نامور ادیبوں کی کرکٹ کمنٹری سے جڑی یادیں (1)


ممتاز نقاد محمد حسن عسکری نے تقسیم کے بعد پاکستان میں کرکٹ کا جنون دیکھتے ہوئے بھنا کرکہا تھا کہ اس ملک میں ادب ودب نہیں کرکٹ ہی چلے گی اور پھر مایہ ناز فکشن نگار انتظار حسین نے یہ کہہ دیا کہ ہم نے اپنی تاریخ میں جتنے بڑے کرکٹرز پیدا کئے ہیں اتنے بڑے افسانہ نگار نہیں۔ فیض احمد فیض کرکٹ کو پسند کرنے کے باوجود 1955میں ہندوستانی ٹیم کی آمد پرلوگوں کے بہت زیادہ پرجوش ہونے پر جیل میں بیٹھے جزبز ہو رہے تھے۔

اب تو کرکٹ میں بہت زیادہ گلیمر ہے، ٹی وی کی چکا چوند ہے، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی ہاؤ ہو ہے لیکن صاحب وہ زمانہ جب صرف ٹیسٹ کرکٹ ہی تھی، اس وقت بھی کرکٹ کے شوق کو فروغ تھا، اس کا اندازہ لوگوں کی کرکٹ کمنٹری میں از حد دل چسپی سے لگایا جاسکتا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ اردو کمنٹری بھی کہیں بعد کی بات ہے، جب کمنٹری صرف انگریزی میں ہوتی تھی، اس وقت بھی اسے سننے کی ہڑک بہت تھی، لوگ اردگرد کی دنیا سے بے نیاز ریڈیو سے کان لگائے میچ کی صورت حال سے خود کو باخبر رکھتے ہر چند کہ اکثریت انگریزی سمجھنے سے قاصر ہوتی ۔

کمنٹری کی وبا نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کو اپنی لپیٹ میں لیا، ادیب بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔ سب سے پہلے ذکر چراغ حسن حسرت کا جن کے بیٹے ظہیر جاوید نے لکھا ہے کہ وہ کرکٹ کمنٹری شوق سے سنتے تھے اور 1955 میں مقصود احمد انڈیا کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 99 رنز پر آؤٹ ہوئے تو اس پر ان کا ملال دیکھنے سے ہی معلوم ہو سکتا تھا،اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس آؤٹ نے کرکٹ کے عشاق کو نہایت سوگوارکیا، کمنٹیٹر کی زبانی یہ خبرِ بد سن کر اندرون سندھ ایک شخص صدمے سے چل بسا تھا۔

معروف فکشن نگار خدیجہ مستور بھی دنیا و مافیہا سے بے نیاز کرکٹ کمنٹری سنا کرتی تھیں۔ ان کی افسانہ نگار بہن ہاجرہ مسرور کے بقول ’’شطرنج کے گھوڑے دوڑانے کے علاوہ اخبار میں اسپورٹس رپورٹس بھی ذوق وشوق سے پڑھ لیتی ہیں ۔ وہ دن بہت شاندار ہوتا ہے جب کہیں کرکٹ میچ ہو رہا ہو اور سونے پرسہاگہ جب ہوتا ہے کہ ریڈیو پر کمنٹری بھی ہو رہی ہو ۔ کھانا پینا بھول کر ریڈیو سے کان لگائے بیٹھی ہیں ۔’’ وہ مارا آؤٹ آؤٹ ‘‘ کرسی سے اچھلی پڑھ رہی ہیں۔ تالیاں بجا رہی ہیں۔ اگر اس دوران میں ہم جیسا کوئی اللہ کا بندہ پہنچ جائے تو اب ان کے منہ سے نہ صرف میچ کی پوری تفصیل سنے بلکہ کرکٹ کی تاریخ پر بھی عبور حاصل کرے وگرنہ بدمذاقی کے طعنے سنے۔‘‘

آزادی کے بعد کرکٹ میں جس کارنامے نے وطن عزیز کا نام عالمی سطح پر اجاگر کیا وہ 1954میں اوول ٹیسٹ میں فتح ہے۔ بارہ وکٹیں لینے والے فضل محمود اس میچ کے ہیرو تھے۔ یہ کامیابی سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہمارے حصے میں آئی۔ اس میچ کے آخری لمحات کی روداد ریڈیو سے سنتے ہوئے شائقین کی جان سولی پر اٹکی رہی، سانس اوپر نیچے ہوتا رہا۔

