سہاگ رات کسی اجنبی کے ساتھ ہی ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جب دلہن بنی پھولوں سے سجی ہوئی ایک بڑی اور بہت مہنگی کار میں بیٹھ کر بارات کے ساتھ سسرال جا رہی تھی تو مجھے یقین نہیں تھا کہ میں اپنے نئے گھر زندہ سلامت پہنچوں گی کیونکہ میں بہت پریشان اور خوف زدہ تھی۔ اتنی خوف زدہ کہ میں نے چلتی کار سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ میں ایک چھوٹی سے لڑکی خوف کی وجہ سے اپنے خودکشی کے منصوبے پر بھی عمل نہ کر سکی اور آج آپ کے سامنے ایک ممبر پارلیمنٹ کے طور پر تقریر کر رہی ہوں۔ لیکن اس رات کا خوف میں بھول نہیں سکتی۔

میرے والد بہت مصروف اور بڑے آدمی تھے۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہیں اگر یہ علم ہوتا کہ میں کس کرب اور عذاب سے گزر رہی ہوں تو وہ مجھے اس عذاب سے کبھی نہ گزارتے۔ لیکن میں اپنے خوف اور ان کے رعب کی وجہ سے انہیں یہ بتا نہ سکی۔ ایک ٹین ایج چھوٹی سے بچی سے یہ توقع بھی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ اپنی شادی کے متعلق اپنے اتنے ”با رعب“ باپ سے بات کر سکتی ہے۔ زندگی کی اتنی بہاریں دیکھنے کے بعد اور بہت سارے لوگوں کے ساتھ ملنے اور کام کرنے کے بعد اب میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں اگر اپنے والد کو اپنا خوف بتا بھی دیتی تو میرے والد اسے سمجھ نہ پاتے اور اس خوف کو وہ ایک حقیقی خوف نہ سمجھتے۔ بہت سے مردوں کے لیے سارے پیار کے باوجود اپنی بیٹیوں کے اس دکھ کو سمجھنا تقریبا نا ممکن ہے۔

ایک اجنبی کے سہاگ رات ”منانے“ کے خوف کو کوئی مرد بھی حقیقی نہیں سمجھتا۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کروڑوں لڑکیوں کی شادیاں اپنے والدین کے چنے ہوے اجنبی مردوں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں اور آج تک کتنی لڑکیاں ہیں جو اپنی شادی کی پہلی رات کو مر گئی تھیں اس لیے یہ خوف حقیقی نہیں ہے۔ اور پھر لڑکیاں تو بنی ہی اسی کام کے لیے ہیں۔ جھجھک تو ہوتی ہی ہے اور تھوڑی بہت شرم بھی۔ پہلے دن تو مرد نے کچھ زبردستی کرنا ہی ہوتی ہے اور اس کے بعد سب ”سموتھ“ ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بچے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔

ہمارے مذہبی رہنما اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہر شخص کو اپنی مرضی کی شادی کرنے کا حق ہے۔ لیکن دوسری جانب ہمیں یہ بھی بتاتے رہتے ہیں کہ عورت کا کسی غیر محرم مرد سے ملنا منع ہے۔ اب یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے لگا نہیں کھاتیں۔ ملنے اور تعلق واسطے کے بغیر کسی کو پسند یا نا پسند کیسے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ سوال ”سوچنے“ سے پیدا ہوتا ہے اور سوچنا منع ہے۔ اس لیے بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور ہمارے مذہبی رہنما یہ دونوں متضاد باتیں ایک ہی تقریر میں کہہ کر داد اور معاوضہ وصول پاتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ شادی جیسا انتہائی ذاتی اور سادہ معاملہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا عذاب بنا ہوا ہے۔ یہ ایک فالتو کا بوجھ ہے جو معاشرے نے والدین کے ذمے ڈالا ہوا ہے اور بے شمار والدین اس بوجھ تلے مرے جا رہے ہیں۔ یہ بوجھ موت کی طرح اٹل اور عام ہے۔ سر عام اس بوجھ کا ذکر کرنا کوئی شرم یا جھجھک کی بات نہیں ہے۔ جیسے یہ بوجھ تو نیچرل ہے۔ سبھی نے اس بوجھ کو برداشت کرنا ہے اور اس بوجھ سے نکلنے کے لیے سبھی کو ایک دوسرے کی مدد درکار ہے اور اس بوجھ پر ایک دوسرے پر ترس کھانا سبھی کی اخلاقی ذمہداری ہے۔

