عورت کے حصول کی تمنا اور نعیم بخاری کا ایک کلومیٹر

چلیں بات کو آگے بڑھا تے ہیں اگر عورتیں بھی مردوں کے کردار کو ان کے آسان حصول کے حوالے سے ہی ان کا کردار جج کرنے لگیں تب پھر آپ خود ہی بتا ئیے کیا کو ئی مومن مرد عورتوں کی نظر میں با کردار رہ پائے گا۔ پھر شاید ایک فی صد ہی مرد اچھے کردار کے بچیں۔ کون بہادر مرد ہے جو سہل نہیں۔ عورت کے کردار کو اس کے جسم کے امکانی حصول تک محدود رکھنا انتہائی غیر منا سب با ت ہے۔ ایسی عورت جو آپ کو آسان نظر آتی ہے اس کے بارے میں ایسی سوچ آپ کی گھٹیا سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔ ہاں کسی کو دیکھ کر اس کی شخصیت سمجھ آنے کا تو دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ بعض لو گ آواز سن کر کسی کے عادت و اطوار کے بارے میں بتا سکتے ہیں بعض اوقات لہجے کے اتار چڑھاؤ سے سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جا تا ہے۔
لیکن عورت کی شخصیت میں صرف ایک ہی رخ دیکھ کر اس طرح کی بات کر نا کسی کے لیے بھی منا سب نہیں۔ نعیم بخاری نے یہ بات کر کے ہما رے معا شرے کی عام سوچ کی عکا سی کی ہے۔ ہمارے ہاں عورت کی اچھا ئی برائی کو اپنی ذاتی خواہش کی انجام د ہی کی ممکنہ آسانیوں سے ہی پرکھا جا تا ہے۔ وہ عورت کتنی اچھی بیٹی، ماں یا بیوی ہے وہ اپنے پیشہ و رانہ امور میں کس حد تک دیانت دار ہے، کتنی محنتی ہے۔ اس کا کتنا مطالعہ ہے۔ خاندان میں اس کا کیا امیج ہے آپ اپنے دوست کے کان میں اس کے ممکنہ حصول کے بارے بات کر کے پل بھر میں اسے ذلیل کر دیں گے۔ کانا پھوسی یا اس پر فقرہ کسنے سے آپ کو جو وقتی تسکین ملی خدا کرے وہ دائمی قرار پائے۔
اسکول کی تدریس کے دوران ہم چار ٹیچرز ایک خاتون کی گاڑی میں جاتی تھیں۔ وہ ہمیں ہمارے اسٹاپ سے پک کر لیتی تھیں۔ ایک دن اسکول میں ایک غیر نصابی سر گرمی تھی۔ ہم سب نے اس روز معمول سے ہٹ کر اچھے سے تیار ہوئے تھے۔ ان خاتون کو دیر ہو گئی۔ ہم نے آخری ٹیچر کو پک کیا۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے رونا شرع کر دیا کہنے لگی وہاں میرے ساتھ جو لڑکے کھڑے ہو ئے تھے وہ مسلسل فقرے کس رہے تھے۔ ایک ٹیچر کہنے لگی تم نے لپ اسٹک بھی تو اتنی ڈارک لگائی ہے اور کپڑے بھی اتنے بھڑ کیلے ہیں وہ تمہیں غلط سمجھ رہے ہوں گے۔
اس ٹیچر نے تو عام سوچ کے مطابق بات کی، لیکن سجنا سنورنا تو عورت کی فطرت ہے کچھ عورتوں کو بھڑکیلے اور شوخ رنگ پہننا اچھا لگتا ہے۔ لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ بات کیریکٹر پر آجا ئے۔ یہ بھی دلیل دی جا تی ہے کہ اگر سجنا سنورنا ہے تو چہرہ چھپائیں اسلام نے بھی اسی لیے پردے کا حکم دیا ہے۔ ہم ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہیں، سجنے سنورنے کی شوقین بے پردہ عورت مسلمان ہے یا نہیں لیکن اسے چھیڑنے کا حکم کس مذہبی کتاب میں لکھا ہے۔