مستنصر حسین تارڑ ۔۔۔ الھڑ بچپن

ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ اس وقت میٹرک کے طالب علم تھے، میچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا تو ان کے ماسٹر صاحب پڑھانے آگئے جس پر انھیں غصہ آیا، لیکن جلد یہ راز کھل گیا کہ جیسے وہ چار و ناچار پڑھ رہے ہیں، ویسے ہی استاد محترم مجبوراً چلے آئے ہیں کہ وہ بھی کرکٹ کے دیوانے ہیں۔‘‘ وہ لکھتے ہیں۔:

’’ پاکستانی کرکٹ میں سب سے بڑا دھماکہ اوول میں ہوا۔ آج تک انگلینڈ کا پہلی بار دورہ کرنے والی کسی بھی ٹیم نے ٹیسٹ سیریز برابر نہیں کی تھی اور ایک نئے ملک کی نوجوان کرکٹ ٹیم نے یہ کر دکھایا تھا۔ میں ان دنوں میٹرک میں پڑھتا تھا اور ماسٹر صاحب مجھے ٹیوشن پڑھانے آیا کرتے تھے اور شام سات آٹھ بجے آیا کرتے تھے۔ اور وہ اوول ٹیسٹ کی شام تھی جب میں ریڈیو سے کان لگائے میچ کی کمنٹری سن رہا تھا کہ ماسٹر صاحب پڑھانے کے لئے آ گئے آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وہ مجھے کس قدر زہر لگے۔ اس ناگہانی مصیبت کا حل میں نے یہ نکالا کہ نہایت انہماک سے تقریباً دس منٹ پڑھتا رہتا اور پھر کوئی بہانہ بنا کر ماسٹر صاحب میں ابھی آیا کہہ کر ساتھ والے کمرے میں جا کر ریڈیو سے کان لگائے تازہ ترین سکور معلوم کرتا۔ اگر تو انگلینڈ کوئی وکٹ گری ہوتی تو میں مسکراتا ہوا واپس آتا اور اگر ہمارے باؤلروں کو مار پڑ رہی ہوتی تو واپسی پر میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہوتیں۔ میں جو یوں تین بار آیا گیا تو ماسٹر صاحب کو شک پڑھ گیا کہ یہ بچہ اتنی بے چینی سے کہاں جاتا ہے اور آتا ہے تو کبھی مسکراتا اور کبھی روتی شکل بنائے ہوتا ہے۔ میں جھوٹ نہ بول سکتا اور سچ سچ بتا دیا۔ اب قصہ یوں تھا کہ ماسٹر صاحب بھی مجبوراً مجھے پڑھانے آ گئے تھے ورنہ وہ بھی کرکٹ کے رسیا تھے۔ ان کے دل میں کھد بد ہو رہی تھی، چنانچہ ریڈیو درمیان میں رکھ دیا گیا۔ چونکہ کمنٹری انگریزی میں تھی اس لئے ماسٹر صاحب جوکہ صرف حساب کے ٹیچر تھے، میری منت کرتے کہ بیٹا جلدی سے بتاؤ اس نے کیا کہا ہے، ان انگریزوں نے کوئی رن بنایا ہے یا فضل محمود نے ایک اور گورا آؤٹ کردیا ہے۔‘‘

اوول ٹیسٹ نامور شاعر امجد اسلام امجد کی یادوں میں بھی تازہ ہے:

’’ مجھے اتنا یاد ہے کہ اگست 1954 کی ایک شام مختلف دکانوں پر ریڈیو بلند آواز سے بج رہے تھے اور لوگوں کا ہجوم پاکستان اور سابق آقا برطانیہ کے درمیان ہونے والے اوول ٹیسٹ کی انگریزی میں کی جانے والی کمنٹری کچھ اس انہماک سے سن رہا تھا جیسے وہ اس زبان کی تمام رموز سے اچھی طرح آگاہ ہو، کئی مقامات پر سڑک کنارے بلیک بورڈ بھی رکھے گئے تھے جنہیں اس وقت سکور بورڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا جن پر چاک سے تازہ ترین سکور درج کیا جا رہا تھا کچھ دیر بعد ایک دم جیسے زلزلہ سا آگیا۔ معلوم ہوا کہ پاکستان جیت گیا اور فضل محمود نے بارہ وکٹیں اڑا دی ہیں۔ ‘‘

