امریکی سازش اور ختم نبوت

بائیس نمبر چونگی سے سیدھا صدر کو جانے والی سڑک کے دائیں بائیں چھاونی کے دفاتر ہیں، مشرف دور ہی میں اس سڑک کو عوام الناس کے لیے بند کر دیا گیا تھا، جیسے بہت سے مقامات پر ہوا؛ کیوں کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا تھا؛ سو راستوں کے بیچ میں دیواریں کھڑی کردی گئیں۔ بائیس نمبر چونگی سے آدڑے والی طرف مڑیں اس جانب کو ایک دو رویہ سڑک نکالی گئی، اب وہاں سے گھوم کر صدر بازار جایا جاتا ہے؛ یہی سڑک ایم ایچ اسپتال سے ہوتی ہوئی پشاور روڈ کو چھوتی ہے، اور آگے جا کر بائیں ہاتھ مڑ جائیں تو رینج روڈ کا آغاز ہوتا ہے۔ رینج روڈ تک پہنچتے ٹیکسی ڈرائیور نے انکشاف کیا کہ نواز شریف نے ختم نبوت کی شق ختم کرنے کے لیے امریکا سے سودے بازی کرلی تھی، لیکن یہ سازش چھپی نہ رہ سکی۔
مجھے بالکل حیرانی نہیں ہوئی کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے یہ عالمی سازش بھانپ لی تھی۔ کئی بار یہود و ہنود کی سازش کی خبر، مجھے محلے کے سبزی والے سے مل جاتی ہے۔ ذکر اسمبلی میں ہونے والی ترمیم کا تھا، لیکن اس میں ختم نبوت کا حوالہ تھا؛ چناں چہ حساس موضوع پر کوئی رائے دینے سے پہلے مجھے ہزار بار سوچنا تھا، کہ کیسے لفظوں کا انتخاب کروں، جو ڈرائیور کی نظر میں میرے ایمان کو مشکوک نہ کردیں؛ مذہبی معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر بات کرتے، خدا سے زیادہ تو اس کے بندوں سے ڈر لگتا ہے۔ جب تک میں محتاط الفاظ کا انتخاب کرتا، اس وقفے میں ڈرائیور سے پوچھ بیٹھا، یہ ٹیکسی آپ کی ہے؟ ڈرائیور نے ایک سرد آہ بھری؛ میں یہ سمجھا وہ میری بے حسی پر ماتم کررہا ہے، کہ میں اس کی بات کو اہمیت نہیں دے رہا؛ جب وہ بولا تو میری غلط فہمی دور ہوئی۔ ”میرا ٹرانسپورٹ کا بزنس تھا، پنڈی سے لاہور تک میری اپنی بسیں چلتی تھیں، وہ لوگ جو کبھی مجھ سے کم تر تھے، وہ اب مجھ سے امیر ہوچکے ہیں، اور میں یہ جو ٹیکسی چلا رہا ہوں، یہ بھی میری نہیں ہے۔ “
سفر کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے، کہ آپ نت نئے کرداروں سے متعارف ہوتے ہیں؛ بڑوں کا فرمایا ہے، جتنے کردار ہیں اتنی کہانیاں ہوتی ہیں؛ کہانی میرا شعبہ ہے، کہانی سے مجھے دل چسپی رہی ہے۔ میں نے مزید کریدا تو اس نے بتایا، وہ جوے میں اپنا سب کچھ ہارتا چلا گیا۔ اس نے کرکٹ میچ سے لے کر، گھوڑوں تک ہر قسم کے کھیل پر داؤ لگائے ہیں۔ بزرگوں کا فرمان ہے، کہ جوے کی لت اور طوائف کے دام میں آنے والا چاہے بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، ایک دن بھکاری بن کے رہتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کا کہنا تھا، کہ جوے کے سبب اس کا سب کچھ بک گیا، بس ایک اس کا آبائی مکان تھا، جو بکنے سے بچ رہا، ورنہ اس کے بچے در در خوار ہوجاتے۔ ایسے میں وہ ٹیکسی چلا کر دو سے تین ہزار دیہاڑی کماتا ہے؛ اس کے بقول جس شخص نے لاکھوں کروڑوں دیکھے ہوں، اس کے لیے دو تین ہزار کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اپنی داستان سنانے کے بعد اس نے اللہ تعالی کا ازحد شکر ادا کیا، کہ اس معمولی رقم میں بھی اس کا گزارا ہوجاتا ہے۔ میں نے سوال کیا، کیا آپ نے جوا چھوڑ دیا ہے یا ابھی کھیلتے ہیں؟ اس کے چہرے پر جھینپو سی مسکان پھیل گئی۔ ”کھیلتا ہوں۔ آج بھی کچھ پیسے جمع ہوجائیں تو میں جوا ہی کھیلنے جاوں گا۔ “ اس نے لگی لپٹی بغیر کہا۔
میری منزل آگئی تھی، اس کو کرایہ ادا کیا اور اپنی راہ لی۔ دل میں بہت کچھ تھا، پر کہہ نہ سکا۔ کہنا یہ تھا کہ ”جوا کھیلنا نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کے برعکس ہے۔ “ وہ حیران ہوتا، تو میں یہ بتا کر اس کی حیرانی دور کرتا، ”ابھی آپ ختم نبوت کی شق پر حکمرانوں کو برا بھلا کہ رہے تھے، اور اس کا سبب ان کو دین سے دوری بتارہے تھے، آپ دین میں کتنے ہیں، آپ نے کبھی سوچا؟ “ یہ سن کے اس کے چہرے پر تناؤ پیدا ہوجاتا، اور وہ کھنچے لہجے میں جواب دیتا، ”ختم نبوت پر جان بھی قربان ہے۔ “ میں کہتا، ”بالکل! آپ ختم نبوت پر جان بھی قربان کیجیے گا، لیکن اس سے پہلے خاتم الانبیا کے دین میں جینا بھی سیکھ لیں۔ “
میں یہ سب نہ کہ سکا؛ کیوں کہ میں تو خود اس سے بڑا گنہ گار ہوں؛ میں نے کب صراط مستقیم کو پایا ہے، جو اسے ہدایت کرتا! ایسی کام کی باتیں بہت سے دلوں میں رہ جاتی ہیں، ایسی کام کی باتیں بہت سے سمجھانا چاہتے ہیں، اور جو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ مطعون بھی ہوتے ہیں؛ افسوس! یہ باتیں کوئی نہیں سمجھنا چاہتا! کوئی بھی تو نہیں۔

