پیر کی جوتی عورت، بیوی کا ریپ اور مضطرب مولوی

اٹھارہ برس سے کم عمر کی بیوی کے ساتھ جنسی عمل کو ریپ قرار دینے کا فیصلہ بھی بڑے دوررس اثرات مرتب کرے گا۔ بھارت میں متعدد قبائل اور گروہوں میں بچوں کی شادی کی روایت ہے۔ اس روایت کے سبب بہت سے بچوں کا نہ صرف بچپن چھنا ہے بلکہ ان کی تعلیم اور صحت تک غارت ہو گئی ہے ایسے میں ضروری تھا کہ اس پر روک کی سمت کوئی فیصلہ کن اقدام ہو۔ حالانکہ عدالت کا فیصلہ اٹھارہ برس سے کم عمر بیوی سے جنسی تعلق پر روک تک ہے لیکن اس سے بچوں کی شادی پر قدغن لگانے میں مدد ملے گی۔ یہاں ایک بات یہ بھی لائق توجہ ہے کہ مسلمانوں میں اٹھارہ برس سے کم عمر کی لڑکی کی شادی کے واقعات اکثر دیکھنے میں آ جاتے ہیں۔ غریب اور کم پڑھے لکھے خاندانوں میں یہ روایت کافی ہے۔ اس کے سبب جہاں ایک طرف لڑکے کی تعلیم اور کریئر چوپٹ ہو جاتا ہے وہیں بچیاں اسکول تو دور جسمانی طور پر پختہ ہونے سے پہلے ہی حمل اور زچگی جیسی چیزوں سے دوچار ہوتی ہیں اور بڑی تعداد میں زچگی کے دوران ہلاک بھی ہو جاتی ہیں۔ اس لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمان بچیوں کے لئے ایک راحت رساں نوید ہے۔
خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایک اور اہم فیصلہ عدالت سے آیا ہی چاہتا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ اس معاملہ کی سماعت کر رہا ہے کہ کیا بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق کو ریپ مانا جائے؟ اس سلسلہ میں بعض حلقوں کو تحفظات ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر بھارت میں میریٹل ریپ کو جرم قرار دیا گیا تو شادی کا انسٹی ٹیوشن متاثر ہوگا۔ ان افراد کی رائے کا احترام کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ اگر شادی کا مقصد بیوی نام کی شئے کو استعمال کے لئے خرید لینا ہے اور عورت کا وجود بیوی بننے پر صرف ایک استعمال ہونے والی شئے کا رہ جاتا ہے تو معاف کیجئے ایسے انسٹی ٹیوشن کو ختم ہو جانا چاہیے۔ دوسرے مذاہب کی میں بات نہیں کرتا لیکن اسلام میں شادی ایک کانٹریکٹ ہے جو مرد اور عورت کی رضامندی سے طے پاتی ہے۔ اب دنیا کا کوئی بھی قانون اٹھا کر دیکھ لیجیے کانٹریکٹ میں ہر فریق کو حقوق ملتے ہیں ایسا ممکن نہیں ہے کہ کسی کنٹریکٹ میں ایک پارٹی کو کچھ بھی نہ ملے اور دوسرے کو سارے اختیارات حاصل ہو جائیں ایسی صورت کو کانٹریکٹ نہیں سودا کہا جاتا ہے، اسلام میں شادی سودے بازی نہیں ہے اس لئے جس طرح شوہر کو یہ حق ہے کہ بیوی اس کے ساتھ زبردستی جنسی فعل انجام نہیں دے سکتی ویسے ہی عورت کے ساتھ زبردستی جنسی فعل ریپ ہی ہے اور اس کو جرم مانا ہی جانا چاہیے۔
گذشتہ کچھ عرصہ سے بھارت کی خواتین اپنے حقوق کی لڑائی کے لئے تواتر سے سامنے آئی ہیں۔ ممبئی کی حاجی علی درگاہ میں مقبرے کے اندرونی حصہ میں عورتوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ خواتین ممبئی ہائی کورٹ گئیں اور جب درگاہ انتظامیہ کو احساس ہوا کہ ان کے پاس دلیل کے نام پر کچھ نہیں ہے تو وہ بھاگے بھاگے عدالت گئے اور کہا کہ ہم خواتین کو داخلہ کی اجازت دے دیں گے۔ سبری مالا مندر میں دس سے پچاس برس کی عمر کی خواتین کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے اس کے خلاف بھی معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور اب عدالت کی آئینی بینچ اس کی سماعت کرے گا۔
کسی بھی سماج میں جب تبدیلی آتی ہے تو بہت سوں کو عجیب لگتا ہے، کئی لوگ بے چین ہونے لگتے ہیں اور بہت سوں کومفت کے اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہی امتحان کی گھڑی ہے، اگر آپ ان اعتراضات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے تو آپ کامیاب ہو جاتے ہیں اور تبدیلی آ جاتی ہے اور اگر آپ ڈر گئے تو مخالف آپ کی آواز کو دبا دیتے ہیں۔ خواتین کو مہاتما گاندھی کا ایک قول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ باپو نے کہا تھا کہ پہلے وہ آپ کو نظر انداز کریں گے، پھر آپ پر ہنسیں گے، پھر آپ سے لڑیں گے اور پھر آپ جیت جائیں گے۔

