرزا کھیلیں پھاگ

ان نا اہل حکمرانوں کو خود تو کچھ سمجھ بوجھ ہے نہیں۔ ولایتی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے بابو بطور مشیر بھرتی کر لیتے ہیں جو ان کو بتاتے ہیں کہ ٹیکس زیادہ کرو اور اس کی چوری روکو، آمدنی زیادہ کرو، معیشت کے حجم میں بڑھوتری لاؤ، کرپشن کم کرو وغیرہ وغیرہ۔ اب اتنے نامعقول مطالبے سن کر حکمران اور پوری اسمبلی ہی لاچار ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی غربت کا یہ حال ہے کہ اکثر ممبران اسمبلی یا تو ٹیکس ہی نہیں دیتے یا اتنا واجبی سا دیتے ہیں جتنا گریڈ پانچ کے سرکاری ملازم کا کٹتا ہے۔ حاشا وکلا ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ کرپٹ ہیں یا ٹیکس چوری کرتے ہیں، ہم تو صرف یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب عوام ہی اتنے غریب ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کے نمائندے بھی غریب ہی ہوں گے۔
حاصل کلام یہ کہ ان نام نہاد معیشت دانوں کی قرضہ اتارنے کی سکیمیں مکمل طور پر ناکام اور ناقابل عمل ہیں۔ مرکزی حکومت اور ہر صوبہ اپنے بجٹ کا خسارہ کم کرنے کے لئے دنیا کے آگے مزید جھولی پھیلانے پر مجبور ہوتا ہے کہ دے جا سخی، مولا تیرا بھلا کرے۔
ہم خود اس معاملے پر نہایت پریشان تھے اور کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی ایک خیرہ کن کرن پھوٹی ہے۔ جناب عمران خان صاحب نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ بال بال قرضے میں ڈوبے ہوئے تھے اور سود خور یہودیوں کے مطالبات کے باعث اپنی گاڑی تک بیچنے پر مجبور ہو گئے تھے، تو کیسے انہوں نے چند گھنٹوں میں ہی اپنا لاکھوں روپے کا قرضہ اتار دیا۔
اب اگر ہماری قوم جہالت سے باز آتے ہوئے ان کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنا دے تو ہمیں یقین ہے کہ اسی فارمولے کے تحت وہ چند گھنٹوں کے اندر اندر ہی پاکستان کا کھربوں روپے کا قرضہ بھی اتار سکتے ہیں۔
چشم تصور کو ذرا حرکت میں تو لائیں۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا میچ ہو رہا ہو گا۔ وزیر خزانہ ٹیلی فون پر ڈائریکٹ وزیراعظم جناب عمران خان صاحب سے ہدایات لے کر میچ پر قومی خزانے سے رقم لگا لگا کر خزانہ بھر رہے ہوں گے۔ دنیا کے بڑے بڑے سٹے باز کنگال ہو جائیں گے اور ان کا پیسہ پاکستان کے قومی خزانے میں آ جائے گا۔ بلکہ ورلڈ کپ وغیرہ جیسے ایونٹ میں تو اتنی زیادہ کمائی ممکن ہے کہ الٹا ہم سعودی عرب کو قرضہ دینے لگیں گے جو آج کل رقم کی کمی سے شدید پریشان ہے اور بجٹ میں کٹوتیاں کر رہا ہے۔
کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں میں بھی ایسے ہی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ فٹ بال، ٹینس، ہاکی، ٹیبل ٹینس، پیراکی، کشتی اور ایسے دوسرے بے شمار کھیل ہیں جن سے قمار بازی کے ذریعے اندھی کمائی کرنا ممکن ہے۔
چشم تصور کو مزید حرکت میں تو لائیں۔ دنیا بھر میں ہماری وزارت خزانہ کی اس پالیسی کی دھوم مچ جائے گی۔ سرکاری سرپرستی میں وطن عزیز ایسے ایسے قمار خانے کھلیں گے کہ لوگ لاس ویگاس اور مانٹی کارلو کو بھول جائیں گے اور دنیا بھر سے شرفا جوا کھیلنے پاکستان تشریف لائیں گے۔ ان قمار خانوں کے باہر کھڑا ایک ان پڑھ چوکیدار بھی ٹپ میں ہزاروں ڈالر کمانے لگے گا۔ کسی بین الاقوامی لیڈر نے پاکستان کے آگے چوں چرا کرنے کی کوشش کی تو ہم اس کا کھاتہ کھول کر اسے دکھا دیں گے اور کہیں گے کہ میاں، پہلے اپنا حساب بے باق کرو، اس کے بعد جس تھالی میں کھیلتے ہو اس میں چھید کرنا۔
بس شرط یہی ہے کہ معیشت اور کھیل کو سمجھنے والی اور دونوں کو ایک کر دینے والی ویژنری قیادت کو ہم ووٹ دے کر سامنے لائیں۔ ورنہ نواز شریف اور بھٹو خاندان کے موروثی حکمرانوں کو ووٹ دے دے کر وزیراعظم بناتے رہے تو ایسے ہی لنگوٹی میں پھاگ کھیلیں گے اور ایک دوجے سے پوچھا کریں گے کہ ”ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟“ اور گوگل امیجز میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہا کریں گے۔
پس تحریر: ”لنگوٹی میں پھاگ کھیلنا“ ایک قدیم محاورہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تنگدستی میں قرض وغیرہ لے کر گلچھرے اڑانے پر تلے رہنا۔ خدشہ تھا کہ محاورے کو واضح نہ کیا تو کہیں محض لنگوٹی کے لفظ سے آشنا ہماری باتمیز انگلش میڈیم نسل چشم تصور کو مزید حرکت میں لا کر کچھ کا کچھ نہ سمجھ بیٹھے۔ اسی تناظر میں کہاوت ہے کہ ”جمع لگے سرکار کی اور مرزا کھیلیں پھاگ“۔