ایک طرف تو یہ بوجھ (بیٹی کی شادی) موت کی طرح ہر شخص کو کھائے جا رہا ہے اور دوسری جانب لڑکیاں اپنے دنیا میں آنے کو کوستی رہتی ہیں کہ ان کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے ان کے والد صاحب کے ناتواں کندھے اس شدید بوجھ کے نیچے جھکے جا رہے ہیں۔ لڑکیاں بے چاری عجیب عذاب کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک طرف تو ان کے پیدا ہو جانے میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ دوسری جانب یہ کہ انہیں اس عمر میں شادی کا کوئی شوق بھی نہیں ہوتا انہوں نے کبھی بھی نہیں کہا ہوتا کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہیں یعنی انہوں نے اپنے والدین کو کبھی بھی ایک اشارہ بھی نہیں دیا ہوتا کہ وہ شادی کے بغیر پریشان ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ تو الٹا شادی کے خوف سے مری جا رہی ہوتی ہیں۔

یعنی تضاد کا اندازہ لگاؤ، آپ اپنی بیٹی کو وہ ”نعمت“ دینے کے لیے مرے جا رہے ہے جس کا اسے شوق ہے نہ ضرورت۔ جو اس نے آپ سے کبھی نہیں مانگی بلکہ ہاتھ جوڑتی ہے کہ مجھے اس ”نعمت“ کے عذاب سے بچاؤ۔

اس ساری گمبھیرتا کے پیچھے جہالت اور غیرت جیسی فرسودہ روایات ہیں جن کی وجہ سے شادی جیسی خوب صورت چیز ایک عذاب کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ فرسودہ روایات ہی ہیں کہ والدین کا ”فخر“ یہ ہے کہ ان کی بیٹی کی سہاگ رات کسی اجنبی کے ساتھ ہی ہو۔ اور بیٹیاں ایک اجنبی کے ساتھ سہاگ رات کے عذاب اور خود کشی کے درمیان جھولتی ہوئی زندگی کا یہ انتہائی اہم مرحلہ پار کرتی ہیں۔

شکر ہے کہ کچھ گھروں میں صورت حال اب بدل رہی ہے۔ اب کافی گھروں میں بیٹیوں کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے۔ بہت سی بیٹیاں اپنی تعلیم مکمل بھی کرتی ہیں۔ ان کے والدین بہت کھلے دل سے ان کے تعلیم مکمل کرنے کا انتظار کرتے ہیں اور اپنی بیٹی کی کامیابیوں سے نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ فخر بھی کرتے ہیں۔ بہت سی بیٹیاں نوکریاں بھی کرتی ہیں تاکہ وہ دوسروں پر ”بوجھ“ بننے کی بجائے دوسروں کا سہارا بن سکیں۔ ایسے گھروں میں بیٹیاں اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں جیسے شادی، تعلیم اور روزگار، میں رائے دینے کے قابل ہوتی ہیں اور ان کی رائے کو اہمیت بھی دی جاتی ہے۔ اور انہیں اجنبی کے ساتھ سہاگ رات ”منانے“ کے عذاب سے گزرنا نہیں پڑتا۔ ایسے گھروں کی تعداد ہر اگلے دن بڑہ رہی ہے اور فرسودہ رسومات ہر اگلے روز کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ قانون فطرت یہی ہے۔ شخصی آزادی کی اہمیت ہر اگلے دن پہلے سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

ایک دن یہ فرسودہ روایات ماضی کا قصہ ہوں گی اور ہمارے معاشرے میں بھی اجنبی کے ساتھ سہاگ رات منانے کو قابل فخر نہیں بلکہ شرمناک ہی سمجھا جائے گا۔

Oct 14, 2017

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 204 posts and counting.See all posts by salim-malik