ان زمانوں میں ریڈیو ہر ایک کے پاس تو ہوتا نہیں تھا، اس لیے گلی محلوں میں میچ کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے تختہ سیاہ سے مدد لی جاتی، جس پر کوئی صاحب تازہ بہ تازہ پیش رفت لکھ دیتے۔ تختہ سیاہ کے ذریعے کمنٹری سے حاصل شدہ معلومات عام آدمی تک پہنچانے کے طریقہ کار کے بارے میں معروف صحافی نصرت جاوید کی ایک تحریر سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے،جس کی اہمیت اس واسطے ہے کہ وہ بچپن میں براہ راست اس عمل کا حصہ رہے۔ :

’’ ان دنوں ٹیلی ویژن اتنا عام نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کی اکثریت پانچ روزہ ٹیسٹ میچوں کو ریڈیو کے ذریعے ’’دیکھا‘‘ کرتی تھی۔ اس زبان کو سمجھنے والے بچوں کو کئی حضرات اپنے ٹرانزسسٹر ریڈیو تھما کر تازہ ترین سکور کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کرتے رہتے۔ ہمارا ایک مشہور تندور والا مگر ابلاغ کے فروغ کا خواہاں تھا۔ اس لئے دکان کے باہر ایک دیوار پر کافی مہنگی لکڑی سے بنا کر ایک تختہ سیاہ لگوا دیا۔ جب پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوئی میچ ہو رہا ہوتا تو وہ بہت سارے رنگین چاک اور صاف ستھرے ڈسٹر لے کر میرے جیسے بچوں کو ریڈیو سے سن کر اس بورڈ پر رواں میچ کی تفصیلات لکھنے پر اکساتا رہتا۔ میرا انگریزی کا فہم محلے کے بچوں سے ذرا زیادہ بہتر تھا اور تختی لکھنے کی روزانہ عادت کی وجہ سے شاید خوش خط بھی تھا۔ ان دو وجوہات کی بنا پر میچوں کے سیزن میں وہ تندور والا میرے بہت لاڈ اٹھاتا ۔ عام دنوں میں بھی بغیر کسی پیسے کے مجھے بہت سارے تلوں سے بھرا خوب سرخ ہوا کلچہ ناشتے کے لئے دے دیتا اور اکثر عصر کے وقت کھانے کو تین چار باقر خانیاں بھی۔ اس کی شفقت اور رشوت کی وجہ سے کالج جانے تک کرکٹ کی کافی شد بد رہی۔ ‘‘

فکشن نگار اقبال دیوان نے اپنی خود نوشت ’’ جسے رات لے اڑی ہوا ‘‘ میں مسیحی ننز کی کمنٹری سے دلچسپی کا احوال رقم کیا ہے۔:

’’ ۔۔۔یہ ننز کبھی کبھار گلی کے کونے پر واقع راحت ہوٹل پر ریڈیو سے نشر ہونے والی کرکٹ کمنٹری سننے کے لیے مردوں سے ذرا دور ہٹ کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔۔۔ان دنوں صرف کرکٹ کے ٹیسٹ میچ ہوا کرتے تھے۔ حمایت بھائی کے ہوٹل کا ریڈیو ایسے موقعوں پر باہرایک ٹیبل رکھ دیا جاتا تھا۔ یہ مرفی کمپنی کا ریڈیو تھا جو بجلی سے چلتا تھا اور ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ اس دوران کبھی بجلی چلی جائے۔۔۔ ریڈیو کے ساتھ ہی ایک بلیک بورڈ پر حمایت کا بھائی ببو، جو پچھلے تین برسوں سے میٹرک میں مسلسل فیل ہو رہا تھا، انگریزی میں نشر ہونے ہونے والی کمنٹری کا اسکور اردو میں لکھتا رہتا تھا اور ساتھ کے ٹھیلے سے پیرو پکوڑے والے کے پکوڑے بلا تکلف اس کی توجہ ادھر ادھر ہونے کی صورت میں منھ میں ڈال لیتا تھا ۔ٹیسٹ میچ میں کبھی ایسا مرحلہ ہوتا کہ پاکستان جیت رہا ہوتا تو وہ ان پاکیزہ بیبیوں کو کیک پیس بھی پیش کرتا تھا۔ یہ ننز جب اس خدمت کا معاوضہ دینے کی کوشش کرتی تھیں تو حمایت بھائی کا ایک ہی جواب ہوتاwe win you my sister

یہ پیاری پیاری ننز اپنے ملک کی ہار، اس کی انگریزی اوراس کی اس مہمان داری پر شرم سے سرخ ہوجاتی تھیں۔‘‘

(جاری ہے)

Facebook Comments HS