عورت کی عزت کے خود اس کے لیے اہم ہے۔ خود کو نا تو اپنے گھر کی عورتوں کی عزت کی فکر میں نفسیاتی مریض بنا ئیں نا دوسرے گھر کی عورتوں کے چال چلن کے بارے میں فکر کر کے دبلے ہوں۔ اسے اپنی طرح کا ایک حساس انسان سمجھیں جسے خود اپنی عزت، شہرت اور نیک نامی کی پروا ہے اور اس نیک نامی کو داغ لگنے کا تعلق صرف اس کے جسم کے حصول ہی سے نہیں ہے بلکہ اس کے جھوٹ بولنے چوری کرنے اور دھوکہ دینے سے بھی لگ سکتا ہے اور یہ ہی عیب آپ کے کردار کو بھی داغ دار کر سکتے ہیں۔
اگر عوت سگریٹ پیے تو، مرد سے ہاتھ ملائے تو، کسی غیر مرد کے ساتھ نظر آئے تو عورت کے کردار پر انگلیاں اٹھنا شرع ہو جا تی ہیں۔ امراء کے ان محلوں کو چھوڑ کر جہاں بڑی کوٹھیاں اور بنگلے ہیں عام نچلے اور متوسط طبقے نے عورت کے کردار اور اس کے حوالے سے بننے والی کہانیوں کے پیشِ نظر تقریباً سب ہی گھرا نوں کو بوکھلایا ہوا ہے۔ عورت کی عزت کو لے کر گھر والے عجیب نفسیاتی بحر ان کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کا ایک سیدھا سا حل ہے کہ عورت کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ہر عوت کو اپنا وقار اور نیک نامی عزیز ہے، آپ پڑوسی ہیں یا اس کے رشتے دار اس کے باپ بھائی ہیں ہو شوہر اس کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دیں اپنے آفس سے ہزار مردوں کو جھیل کر آنے والی عورت اگر آفس میں کسی پارٹی میں شرکت کے سبب معمول سے ذرا دیر سے گھر آئے تو محلے میں آتے ہی اپنا اعتماد کھو دیتی ہے۔ خود ہی چور سی بن جا تی ہے۔ دل میں سو طرح کے خیال آتے ہیں۔ میں لوگ کیا کہیں گے رات گئے اتنی بن ٹھن کر کہاں سے اکیلی آرہی ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنی لپ اسٹک صاف کرتی ہے سر پر دوپٹہ ڈھکتی ہے، اگر گھر میں کوئی ہو تو اسے گلی کے نکڑ پر بلا لیتی ہے کہ محلے والوں کو اکیلے تن تنہا رات گئے دیر سے آنے کا تاثر نہ ملے۔
کردار کے پیمانے کو نسوانی اعضاء کی شرم و حیا تک محدود کر دینے سے معاشرے میں پھیلی برائیاں ختم نہیں ہوں گی بلکہ عورت کے اعتماد کو مہمیز کرنے سے ہی معا شرہ میں تبدیلی آئے گی۔ وہ اپنا اچھا برا بھی سوچ سکتی ہے اور اپنا تحفظ بھی کر سکتی ہے۔ وہ آپ کی بہن ہے یا بیٹی یا آپ کے پڑوسی کی کچھ لگتی خدا کے لیے اسے اپنے جیسا ایک انسان سمجھیں جس کے ذہن میں بڑے مقاصد کوحاصل کرنے کا ہدف ہے۔ اور آپ کے ذہن میں اس کے کردار کے سرٹیفکٹ کا متن ہے۔ ایک طرف اپنے خاندان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے گھر سے نکلی ہے۔ تو دوسری طرف اپنی صلاحیتوں کو بھی آزماناچاہتی ہے۔ اس وقت سے ڈریں جب عورت ( وہ آپ کے گھر کی بھی ہو سکتی ہے ) سماج کی پروا کرنی چھوڑ دے۔

